کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا نسب — سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ نُفَيْلِ بْنِ هِشَامِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَرَجَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ، وَزَيْدُ بْنُ عَمْرٍو يَطْلُبَانِ الدِّينَ، حَتَّى مَرَّا بِالشَّامِ، فَأَمَّا وَرَقَةُ فَتَنَصَّرَ، وَأَمَّا زَيْدٌ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الْمَوْصِلَ، فَإِذَا هُوَ بِرَاهِبٍ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ صَاحِبُ الْمَرْحَلَةِ؟ قَالَ: مِنْ بَيْتِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: مَا تَطْلُبُ؟ قَالَ: الدِّينَ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ النَّصْرَانِيَّةَ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ، وَقَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، قَالَ: أَمَا إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ سَيَظْهَرُ بِأَرْضِكَ، فَأَقْبَلَ وَهُوَ يَقُولُ: لَبَّيْكَ حَقًّا حَقًّا، تَعَبُّدًا وَرِقًّا، الْبِرَّ أَبْغِي لَا الْحَالَ، وَهَلْ مُهَاجِرٌ كَمَنْ قَالَ، عُذْتُ بِمَا عَاذَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ قَائِمٌ، وَأَنْفِي لَكَ اللهُمَّ عَانٍ رَاغِمٍ مَهْمَا تَجَشَّمَنِي، فَإِنِّي جَاشِمٌ، ثُمَّ يَخِرُّ فَيَسْجُدُ لِلْكَعْبَةِ. قَالَ: فَمَرَّ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَهُمَا يَأْكُلَانِ مِنْ سُفْرَةٍ لَهُمَا، فَدَعَيَاهُ، فَقَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي، لَا آكُلُ مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ، قَالَ: فَمَا رُؤِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى بُعِثَ، قَالَ: وَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ زَيْدًا كَانَ كَمَا رَأَيْتَ - أَوْ كَمَا بَلَغَكَ - فَاسْتَغْفِرْ لَهُ قَالَ: «نَعَمْ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ»
ترجمہ
نفیل بن ہشام بن سعید بن زید اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ورقہ بن نوفل اور زید بن عمرو (سچے) دین کی تلاش میں نکلے، یہاں تک کہ وہ شام پہنچے۔ ورقہ نے تو عیسائیت اختیار کر لی، جبکہ زید سے کہا گیا: جس دین کی تم تلاش میں ہو وہ تمہارے آگے (یعنی آگے جا کر ملے گا)۔ چنانچہ وہ چل پڑے یہاں تک کہ موصل پہنچے، وہاں انہیں ایک راہب ملا۔ راہب نے پوچھا: مسافر کہاں سے آیا ہے؟ زید نے کہا: خانہ ابراہیم (مکہ) سے۔ راہب نے پوچھا: تم کیا تلاش کر رہے ہو؟ زید نے کہا: دین کی تلاش میں ہوں۔ راہب نے انہیں عیسائیت پیش کی تو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: مجھے اس کی حاجت نہیں۔ راہب نے کہا: جس دین کی تم تلاش میں ہو وہ عنقریب تمہاری ہی سرزمین میں ظاہر ہو گا۔ چنانچہ زید واپس آئے، یہ کہتے ہوئے: ”حاضر ہوں، سچ سچ حاضر ہوں، عبادت گزاری اور غلامی کے ساتھ، میں نیکی چاہتا ہوں نہ کہ دنیا، اور کیا (دوپہر کی گرمی میں) سفر کرنے والا اس جیسا ہو سکتا ہے جو دوپہر کو آرام کرے؟ میں اس (اللہ) کی پناہ لیتا ہوں جس کی پناہ ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر لی تھی، اور اے اللہ! میں تیرے سامنے جھکا ہوا اور تیرا مطیع ہوں، تو جو بھی مجھ پر بوجھ ڈالے میں اسے اٹھانے والا ہوں۔“ پھر وہ خانہ کعبہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتے۔ راوی کہتے ہیں: پھر زید بن عمرو کا گزر نبی کریم ﷺ اور زید بن حارثہ کے پاس سے ہوا، وہ دونوں اپنے دستر خوان سے کھانا کھا رہے تھے، تو انہوں نے زید بن عمرو کو بھی بلایا۔ زید نے کہا: ”بھتیجے! میں وہ چیز نہیں کھاتا جو بتوں کے نام پر ذبح کی گئی ہو۔“ راوی کہتے ہیں: اس دن کے بعد سے نبی کریم ﷺ کبھی وہ چیز کھاتے نظر نہیں آئے جو بتوں کے نام پر ذبح کی گئی ہو، یہاں تک کہ آپ ﷺ کو نبوت عطا ہوئی۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! زید (میرے والد) ایسے تھے جیسا آپ نے دیکھا - یا جیسی آپ کو خبر پہنچی - تو ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“، تو آپ ﷺ نے ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، ”کیونکہ وہ قیامت کے دن اکیلے ایک امت بن کر اٹھائے جائیں گے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يُحَنَّسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَضَنَ حَسَنًا فَقَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُهُ فَأَحِبَّهُ»
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حسن کو گلے لگایا اور فرمایا: ”اے اللہ! میں نے اسے محبوب رکھا ہے، تو بھی اسے محبوب رکھ۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الْكُوفِيُّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ»
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جائے وہ شہید ہے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ جَدِّهِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ حَتَّى يُقْتَلَ فَهُوَ شَهِيدٌ»
ترجمہ
عاصم بن عمر کہتے ہیں: انہوں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے لڑے یہاں تک کہ مارا جائے، وہ شہید ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ يُخْبِرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ»
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جائے وہ شہید ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ انْتَقَصَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ»
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جس نے ظلماً زمین کا ایک بالشت بھی گھٹایا (چرایا)، اللہ اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک کا طوق پہنائے گا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا ثَابِتُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُمَيْعٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حِرَاءٍ فَتَحَرَّكَ، فَضَرَبَ بِرِجْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: «اسْكُنْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ» وَهَؤُلَاءِ الْقَوْمُ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَأَنَا " يَعْنِي نَفْسَهُ
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا جبکہ آپ ﷺ حراء (پہاڑ) پر تھے، وہ ہلنے لگا، تو آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے اس پر ضرب لگائی، پھر فرمایا: ”اے حراء! ٹھہر جا، تجھ پر نبی، صدیق یا شہید کے سوا کوئی نہیں۔“ اور اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ یہ لوگ تھے: ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف، اور میں - یعنی وہ اپنی ذات کی مراد لے رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ الْحَوْطِيُّ، وَأَبُو زُرْعَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ثنا نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنْ أَرْبَى الرِّبَا: اسْتِطَالَةُ الْمَرْءِ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَإِنَّ هَذِهِ الرَّحِمَ شَجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، مَنْ قَطَعَهَا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ "
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے بڑے سود میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی کسی مسلمان کی عزت پر ناحق زبان دراز کرے۔ اور یہ رشتہ داری (رحم) رحمٰن کے نام سے نکلی ہوئی ایک شاخ ہے، جس نے اسے کاٹا اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا۔“