حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ سَنَةَ إِحْدَى وَخَمْسِينَ وَسَنَةَ بِضْعٍ وَسَبْعِينَ، وَدُفِنَ بِالْمَدِينَةِ، وَمَاتَ بِالْعَقِيقِ، وَنَزَلَ فِي قَبْرِهِ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَابْنُ عُمَرَ وَيُكَنَّى أَبَا الْأَعْوَرِ»
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر کہتے ہیں: سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال سنہ 51 ہجری میں ہوا، اس وقت ان کی عمر ستر کے پیٹے میں تھی، اور انہیں مدینہ میں دفن کیا گیا۔ ان کا انتقال العقیق میں ہوا، اور ان کی قبر میں سعد بن ابی وقاص اور ابن عمر رضی اللہ عنہم اترے۔ ان کی کنیت ابوالاعور تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، أَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ «أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ غَسَّلَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ بِالسَّجَرَةِ»
ترجمہ
زید بن عبدالرحمٰن بن سعید بن زید سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو سدر (بیری) کے پانی سے غسل دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَرْوَى بِنْتَ أُوَيْسٍ اسْتَعَدْتَ مَرْوَانَ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَتْ: سَرَقَ مِنِّي أَرْضِي، فَأَدْخَلَهَا فِي أَرْضِهِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: مَا كُنْتُ لِأَسْرِقَ مِنْهَا بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَرَقَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَ إِلَى سَبْعِ الْأَرْضِينَ» فَقَالَ: لَا أَسْأَلُكُ بَعْدَ هَذَا. فَقَالَ سَعِيدٌ: اللهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَذْهِبْ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا، فَذَهَبَ بَصَرُهَا وَوَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فِي أَرْضِهَا فَمَاتَتْ
ترجمہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اروٰی بنت اویس نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف مروان سے دادرسی چاہی اور کہا: اس نے میری زمین چرا کر اپنی زمین میں شامل کر لی ہے۔ تو سعید نے کہا: میں بھلا اس کی زمین میں سے کچھ کیسے چرا سکتا تھا، جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے زمین کا ایک بالشت بھی چرایا، اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنایا جائے گا۔“ مروان نے کہا: اس کے بعد میں اس بارے میں تم سے کچھ نہیں پوچھوں گا۔ تو سعید نے کہا: اے اللہ! اگر یہ عورت جھوٹی ہے تو اس کی بینائی چھین لے اور اسے اسی کی زمین میں مار دے۔ چنانچہ اس کی بینائی جاتی رہی اور وہ اپنی زمین کے ایک گڑھے میں گر کر مر گئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، يَقُولُ: «مَاتَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ سَنَةَ إِحْدَى وَخَمْسِينَ بِالْمَدِينَةِ»
ترجمہ
محمد بن عبداللہ بن نمیر کہتے ہیں: سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا انتقال سنہ 51 ہجری میں مدینہ میں ہوا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، قَالَتْ: غَسَّلَ سَعْدٌ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ بِالْعَقِيقِ، ثُمَّ حَمَلُوهُ، فَجَاءُوا بِهِ، فَجَاءَ سَعْدٌ يَمْشِي حَتَّى إِذَا حَاذَى بِدَارِهِ دَخَلَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: «إِنِّي لَمْ أَغْتَسِلْ مِنْ غُسْلِ سَعِيدٍ إِنَّمَا اغْتَسَلْتُ مِنَ الْحَرِّ»
ترجمہ
عائشہ بنت سعد رحمہا اللہ کہتی ہیں: سعد نے سعید بن زید رضی اللہ عنہما کو العقیق میں غسل دیا، پھر انہوں نے انہیں اٹھایا اور لے آئے۔ سعد پیدل چلتے آئے، جب وہ اپنے گھر کے سامنے پہنچے تو اندر گئے اور غسل کیا، پھر باہر نکل کر فرمایا: ”میں نے سعید کو غسل دینے کی وجہ سے غسل نہیں کیا، میں نے تو گرمی کی وجہ سے غسل کیا ہے۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، قَالَ: " بَعَثَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِالْمَدِينَةِ لِيُبَايِعَ لِابْنِهِ يَزِيدَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ: مَا يَحْبِسُكَ؟ قَالَ: حَتَّى يَجِيءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَيُبَايِعَ، فَإِنَّهُ أَنْبَلُ أَهْلِ الْبَلَدِ، فَإِذَا بَايَعَ النَّاسَ بَايَعَ النَّاسُ "
ترجمہ
محارب بن دثار، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں مروان بن حکم کی طرف پیغام بھیجا کہ ان (معاویہ) کے بیٹے یزید کے لیے بیعت لی جائے۔ تو اہل شام میں سے ایک آدمی نے کہا: تمہیں کیا چیز روک رہی ہے؟ اس نے کہا: یہاں تک کہ سعید بن زید آئیں اور بیعت کریں، کیونکہ وہ شہر کے سب سے معزز آدمی ہیں، جب وہ بیعت کریں گے تو لوگ بھی بیعت کر لیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ يَكُونُ فِيهَا وَيَكُونُ» فَقُلْنَا: إِنْ أَدْرَكْنَا ذَلِكَ هَلَكْنَا؟ قَالَ: «بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ»
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد فتنے ہوں گے، ان میں یہ ہو گا اور وہ ہو گا۔“ ہم نے عرض کیا: اگر ہم وہ زمانہ پائیں تو کیا ہلاک ہو جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے صحابہ کے لیے قتل ہونا ہی کافی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ فُلَانِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا فِرْدَوْسٌ الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِ ابْنِ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفِتَنَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، كُلُّ مَفْتُونٍ فِيهَا هَالِكٌ؟ قَالَ: «حَسْبُكُمُ الْقَتْلُ»
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کا ذکر کیا، تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ان میں مبتلا ہونے والا ہر شخص ہلاک ہو جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے قتل ہونا ہی کافی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: ذَكَرَ فِتْنَةً - يَعْنِي - النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، فَقَالَ: «يَذْهَبُ النَّاسُ فِيهَا أَسْرَعَ ذَهَابٍ» . فَقِيلَ: كُلُّهُمْ هَالِكٌ؟ قَالَ: «حَسْبُهُمُ الْقَتْلُ»
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ایک فتنے کا ذکر کیا جو اندھیری رات کے حصوں کی مانند ہو گا، اور فرمایا: ”لوگ اس میں بہت تیزی سے ختم ہو جائیں گے۔“ پوچھا گیا: کیا وہ سب ہلاک ہو جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے قتل ہونا ہی کافی ہے۔“