کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ناصح ابوعبداللہ کی سماک سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ثنا نَاصِحٌ أَبُو عَبْدِ اللهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ شَابٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخِفُّ فِي حَوَائِجِهِ، فَقَالَ: «سَلْنِي حَاجَةً» ، فَقَالَ: ادْعُ اللهَ تَعَالَى لِي بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَتَنَفَّسَ وَقَالَ: «نَعَمْ وَلَكِنْ أَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک نوجوان نبی کریم ﷺ کی خدمت کرتا اور آپ ﷺ کے کاموں میں پھرتی دکھاتا تھا، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”مجھ سے کوئی حاجت مانگو۔“ اس نے کہا: میرے لیے اللہ تعالیٰ سے جنت کی دعا فرما دیجیے۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا، سانس لی اور فرمایا: ”ٹھیک ہے، لیکن کثرت سے سجدے کرکے میری مدد کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2016
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 245، حدیث 2029
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا نَاصِحٌ أَبُو عَبْدِ اللهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دَفَنَ ثَلَاثَةً مِنَ الْوَلَدِ فَصَبَرَ عَلَيْهِمْ واحْتَسَبَهُمْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» ، فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ: أَوِ اثْنَيْنِ، قَالَ: «وَمَنْ دَفَنَ اثْنَيْنِ فَصَبَرَ عَلَيْهِمَا واحْتَسَبَهُما وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» ، فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ: أَوْ وَاحِدَةٌ؟ قَالَ: فَسَكَتَ أَوْ أَمْسَكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ أَيْمَنَ: «مَنْ دَفَنَ وَاحِدًا فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ كَانَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنی تین اولادیں دفن کیں اور ان پر صبر کیا اور ثواب کی نیت رکھی، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا دو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دو دفن کیں اور ان پر صبر کیا اور ثواب کی نیت رکھی، اس کے لیے بھی جنت واجب ہو گئی۔“ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا ایک؟ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ خاموش رہے یا رک گئے۔
(راوی نے) کہا: میں نے ام ایمن رضی اللہ عنہا سے سنا: ”جس نے ایک دفن کی اور صبر کیا اور ثواب کی نیت رکھی، اس کے لیے بھی جنت ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2017
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 245، حدیث 2030
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا نَاصِحٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَدِّ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ كُلِّهَا غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْرَ مَا أدْخُلُ أَنَا وَحْدِي وَأَخْرَجُ قَالَ: «مَا أُمِرْتُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ» فَسَدَّهَا كُلَّهَا غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ وَرُبَّمَا مَرَّ وَهُوَ جُنُبٌ
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے سوا مسجد کے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اتنی جگہ رہنے دیجیے کہ میں اکیلا داخل ہوں اور نکلوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس بارے میں کوئی حکم نہیں دیا گیا۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے سوا تمام دروازے بند کر دیے، اور وہ بسا اوقات حالتِ جنابت میں بھی مسجد سے گزر جاتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2018
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 246، حدیث 2031
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ثنا نَاصِحٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يُؤَدِّبَ أَحَدُكُمْ وَلَدَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ كُلَّ يَوْمٍ بِنِصْفِ صَاعٍ عَلَى مَسَاكِينَ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا اپنی اولاد کو ادب سکھانا اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ روزانہ آدھا صاع مسکینوں پر صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2019
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 246، حدیث 2032
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صُبَيْحٍ الْأَسَدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، ثنا نَاصِحٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: لَمَّا سَأَلَ أَهْلُ قُبَاءٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْنِيَ لَهُمْ مَسْجِدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَقُومَ بَعْضُكُمْ فَيَرْكَبَ النَّاقَةَ» ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَكِبَهَا فَحَرَّكَها فَلَمْ تَنْبَعِثْ، فَرَجَعَ فَقَعَدَ فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَكِبَهَا فَحَرَّكَها فَلَمْ تَنْبَعِثْ فَرَجَعَ فَقَعَدَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «لِيَقُومَ بَعْضُكُمْ فَيَرْكَبَ النَّاقَةَ» فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي غَرَزِ الرِّكَابِ، وَثَبَّتَ بِهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ إِرْخِ زِمَامَهَا وَابْنُوا عَلَى مَدَارِها فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب اہلِ قباء نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ ان کے لیے ایک مسجد بنا دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی کھڑا ہو کر اونٹنی پر سوار ہو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اونٹنی پر سوار ہوئے اور اسے حرکت دی مگر وہ نہ چلی، تو وہ واپس آ کر بیٹھ گئے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اونٹنی پر سوار ہوئے اور اسے حرکت دی مگر وہ پھر بھی نہ چلی، تو وہ بھی واپس آ کر بیٹھ گئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”تم میں سے کوئی کھڑا ہو کر اونٹنی پر سوار ہو۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا اور اسے مضبوطی سے پکڑا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! اس کی مہار ڈھیلی چھوڑ دو، اور جہاں یہ گھومے وہیں (مسجد) بنا لو، کیونکہ یہ حکم کے تحت (چل رہی) ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2020
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 246، حدیث 2033
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ثنا نَاصِحٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: «آمِينَ آمِينَ آمِينَ» ، فَقَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَنْ أَدْرَكَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ منبر پر چڑھے تو فرمایا: ”آمین، آمین، آمین۔“ اور فرمایا: ”میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو پایا…“، اور راوی نے مکمل حدیث بیان کی (جیسا کہ اوپر گزر چکا)۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2021
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 246، حدیث 2034
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ثنا نَاصِحٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم میرے ساتھ وہی مقام رکھتے ہو جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حاصل تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2022
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 247، حدیث 2035
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ثنا نَاصِحٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ يَحْمِلُ رَايَتَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «مَنْ يُحْسِنُ أَنْ يَحْمِلَهَا إِلَّا مَنْ حَمَلَهَا فِي الدُّنْيَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قیامت کے دن آپ کا جھنڈا کون اٹھائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہی اسے اچھی طرح اٹھا سکتا ہے جس نے دنیا میں اسے اٹھایا ہو، یعنی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2023
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 247، حدیث 2036
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ثنا نَاصِحٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «مَنْ أَشْقَى ثَمُودَ» ؟ قَالَ: مَنْ عَقَرَ النَّاقَةَ، قَالَ: «فَمَنْ أَشَقَى هَذِهِ الْأُمَّةَ؟» قَالَ: اللهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «قَاتِلُكَ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”قوم ثمود میں سب سے زیادہ بدبخت کون تھا؟“ انہوں نے کہا: جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس امت میں سب سے زیادہ بدبخت کون ہوگا؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا قاتل۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2024
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 247، حدیث 2037
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْأَخْرَمِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا نَاصِحٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «إِنَّكَ امْرُؤٌ مُسْتَخْلَفٌ وَإِنَّكَ مَقْتُولٌ وَهَذِهِ مَخْضُوبَةٌ مِنْ هَذِهِ» لِحْيَتُهُ مِنْ رَأْسِهِ
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم خلیفہ بنائے جانے والے ہو، اور تم شہید کیے جانے والے ہو، اور یہ اس سے رنگی جائے گی“ (یعنی ان کی داڑھی ان کے سر کے خون سے رنگین ہوگی)۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2025
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 247، حدیث 2038
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا نَاصِحٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ عید الفطر کے دن سات کھجوریں کھائے بغیر نماز کے لیے نہیں نکلتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2026
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 247، حدیث 2039