حدیث نمبر: 2550
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شِيرَانُ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: خَطَبَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى مَنْظُورِ بْنِ سَيَّارِ بْنِ رَيَّانَ الْفَزَارِيِّ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: «وَاللهِ إِنِّي لَأُنْكِحُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ غَلِقٌ طَلِقٌ مَلِقٌ، غَيْرَ أَنَّكَ أَكْرَمُ الْعَرَبِ بَيْتًا، وأَكْرَمُهُ نَسَبًا»
ترجمہ

محمد (بن سیرین) کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے منظور بن سیار بن ریان فزاری سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا، تو فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تم سے نکاح کر رہا ہوں، حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ تم جلد غصہ کرنے والے، جلد طلاق دینے والے اور خوشامدی ہو، البتہ تم گھرانے کے اعتبار سے سب سے معزز، اور نسب کے اعتبار سے سب سے معزز عرب ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2550
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 27، حدیث 2563