المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وما أسند جابر بن عتيك باب: سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَبُو أُمِّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللهِ بْنَ ثَابِتٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ فَصَاحَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ» فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَتْ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ» ، قَالُوا: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «إِذَا مَاتَ» قَالَتِ ابْنَتُهُ: وَاللهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا، فَإِنَّكَ قَدْ كُنْتَ قَضَيْتَ جِهَازَكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟» قَالُوا: الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَ: «الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ، الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمَعٍ شَهِيدٌ»ابن عتیک بیان کرتے ہیں: ...تو انہوں نے دیکھا کہ وہ مرض کی شدت سے مغلوب ہو چکے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں پکارا، مگر انہوں نے جواب نہ دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے انا للہ پڑھا اور فرمایا: ”اے ابوربیع، ہم تجھ سے مغلوب ہوگئے“، تو عورتیں چیخنے اور رونے لگیں، تو ابن عتیک انہیں خاموش کرانے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، لیکن جب موت واقع ہوجائے تو کوئی رونے والی نہ روئے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ، وقوع کیا ہے؟ فرمایا: ”جب وہ مر جائے“۔ ان کی بیٹی نے کہا: اللہ کی قسم، میں تو امید رکھتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے، آپ تو اپنے سامان سے فارغ ہو چکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اس کا اجر اس کی نیت پر رکھ دیا ہے، اور تم شہادت کسے سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کی راہ میں قتل ہونا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاوہ شہادت سات قسم کی ہے: طاعون سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، ذات الجنب سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، آگ میں جلنے والا شہید ہے، ملبے تلے دب کر مرنے والا شہید ہے، اور وہ عورت جو زچگی کی حالت میں مرے وہ شہید ہے۔“