ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَوَادَةَ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ»
ترجمہ
سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے دباء (کدو کی تونبی)، حنتم (سبز مٹکے)، مزفت (روغنی برتن) اور نقیر (کھجور کے تنے کا کھودا ہوا برتن) میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا، ثنا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ السُّلَمِيِّ، عَنْ دُلْجَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ: أَتَذْكُرُ يَوْمَ «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَعَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ» ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ الْآخَرُ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ
ترجمہ
دلجہ بن قیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو وہ دن یاد ہے جب ”رسول اللہ ﷺ نے نقیر، مقیر، دباء اور حنتم میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا“؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ دوسرے شخص نے کہا: اور میں بھی اس پر گواہی دیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمَةِ، وَنَهَى أَنْ يَتَطَهَّرَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ»
ترجمہ
بنو غفار کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ نے نقیر، مقیر، دباء اور حنتمہ میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا، اور اس سے بھی منع فرمایا کہ مرد عورت کے استعمال شدہ پانی سے وضو کرے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَوَادَةَ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سُؤْرِ الْمَرْأَةِ»
ترجمہ
سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے عورت کے جھوٹے (استعمال شدہ) پانی سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى الْأَشْنَانِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَوَضَّأَ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ»
ترجمہ
سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ سُؤْرِ الْمَرْأَةِ أَنْ يُتَوَضَّأَ بِهِ»
ترجمہ
نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ نے عورت کے جھوٹے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، حِينَ جَاءَهُ رَسُولُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّكَ أَحَقُّ مَنْ أَعَانَنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ. فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي ابْنَ عَمِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا كَانَ الْأَمْرُ هَكَذَا أَوْ مِثْلَ هَذَا أَنْ أَتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ» فَقَدِ اتَّخَذْتُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ
ترجمہ
(کسی نے سیدنا حکم رضی اللہ عنہ سے) کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم اس معاملے میں ہماری مدد کرنے کے سب سے زیادہ حق دار ہو۔ حکم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اپنے پیارے دوست، تمہارے چچا زاد ﷺ کو یہ فرماتے سنا تھا: ”جب فتنے کا معاملہ ایسا یا اس جیسا ہو جائے تو لکڑی کی تلوار بنا لو“، چنانچہ میں نے اب لکڑی کی تلوار بنا لی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا حُمَيْدٌ وَيُونُسُ وَحَبِيبٌ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ عَلَى جَيْشٍ، فَلَقِيَهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي دَارِ الْإِمَارَةِ بَيْنَ الْبَابَيْنِ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي فِيمَا جِئْتُكَ؟ أَمَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ الَّذِي قَالَ لَهُ أَمِيرُهُ: قُمْ فَقَعْ فِي النَّارِ، فَقَامَ الرَّجُلُ لِيَقَعَ فِيهَا، فَأُدْرِكَ فَأُمْسِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَ النَّارَ، لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ» ؟ قَالَ: بَلَى. قَالَ: فَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُذَكِّرَكَ هَذَا الْحَدِيثَ
ترجمہ
(کوئی شخص سیدنا حکم رضی اللہ عنہ کو) یاد دلاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب یہ بات پہنچی کہ ایک امیر نے اپنے آدمی سے کہا: کھڑے ہو جاؤ اور آگ میں کود جاؤ، تو وہ شخص آگ میں کودنے کے لیے کھڑا ہوا، پھر اسے روک لیا گیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ اس میں کود جاتا تو جہنم میں داخل ہو جاتا، اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں“؟ حکم رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں (یہ صحیح ہے)۔ اس نے کہا: میں نے تو صرف یہ حدیث تمہیں یاد دلانی تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّارُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّهِيدِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَلْمِ بْنِ أَبِي الذَّيَّالِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ وَالْحَكَمَ الْغِفَارِيَّ أَوْ أَحَدَهُمَا - وَيَظُنُّهُ عِمْرَانَ - كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ» . قَالَ: وَكَانَ يَتَمَنَّى أَنْ يَلْقَى الْآخَرَ مِنْ أَجْلِ الْحَدِيثِ، وَإِنَّهُ لَقِيَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ: «لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ» ؟ قَالَ الْآخَرُ: نَعَمْ. قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ. أَوْ كَمَا قَالَ
ترجمہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ میں سے کوئی ایک — اور ان کا خیال ہے کہ وہ عمران رضی اللہ عنہ تھے — یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: وہ اس حدیث کی وجہ سے دوسرے سے ملاقات کے آرزومند رہتے تھے، چنانچہ ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا تھا: ”اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں“؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، یا جیسا کہ انہوں نے فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ رُدَيْحٍ، ثنا حَوْشَبٌ، عَنِ الْحَسَنَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ»
ترجمہ
سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو کتا، گدھا اور عورت (کا سامنے سے گزرنا) توڑ دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ثنا جَمِيلُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، ثنا أَبُو الْمُعَلَّى، قَالَ: قَالَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ: يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ. فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بِمَ تَقُولُ هَذَا، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ» ؟ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ مَا سَمِعْتُمْ، وَلَكِنِّي أُبادِرُ سِتًّا: بَيْعَ الْحُكْمِ، وَكَثْرَةَ الشَّرْطِ، وَإِمَارَةَ الصِّبْيَانِ، وَسَفْكَ الدِّمَاءِ، وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ، وَنَشْئًا يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ
ترجمہ
ابو معلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنی طرف لے لے۔ اس پر قوم میں سے ایک شخص نے ان سے کہا: آپ یہ کیوں کہہ رہے ہیں، جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”خبردار! تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے“؟ انہوں نے کہا: میں نے بھی وہی سنا ہے جو تم نے سنا، لیکن میں چھ چیزوں سے پہلے (موت کو) پانا چاہتا ہوں: حکومت کی خرید و فروخت، سختی و جبر (پولیس) کی کثرت، بچوں کی حکمرانی، خون بہانا، قطع رحمی، اور آخری زمانے میں پیدا ہونے والی ایسی نسل جو قرآن کو گانے بجانے کا آلہ بنا لے گی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ شِبْلٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: رَآنِي الْحَكَمُ - قَالَ النُّعْمَانُ: أُرَاهُ الْغِفَارِيَّ - وَأَنَا آكُلُ وَأَنَا غُلَامٌ مِنْ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ لَا تَأْكُلْ هَكَذَا، هَكَذَا يَأْكُلُ الشَّيْطَانُ، «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَضَعَ يَدَهُ فِي الْقَصْعَةِ أَوْ فِي الْإِنَاءِ لَمْ تُجَاوِزْ أَصَابِعُهُ مَوْضِعَ كَفِّهِ»
ترجمہ
جعفر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے حکم رضی اللہ عنہ نے دیکھا — نعمان کہتے ہیں: میرا خیال ہے وہ غفاری رضی اللہ عنہ تھے — اس حال میں کہ میں ایک لڑکا تھا اور ادھر ادھر سے کھا رہا تھا، تو انہوں نے فرمایا: بیٹے! اس طرح مت کھاؤ، شیطان اسی طرح کھاتا ہے، ”رسول اللہ ﷺ جب اپنا ہاتھ پیالے یا برتن میں رکھتے تو آپ ﷺ کی انگلیاں اپنی ہتھیلی کی جگہ سے آگے نہ بڑھتیں۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ: إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ» . فَقَالَ: قَدْ كَانَ يَقُولُ عِنْدَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَلَكِنْ أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ - يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - وَقَرَأَ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا} " الْآيَةَ
ترجمہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جابر بن زید رحمہ اللہ سے کہا: لوگوں کا خیال ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا۔“ انہوں نے کہا: ہمارے ہاں سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے یہی بیان کیا کرتے تھے، لیکن ”بحر“ یعنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے انکار کیا اور یہ آیت تلاوت کی: ”کہہ دیجیے: میں اس میں جو مجھ پر وحی کیا گیا کوئی حرام چیز نہیں پاتا۔“