حدیث نمبر: 3149
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ثنا جَمِيلُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، ثنا أَبُو الْمُعَلَّى، قَالَ: قَالَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ: يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ. فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بِمَ تَقُولُ هَذَا، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ» ؟ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ مَا سَمِعْتُمْ، وَلَكِنِّي أُبادِرُ سِتًّا: بَيْعَ الْحُكْمِ، وَكَثْرَةَ الشَّرْطِ، وَإِمَارَةَ الصِّبْيَانِ، وَسَفْكَ الدِّمَاءِ، وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ، وَنَشْئًا يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ
ترجمہ

ابو معلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنی طرف لے لے۔ اس پر قوم میں سے ایک شخص نے ان سے کہا: آپ یہ کیوں کہہ رہے ہیں، جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”خبردار! تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے“؟ انہوں نے کہا: میں نے بھی وہی سنا ہے جو تم نے سنا، لیکن میں چھ چیزوں سے پہلے (موت کو) پانا چاہتا ہوں: حکومت کی خرید و فروخت، سختی و جبر (پولیس) کی کثرت، بچوں کی حکمرانی، خون بہانا، قطع رحمی، اور آخری زمانے میں پیدا ہونے والی ایسی نسل جو قرآن کو گانے بجانے کا آلہ بنا لے گی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3149
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 211، حدیث 3162