❮
❯
حدیث نمبر: 2563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَسَنًا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا أَعُقُّ عَنِ ابْنِي؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنِ احْلِقِي رَأْسَهُ، وَتَصَدَّقِي بِوَزْنِ شَعْرِهِ وَرِقًا - أَوْ قَالَ: فِضَّةً - عَلَى الْمَسَاكِينِ ". فَلَمَّا وَلَدَتْ حُسَيْنًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَلَتْ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ وَقَالَ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ فِي حَدِيثِهِ: عَلَى الْأَوْفَاضِ وَالْمَسَاكِينِ. وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: «الْأَوْفَاضُ الْفُقَرَاءُ، وَالْأَوْقَاصُ مَا بَيْنَ الْفَرِيضَتَيْنِ»
ترجمہ

سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے بیٹے کی طرف سے عقیقہ نہ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس کا سر منڈوا دو، اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی (وَرِق) - یا فرمایا: چاندی (فِضّہ) - مسکینوں کو صدقہ کرو۔“ پھر جب انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔ موسیٰ بن داؤد نے اپنی حدیث میں کہا: ”اوفاض اور مساکین پر۔“
امام ابوالقاسم طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اوفاض سے مراد فقراء ہیں، اور اوقاص وہ (مقدار) ہے جو زکوٰۃ کے دو نصابوں کے درمیان ہوتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2563
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 30، حدیث 2576