حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: " مَتَّعَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا امْرَأَةً بِعِشْرِينَ أَلْفًا، فَلَمَّا أُتِيَتْ بِهَا وَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهَا قَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ "
ترجمہ
ابواسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ایک عورت کو بیس ہزار بطور متعہ دیے، تو جب وہ رقم لا کر اس کے سامنے رکھی گئی تو اس نے کہا: ”یہ تو جدا ہونے والے محبوب کی طرف سے تھوڑا سا سامان ہے۔“
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شِيرَانُ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: خَطَبَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى مَنْظُورِ بْنِ سَيَّارِ بْنِ رَيَّانَ الْفَزَارِيِّ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: «وَاللهِ إِنِّي لَأُنْكِحُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ غَلِقٌ طَلِقٌ مَلِقٌ، غَيْرَ أَنَّكَ أَكْرَمُ الْعَرَبِ بَيْتًا، وأَكْرَمُهُ نَسَبًا»
ترجمہ
محمد (بن سیرین) کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے منظور بن سیار بن ریان فزاری سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا، تو اس (منظور) نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں (اپنی بیٹی کا) نکاح تم سے کر دوں گا، حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ تم جلد غصہ کرنے والے، جلد طلاق دینے والے اور خوشامدی ہو، البتہ تم گھرانے کے اعتبار سے سب سے معزز، اور نسب کے اعتبار سے سب سے معزز عرب ہو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: «تَزَوَّجَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ امْرَأَةً، فَأَرْسَلَ لَهَا بِمِائَةِ جَارِيَةٍ، مَعَ كُلِّ جَارِيَةٍ أَلْفُ دِرْهَمٍ»
ترجمہ
ابن سیرین کہتے ہیں: ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے نکاح کیا، تو اس کے پاس سو باندیاں بھیجیں، ہر باندی کے ساتھ ایک ہزار درہم تھے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ الْأَصْبَهَانِيَّانِ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ بْنُ وَسِيمٍ، ثنا أَبُو شَدَّادٍ، قَالَ: " كُنْتُ أُلَاعِبُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ بِالْمَدَاحِي، فَإِذَا مَادَحَانِي رَكِبَانِي، وَإِذَا مَادَحْتُهُمَا قَالَا: تَرْكَبُ بِضْعَةً مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "؟
ترجمہ
ابوشداد کہتے ہیں: میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ مداحی (پھینکنے کا ایک کھیل) کھیلا کرتا تھا، تو جب وہ مجھے ہرا دیتے تو مجھ پر سوار ہو جاتے، اور جب میں انہیں ہرا دیتا تو وہ کہتے: ”کیا تم رسول اللہ ﷺ کے جگر گوشے پر سوار ہو گے؟“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً أَحْمِلُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ؟ فَقَالَ: «قَدْ حَمَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَمَلَهُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا»
ترجمہ
حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں: میں نے عطاء سے پوچھا: کیا میں زمزم کا پانی (اپنے ساتھ) لے جا سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے بھی اسے لے جایا تھا، اور سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما نے بھی لے جایا تھا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ کیا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: «عَقَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ کیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «عُقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ کیا گیا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا «أَنَّ حَسَنًا وَحُسَيْنًا عُقَّ عَنْهُمَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ کیا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيُّ، ثنا عَمِّي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَمَّا حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ ومُحَسِّنٌ فَإِنَّمَا سَمَّاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَقَّ عَنْهُمْ، وَحَلَقَ رُءُوسَهُمْ، وَتَصَدَّقَ بَوَزْنِهَا، وَأَمَرَ بِهِمْ فَسُرُّوا وَخُتِنُوا»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حسن، حسین اور محسن کا نام رسول اللہ ﷺ نے رکھا، اور ان کی طرف سے عقیقہ کیا، اور ان کے سر منڈوائے، اور ان کے بالوں کے برابر وزن صدقہ کیا، اور ان کے بارے میں حکم دیا تو ان کی ناف کاٹی گئی اور ان کا ختنہ کیا گیا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ الرَّازِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَا: ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «عَقَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ کیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «عَقَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا»
ترجمہ
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ کیا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِرَأْسَيِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ يَوْمَ سَابِعِهِمَا فَحُلِقَ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِوَزْنِهِ فِضَّةً، وَلَمْ يَجِدْ ذِبْحًا»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم کے سروں کے بارے میں ان کی پیدائش کے ساتویں دن حکم دیا تو انہیں منڈوایا گیا، پھر اس کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کی، اور (عقیقے کے لیے) کوئی ذبیحہ نہ پایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَسَنًا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا أَعُقُّ عَنِ ابْنِي؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنِ احْلِقِي رَأْسَهُ، وَتَصَدَّقِي بِوَزْنِ شَعْرِهِ وَرِقًا - أَوْ قَالَ: فِضَّةً - عَلَى الْمَسَاكِينِ ". فَلَمَّا وَلَدَتْ حُسَيْنًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَلَتْ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ وَقَالَ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ فِي حَدِيثِهِ: عَلَى الْأَوْفَاضِ وَالْمَسَاكِينِ. وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: «الْأَوْفَاضُ الْفُقَرَاءُ، وَالْأَوْقَاصُ مَا بَيْنَ الْفَرِيضَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے بیٹے کی طرف سے عقیقہ نہ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس کا سر منڈوا دو، اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی (وَرِق) - یا فرمایا: چاندی (فِضّہ) - مسکینوں کو صدقہ کرو۔“ پھر جب انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔ موسیٰ بن داؤد نے اپنی حدیث میں کہا: ”اوفاض اور مساکین پر۔“
امام ابوالقاسم طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اوفاض سے مراد فقراء ہیں، اور اوقاص وہ (مقدار) ہے جو زکوٰۃ کے دو نصابوں کے درمیان ہوتی ہے۔“
امام ابوالقاسم طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اوفاض سے مراد فقراء ہیں، اور اوقاص وہ (مقدار) ہے جو زکوٰۃ کے دو نصابوں کے درمیان ہوتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَرَادَتْ أَنْ تَعُقَّ عَنْهُ بِكَبْشٍ عَظِيمٍ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَا تَعُقِّي عَنْهُ بِشَيْءٍ، وَلَكِنِ احْلِقِي شَعَرَ رَأْسِهِ، ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ عَلَى الْأَوْفَاضِ» . «ثُمَّ وَلَدَتِ الْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَصَنَعَتْ بِهِ كَذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو جنم دیا تو وہ ان کی طرف سے ایک بڑے مینڈھے کا عقیقہ کرنا چاہتی تھیں، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی طرف سے کسی چیز کا عقیقہ نہ کرو، بلکہ اس کے سر کے بال منڈوا دو، پھر ان کے وزن کے برابر چاندی اللہ کی راہ میں، یا فقراء پر صدقہ کر دو۔“ پھر اگلے سال انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بِالصَّلَاةِ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا»
ترجمہ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو آپ ﷺ نے ان کے کان میں نماز کی اذان دی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ وَجُبَارَةُ بْنُ مُغَلِّسٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ حِينَ وُلِدَا، وَأَمَرَ بِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی پیدائش کے وقت ان کے کان میں اذان دی، اور اس کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَقِيَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ: «ارْفَعْ ثَوْبَكَ حَتَّى أُقَبِّلَ حَيْثُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ» . فَرَفَعَ عَنْ بَطْنِهِ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى سُرَّتِهِ
ترجمہ
عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ملے تو فرمایا: ”اپنا کپڑا اٹھاؤ تاکہ میں وہاں بوسہ دوں جہاں میں نے نبی کریم ﷺ کو بوسہ دیتے دیکھا تھا۔“ تو انہوں نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھایا، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ ان کی ناف پر رکھ دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَحْنَسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَضَنَ حَسَنًا، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُهُ فَأَحِبَّهُ»
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو گود میں لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں نے اس سے محبت کی ہے، تو بھی اس سے محبت فرما۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا شُعْبَةُ أَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ»
ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کے کندھے پر تھے، اور آپ فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «اللهُمَّ إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ أَحَبَّهُ»
ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! میں نے اس سے محبت کی ہے، تو بھی اس سے محبت فرما، اور جو اس سے محبت رکھے اس سے بھی محبت فرما۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَلَى عَاتِقِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّ حَسَنًا فَأَحِبَّهُ»
ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، اور فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں حسن سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْكَنَّاتِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ حَسَنًا فَيَضُمُّهُ إِلَيْهِ، فَيَقُولُ: «اللهُمَّ إِنَّ هَذَا ابْنِي فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیتے تھے، اور فرماتے: ”اے اللہ! یہ میرا بیٹا ہے، تو اس سے محبت فرما، اور جو اس سے محبت رکھے اس سے بھی محبت فرما۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدُعِينَا إِلَى طَعَامٍ، فَإِذَا الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَلْعَبُ فِي الطَّرِيقِ، فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ، ثُمَّ بَسَطَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ حُسَيْنٌ يَمُرُّ مَرَّةً هَاهُنَا وَمَرَّةً هَاهُنَا، فَيُضاحِكُهُ حَتَّى أَخَذَهُ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ فِي ذَقْنِهِ، وَالْأُخْرَى بَيْنَ رَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ، ثُمَّ اعْتَنَقَهُ فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، أَحَبَّ اللهُ مَنْ أَحَبَّهُ، الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سِبْطَانِ مِنَ الْأَسْبَاطِ»
ترجمہ
سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ ہمیں ایک کھانے کی دعوت دی گئی، تو دیکھا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ راستے میں کھیل رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ تیزی سے لوگوں سے آگے بڑھے، پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے، تو حسین کبھی اِدھر سے گزرتے اور کبھی اُدھر سے، آپ ﷺ اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے یہاں تک کہ اسے اٹھا لیا، ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی پر رکھا، اور دوسرا اس کے سر اور کانوں کے درمیان، پھر اسے گلے لگایا اور بوسہ دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو اس سے محبت رکھے، حسن اور حسین نواسوں میں سے دو نواسے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ أَنَّ حَسَنًا وَحُسَيْنًا أَقْبَلَا يَمْشِيَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ أَحَدُهُمَا جَعَلَ يَدَهُ فِي عُنُقِهِ، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَجَعَلَ يَدَهُ الْأُخْرَى فِي عُنُقِهِ، فَقَبَّلَ هَذَا، ثُمَّ قَبَّلَ هَذَا، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا، أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ»
ترجمہ
سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما چلتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے، جب ان دونوں میں سے ایک آیا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس کی گردن پر رکھا، پھر دوسرا آیا تو دوسرا ہاتھ اس کی گردن پر رکھا، پھر اسے بوسہ دیا، پھر اسے بوسہ دیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما۔ اے لوگو! اولاد بخل اور بزدلی کا باعث بنتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَارِمٌ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذْ صَعِدَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَضَمَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»
ترجمہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ کے پاس (منبر پر) چڑھ آئے، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں گلے لگا لیا اور فرمایا: ”بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ عزوجل اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرا دے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَوَّاشُ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ خَيْثَمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الْعَامِرِيِّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا إِلَيْهِ، فَإِذَا حُسَيْنٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَلْعَبُ مَعَ صِبْيَانٍ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَسَطَ يَدَهُ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَفِرُّ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، فَيُضاحِكُهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَهُ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ فِي عُنُقِهِ، وَالْأُخْرَى فِي فَأْسِ رَأْسِهِ، ثُمَّ اعْتَنَقَهُ فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ: «حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ»
ترجمہ
سیدنا یعلیٰ بن مرہ عامری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک کھانے کی طرف نکلے جس کی انہیں دعوت دی گئی تھی، تو دیکھا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آ گئے، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلایا، تو وہ بچہ کبھی اِدھر بھاگتا کبھی اُدھر، رسول اللہ ﷺ اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے یہاں تک کہ اسے اٹھا لیا، ایک ہاتھ اس کی گردن پر رکھا، اور دوسرا اس کے سر کے پچھلے حصے پر، پھر اسے گلے لگایا اور بوسہ دیا، پھر فرمایا: ”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے، حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ أَبِي مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى جَنْبِهِ، وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةً، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ نَظْرَةً، وَيَقُولُ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»
ترجمہ
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا، اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پہلو میں تھے، وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف ایک نظر دیکھتے، اور رسول اللہ ﷺ ان کی طرف ایک نظر دیکھتے، اور فرماتے: ”بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرا دے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ وَأَبُو خَلِيفَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَكَانَ الْحَسَنُ يَجِيءُ وَهُوَ صَبِيُّ صَغِيرٌ، فَكَانَ كُلَّمَا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَ عَلَى رَقَبَتِهِ وَظَهْرِهِ، فَيَرْفَعُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ رَفَعًا رَفِيقًا حَتَّى يَضَعَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ لَتَصْنَعُ بِهَذَا الْغُلَامِ شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ تَصْنَعُهُ. «إِنَّهُ رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا، إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَعَسَى أَنْ يُصْلِحَ اللهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»
ترجمہ
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آ جاتے، اور وہ ایک چھوٹے بچے تھے، تو جب بھی نبی کریم ﷺ سجدہ کرتے تو وہ آپ ﷺ کی گردن اور پیٹھ پر چڑھ جاتے، تو نبی کریم ﷺ اپنا سر نرمی سے اٹھاتے یہاں تک کہ اسے (زمین پر) رکھ دیتے، تو صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ، آپ اس بچے کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دنیا میں میرا پھول ہے، بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرا دے گا۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ الْجُدِّيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ وَمَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَإِنَّ اللهَ سَيُصْلِحُ عَلَى يَدَيْهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور آپ کے ساتھ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ تھے، اور آپ فرما رہے تھے: ”بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور اللہ عنقریب اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «إِنَّ» ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُصْلِحَ اللهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ أُمَّتِي "
ترجمہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور مجھے امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَمَعَهُ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ، فَلَمَّا سَجَدَ أَتَى الْحَسَنُ فَوَثَبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ حَرَّفَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْقُطَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذَ بِيَدِهِ، فَأَجْلَسَهُ فِي حِجْرِهِ فَقَبَّلَهُ، فَقَالَ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَإِنَّهُ رَيْحَانَتِي فِي الدُّنْيَا، وَأَرْجُو أَنْ يُصْلِحَ اللهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھی جبکہ آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما تھے، جب آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو سیدنا حسن آ کر آپ کی پیٹھ پر چڑھ گئے، تو جب آپ اپنا سر اٹھاتے تو اسے (احتیاط سے) ایک طرف موڑ لیتے، اس خدشے سے کہ کہیں وہ گر نہ جائیں، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ان کا ہاتھ پکڑا، اور انہیں اپنی گود میں بٹھا کر بوسہ دیا، اور فرمایا: ”بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور یہ دنیا میں میرا پھول ہے، اور مجھے امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّارُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهماُ: «إِنَّ» ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يُصْلِحَ اللهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ أُمَّتِي "
ترجمہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور مجھے پوری امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ وَمَضَى وَأَبُو هُرَيْرَةَ لَا يَعْلَمُ، فَقِيلَ لَهُ هَذَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُسَلِّمُ، فَلَحِقَهُ فَقَالَ: وَعَلَيْكَ يَا سَيِّدِي. فَقِيلَ لَهُ: تَقُولُ يَا سَيِّدِي؟ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّهُ سَيِّدٌ»
ترجمہ
سعید مقبری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے اور انہیں سلام کیا، تو لوگوں نے سلام کا جواب دیا اور وہ آگے چلے گئے، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو معلوم نہ ہو سکا۔ تو ان سے کہا گیا: یہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ ہیں جو سلام کر رہے ہیں، تو وہ ان کے پیچھے گئے اور کہا: وعلیکم السلام، اے میرے سردار! ان سے کہا گیا: کیا آپ انہیں ”اے میرے سردار“ کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ سردار ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ ابْنِي - يَعْنِي الْحَسَنَ - سَيِّدٌ، ولَيُصْلِحَنَّ اللهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میرا بیٹا - یعنی حسن - سردار ہے، اور اللہ ضرور اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ السِّيرَافِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا أَبُو سُمَيْرٍ حَكِيمُ بْنُ خِذَامٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شُرَيْحٍ الْقَاضِي، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا مَسْرُوحٌ أَبُو شِهَابٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
حارث رحمہ اللہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّلَّالُ الْكُوفِيُّ، ثنا مُخَوَّلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
…