المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحكم بن حزن الكلفي باب: سیدنا حکم بن حزن کلفی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَالْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، قَالُوا: ثنا شِهَابُ بْنُ خِرَاشِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلْفِيُّ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُ، قَالَ: وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، فَاسْتُؤْذِنَ لَنَا، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، زُرْنَاكَ لِتَدْعُوَ لَنَا بِخَيْرٍ، فَدَعَا لَنَا بِخَيْرٍ، وَأَمَرَ بِنَا فَأُنْزِلْنَا، وَأَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ، وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ، فَلَبِثْنَا بِهَا أَيَّامًا، شَهِدْنَا بِهَا الْجُمُعَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَنْ تُطِيقُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا كَمَا أُمِرْتُمْ بِهِ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا»سیدنا حکم بن حزن کلفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سات میں کا ساتواں یا نو میں کا نواں فرد بن کر وفد کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، ہمارے لیے اجازت طلب کی گئی تو ہم آپ ﷺ کے پاس اندر گئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کی زیارت کو اس لیے آئے ہیں کہ آپ ہمارے لیے خیر کی دعا فرمائیں، تو آپ ﷺ نے ہمارے لیے خیر کی دعا فرمائی، اور ہمارے بارے میں حکم دیا تو ہمیں ٹھہرایا گیا، اور ہمیں کچھ کھجوریں دینے کا حکم دیا، اور ان دنوں حالات تنگ تھے۔ ہم وہاں کئی دن ٹھہرے رہے، اسی دوران ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز میں حاضری دی، آپ ﷺ کمان یا لاٹھی کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے، اللہ عزوجل کی حمد و ثنا چند ہلکے، پاکیزہ اور بابرکت کلمات کے ساتھ بیان کی، پھر فرمایا: ”لوگو! تم ہرگز اس کی طاقت نہیں رکھو گے اور نہ ہی ٹھیک اسی طرح کر سکو گے جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے، لیکن سیدھی راہ اختیار کرو اور خوشخبری حاصل کرو۔“