المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن سعيد بن زيد، ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَرْوَى بِنْتَ أُوَيْسٍ اسْتَعَدْتَ مَرْوَانَ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَتْ: سَرَقَ مِنِّي أَرْضِي، فَأَدْخَلَهَا فِي أَرْضِهِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: مَا كُنْتُ لِأَسْرِقَ مِنْهَا بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَرَقَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَ إِلَى سَبْعِ الْأَرْضِينَ» فَقَالَ: لَا أَسْأَلُكُ بَعْدَ هَذَا. فَقَالَ سَعِيدٌ: اللهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَذْهِبْ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا، فَذَهَبَ بَصَرُهَا وَوَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فِي أَرْضِهَا فَمَاتَتْہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اروٰی بنت اویس نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف مروان سے دادرسی چاہی اور کہا: اس نے میری زمین چرا کر اپنی زمین میں شامل کر لی ہے۔ تو سعید نے کہا: میں بھلا اس کی زمین میں سے کچھ کیسے چرا سکتا تھا، جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے زمین کا ایک بالشت بھی چرایا، اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنایا جائے گا۔“ مروان نے کہا: اس کے بعد میں اس بارے میں تم سے کچھ نہیں پوچھوں گا۔ تو سعید نے کہا: اے اللہ! اگر یہ عورت جھوٹی ہے تو اس کی بینائی چھین لے اور اسے اسی کی زمین میں مار دے۔ چنانچہ اس کی بینائی جاتی رہی اور وہ اپنی زمین کے ایک گڑھے میں گر کر مر گئی۔