حدیث نمبر: 2581
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَمَعَهُ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ، فَلَمَّا سَجَدَ أَتَى الْحَسَنُ فَوَثَبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ حَرَّفَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْقُطَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذَ بِيَدِهِ، فَأَجْلَسَهُ فِي حِجْرِهِ فَقَبَّلَهُ، فَقَالَ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَإِنَّهُ رَيْحَانَتِي فِي الدُّنْيَا، وَأَرْجُو أَنْ يُصْلِحَ اللهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ»
ترجمہ

… جب آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو سیدنا حسن آ کر آپ کی پیٹھ پر چڑھ گئے، تو جب آپ اپنا سر اٹھاتے تو اسے (احتیاط سے) ایک طرف موڑ لیتے، اس خدشے سے کہ کہیں وہ گر نہ جائیں، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ان کا ہاتھ پکڑا، اور انہیں اپنی گود میں بٹھا کر بوسہ دیا، اور فرمایا: ”بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور یہ دنیا میں میرا پھول ہے، اور مجھے امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2581
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 34، حدیث 2594