حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيك، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللهُ، وَمِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُبْغِضُ اللهُ، فَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّهَا اللهُ فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُهَا اللهُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ، وَإِنَّ مِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللهُ، فَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ نَفْسَهُ عِنْدَ الصَّدَقَةِ وَالْقِتَالِ، وَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللهُ فَاخْتِيَالُهُ فِي الْبَغْيِ وَالْفُجُورِ»
ترجمہ
ابن جابر بن عتیک اپنے دادا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”غیرت میں سے ایسی بھی ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ایسی بھی ہے جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، تو وہ غیرت جسے اللہ پسند فرماتا ہے وہ شک و شبہ کے موقع پر کی جانے والی غیرت ہے، اور وہ غیرت جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے وہ بلا وجہ کی غیرت ہے، اور اسی طرح تکبر میں سے بھی ایسا ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ایسا بھی ہے جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، تو وہ تکبر جسے اللہ پسند فرماتا ہے وہ آدمی کا صدقہ دیتے اور لڑتے وقت اپنے آپ پر فخر کرنا ہے، اور وہ تکبر جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے وہ ظلم اور نافرمانی میں تکبر کرنا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَتِيكٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللهُ، وَمِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللهُ، فَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللهُ الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللهُ الْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ، وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللهُ اخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ لِلَّهِ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللهُ الْخُيَلَاءُ فِي الْبَغْيِ أَوْ فِي الْفُجُورِ»
ترجمہ
ابن عتیک اپنے والد سے، جو نبی کریم ﷺ کے صحابی تھے، روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غیرت میں سے ایسی بھی ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ایسی بھی جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، اور تکبر میں سے ایسا بھی ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ایسا بھی جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، تو وہ غیرت جسے اللہ پسند فرماتا ہے شک و شبہ کے موقع پر کی جانے والی غیرت ہے، اور وہ غیرت جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے وہ بلا وجہ کی غیرت ہے، اور وہ تکبر جسے اللہ پسند فرماتا ہے وہ آدمی کا لڑائی کے وقت اللہ کے لیے اپنی جان پر فخر کرنا ہے، اور وہ تکبر جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے وہ ظلم یا نافرمانی میں تکبر کرنا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللهُ، وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللهُ، فَأَمَّا مَا يُحِبُّ اللهُ مِنَ الْغَيْرَةِ فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللهُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ، وَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ فِي الْبَغْيِ وَالْفُجُورِ»
ترجمہ
ابن عتیک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غیرت میں سے ایسی بھی ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ایسی بھی جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، تو جسے اللہ پسند فرماتا ہے وہ شک و شبہ کے موقع پر کی جانے والی غیرت ہے، اور جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے وہ بلا وجہ کی غیرت ہے، اور تکبر میں سے جسے اللہ پسند فرماتا ہے وہ لڑائی کے وقت آدمی کا اپنی جان پر فخر کرنا ہے، اور جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے وہ ظلم اور نافرمانی میں فخر کرنا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ،
ترجمہ
ابن جابر بن عتیک اپنے والد سے، نبی کریم ﷺ سے، اسی طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا حَجَّاجُ الصَّوَّافُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ،
ترجمہ
ابن جابر بن عتیک انصاری اپنے والد سے، نبی کریم ﷺ سے، اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
ابن جابر بن عتیک اپنے والد سے، نبی کریم ﷺ سے، اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللهِ» ، ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ ثُمَّ قَالَ: «وَأَيْنَ الْمُجَاهِدُونَ؟، فَخَرَّ عَنْ دَابَّتِهِ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ أَوْ مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ، ومَنْ قُتِلَ قَعْصًا فَقَدِ اسْتَوْجَبَ الْمَآبَ»
ترجمہ
ابن عتیک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو اللہ کی راہ میں مجاہد بن کر نکلا“ - پھر آپ ﷺ نے اپنی تین انگلیاں ملا کر فرمایا - ”اور مجاہدین کہاں ہیں؟ تو اگر وہ اپنی سواری سے گر کر مر جائے تو اس کا اجر اللہ پر واجب ہوگیا، یا وہ فطری موت مر جائے تو بھی اس کا اجر اللہ پر واجب ہوگیا، اور جو لڑائی میں فوری طور پر مارا جائے تو وہ اپنے اچھے ٹھکانے کا مستحق ہوگیا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَبُو أُمِّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللهِ بْنَ ثَابِتٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ فَصَاحَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ» فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَتْ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ» ، قَالُوا: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «إِذَا مَاتَ» قَالَتِ ابْنَتُهُ: وَاللهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا، فَإِنَّكَ قَدْ كُنْتَ قَضَيْتَ جِهَازَكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟» قَالُوا: الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَ: «الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ، الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمَعٍ شَهِيدٌ»
ترجمہ
ابن عتیک بیان کرتے ہیں: ...تو انہوں نے دیکھا کہ وہ مرض کی شدت سے مغلوب ہو چکے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں پکارا، مگر انہوں نے جواب نہ دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے انا للہ پڑھا اور فرمایا: ”اے ابوربیع، ہم تجھ سے مغلوب ہوگئے“، تو عورتیں چیخنے اور رونے لگیں، تو ابن عتیک انہیں خاموش کرانے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، لیکن جب موت واقع ہوجائے تو کوئی رونے والی نہ روئے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ، وقوع کیا ہے؟ فرمایا: ”جب وہ مر جائے“۔ ان کی بیٹی نے کہا: اللہ کی قسم، میں تو امید رکھتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے، آپ تو اپنے سامان سے فارغ ہو چکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اس کا اجر اس کی نیت پر رکھ دیا ہے، اور تم شہادت کسے سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کی راہ میں قتل ہونا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاوہ شہادت سات قسم کی ہے: طاعون سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، ذات الجنب سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، آگ میں جلنے والا شہید ہے، ملبے تلے دب کر مرنے والا شہید ہے، اور وہ عورت جو زچگی کی حالت میں مرے وہ شہید ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالُوا: ثنا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ جَبْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَهُ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ قَائِلٌ: إِنْ كُنَّ لَنَرْجُو أَنْ يَكُونَ وَفَاتُهُ قَتْلًا فِي سَبِيلِ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللهِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ، وَالْحَرِقُ شَهِيدٌ، وَالْمَجْنُوبُ شَهِيدٌ»
ترجمہ
(راوی) اپنے دادا جبر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی بیماری میں ان کی عیادت فرمائی، تو کسی کہنے والے نے کہا: ہم تو امید رکھتے تھے کہ ان کی وفات اللہ کی راہ میں قتل ہوکر ہوگی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ایسا ہو تو میری امت کے شہداء بہت کم ہوں گے، اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، آگ میں جلنے والا شہید ہے، اور ذات الجنب سے مرنے والا شہید ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ، قَالَ: «سَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي مَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ ثَلَاثًا فَأُعْطِيَ اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَهُ وَاحِدَةً، سَأَلَهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتَهُ جُوعًا وَلَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَأُعْطِيَهَا، وَسَأَلَهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمُنِعَهَا»
ترجمہ
سیدنا جبر بن عتیک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے بنو معاویہ کی مسجد میں تین چیزیں مانگیں، تو دو دی گئیں اور ایک سے منع کر دیا گیا: آپ ﷺ نے مانگا کہ اللہ آپ ﷺ کی امت کو بھوک سے ہلاک نہ کرے اور نہ ان پر کسی دشمن کو غالب کرے، تو یہ دونوں دی گئیں، اور آپ ﷺ نے مانگا کہ اللہ ان کی لڑائی آپس میں نہ رکھے، تو یہ نہ دی گئی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانُ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنْ شَيْءٌ يَسِيرٌ؟ قَالَ: «وَإِنْ كَانَ سِوَاكًا»
ترجمہ
ابوسفیان بن جابر بن عتیک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو شخص اپنی جھوٹی قسم سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرے، اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے اور اسے جہنم واجب کر دیتا ہے“، کہا گیا: یا رسول اللہ، اگرچہ وہ کوئی معمولی چیز ہو؟ فرمایا: ”اگرچہ وہ ایک مسواک ہی کیوں نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنِي خَالِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنْ شَيْءٌ يَسِيرٌ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبُ أَرَاكٍ»
ترجمہ
جابر بن عتیک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنی جھوٹی قسم سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرے، اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ، اگرچہ وہ کوئی معمولی چیز ہو؟ فرمایا: ”اگرچہ وہ پیلو کی ایک چھڑی ہی کیوں نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقٍ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَانْتَهَى حَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ إِلَى حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
ترجمہ
جابر بن عتیک اپنے والد سے، نبی کریم ﷺ سے، اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں، اور ابن وہب کی روایت ”اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے“ تک ہی ختم ہوتی ہے۔