حدیث نمبر: 339
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَرْوَى بِنْتَ أُوَيْسٍ اسْتَعَدْتَ مَرْوَانَ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَتْ: سَرَقَ مِنِّي أَرْضِي، فَأَدْخَلَهَا فِي أَرْضِهِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: مَا كُنْتُ لِأَسْرِقَ مِنْهَا بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَرَقَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَ إِلَى سَبْعِ الْأَرْضِينَ» فَقَالَ: لَا أَسْأَلُكُ بَعْدَ هَذَا. فَقَالَ سَعِيدٌ: اللهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَذْهِبْ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا، فَذَهَبَ بَصَرُهَا وَوَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فِي أَرْضِهَا فَمَاتَتْ
ترجمہ

…ایک عورت نے شکایت کی کہ سعید نے اس کی زمین چرا کر اپنی زمین میں شامل کر لی۔ تو سعید نے کہا: میں اس زمین میں سے کچھ نہیں چراؤں گا، اس کے بعد کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے زمین کا ایک بالشت بھی چرایا، اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنایا جائے گا۔“ اس شخص نے کہا: میں اس کے بعد تم سے اس بارے میں کچھ نہیں پوچھوں گا۔ تو سعید نے کہا: اے اللہ! اگر یہ عورت جھوٹی ہے تو اس کی بینائی چھین لے اور اسے اسی کی زمین میں مار دے۔ چنانچہ اس کی بینائی جاتی رہی اور وہ اپنی زمین کے ایک گڑھے میں گر کر مر گئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 339
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 149، حدیث 342