کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: قصہ گو افراد اور وعظ و نصیحت کرنے والوں کے متعلق جو روایات مروی ہیں، یہ ان کا بیان ہے۔
❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ : كَانَ كَعْبٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُصُّ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ ، أَوْ مَأْمُورٌ ، أَوْ مُخْتَالٌ " قَالَ : فَقِيلَ لِكَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ، هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، فَتَرَكَ الْقَصَصَ ، ثُمَّ إِنَّ مُعَاوِيَةَ أَمَرَهُ بِالْقَصَصِ ، فَاسْتَحَلَّ ذَلِكَ بِذَلِكَ .
ترجمہ
قاسم بن کثیر اپنے ایک ساتھی سے روایت کرتے ہیں کہ کعب الاحبار رحمہ اللہ لوگوں کو وعظ و نصیحت اور قصے سنایا کرتے تھے، تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے (انہیں دیکھ کر) فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وعظ و نصیحت (یا قصہ گوئی) صرف وہی کرتا ہے جو خود امیر (حکمران) ہو، یا جسے امیر نے اس کا باقاعدہ حکم دیا ہو، یا پھر وہ شخص جو متکبر اور خود پسند ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر کعب الاحبار رحمہ اللہ سے (لوگوں نے) کہا: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ» ”تیری ماں تجھے گم کرے (یعنی افسوس!)“ یہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (نبی کریم ﷺ کے حوالے سے) ایسی ایسی بات فرما رہے ہیں، چنانچہ کعب الاحبار رحمہ اللہ نے (خوفِ الہی کی وجہ سے) وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیا، پھر جب بعد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں باقاعدہ وعظ و نصیحت کرنے کا حکم دیا، تو انہوں نے اس حکمِ حاکم کی وجہ سے (مامور ہونے کی شرط پوری ہونے پر) اسے اپنے لیے دوبارہ جائز سمجھ لیا۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، تاہم اس کا متن دیگر معتبر کتبِ حدیث مثلاً سنن ابی داؤد (3665) اور مسند احمد میں مروی ہے، جسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3200
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الحديث بهذا الإِسناد ضعيف؛ لأنّ فيه راويًا مبهمًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، مَرَّ بِقَصَّاصٍ ، فَقَالَ : مَا يَقُولُ ؟ قَالُوا : يَقُصُّ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَا ، وَلَكِنْ يَقُولُ : اعْرِفُونِي .
ترجمہ
سعید بن ابی ہند رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا گزر ایک قصہ گو (وعظ و داستان سنانے والے) کے پاس سے ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا: ”یہ شخص کیا کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ”یہ قصے کہانیاں بیان کر رہا ہے“، اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (اس کے اندازِ بیان پر گرفت کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”نہیں (یہ وعظ و نصیحت نہیں کر رہا)، بلکہ یہ (زبانِ حال سے) یہ کہہ رہا ہے کہ: ”لوگو! مجھے پہچانو (یعنی وہ نصیحت کے بجائے اپنی شہرت اور نام و نمود کا طلب گار ہے)“۔“
[إسناده صحيح، أخرجه مسدد في مسنده كما في المطالب العالية: 3201]
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3201
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الأثر رواته ثقات، إلا أنه منقطع، سعيد بن أبي هند يروي عن علي رضي الله عنه مرسلًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً فَوَعَظَنَا فِيهَا مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ ، وَاقْشَعَرَّتْ مِنْهَا الْجُلُودُ ، وَتَقَلْقَلَتْ مِنْهَا الْأَحْشَاءُ ، أَمَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنَادَى : الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَفِيهِ : " وَمَنِ اخْتَارَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ فَلَهُ النَّارُ ، وَمَنْ عَظَّمَ صَاحِبَ دُنْيَا وَمَدَحَهُ طَمَعًا فِي دُنْيَاهُ سَخِطَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ ، وَكَانَ فِي دَرَجَةِ قَارُونَ فِي أَسْفَلِ جَهَنَّمَ ، وَمَنْ بَنَى بِنَاءً رِيَاءً وَسُمْعَةً حُمِّلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ، مُطَوَّقَةٍ نَارًا تُوقَدُ فِي عُنُقِهِ ثُمَّ يُرْمَى بِهِ فِي النَّارِ " فَقِيلَ : وَكَيْفَ يَبْنِي بِنَاءَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ ؟ فَقَالَ : " يَبْنِي فَضْلًا عَمَّا يَكْفِيهِ وَيَبْنِيهِ مُبَاهَاةً ، وَمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَلَمْ يَعْمَلْ بِهِ وَآثَرَ عَلَيْهِ حُطَامَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا اسْتَوْجَبَ سَخَطَ اللهِ تَعَالَى ، وَكَانَ فِي دَرَجَةِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى الَّذِينَ نَبَذُوا كِتَابَ اللهِ تَعَالَى وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ، وَمَنْ سَخِطَ رِزْقَهُ وَبَثَّ شَكْوَاهُ لَمْ تُرْفَعْ لَهُ إِلَى اللهِ تَعَالَى حَسَنَةٌ ، وَلَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ سَاخِطٌ ، وَمَنْ نَكَحَ امْرَأَةً حَلَالًا بِمَالٍ حَلَالٍ يُرِيدُ بِذَلِكَ الْفَخْرَ وَالرِّيَاءَ لَمْ يَزِدْهُ اللهُ تَعَالَى بِذَلِكَ إِلَّا ذُلًّا وَهَوَانًا ، وَأَقَامَهُ اللهُ تَعَالَى بِقَدْرِ مَا اسْتَمْتَعَ مِنْهَا عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ ، ثُمَّ يَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا ، وَمَنْ أَهَانَ فَقِيرًا مُسْلِمًا مِنْ أَجْلِ فَقْرِهِ فَاسْتَخَفَّ بِهِ ، فَقَدِ اسْتَخَفَّ بِحَقِّ اللهِ تَعَالَى ، وَلَمْ يَزَلْ فِي مَقْتِ اللهِ تَعَالَى وَسَخَطِهِ حَتَّى يُرْضِيَهُ ، وَمَنْ أَكْرَمَ فَقِيرًا مُسْلِمًا لَقِيَ اللهَ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يَضْحَكُ إِلَيْهِ ، وَمَنْ عُرِضَتْ لَهُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ فَاخْتَارَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ لَقِيَ اللهَ تَعَالَى وَلَيْسَتْ لَهُ حَسَنَةٌ يَتَّقِي بِهَا النَّارَ ، وَإِنِ اخْتَارَ الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا لَقِيَ اللهَ تَعَالَى وَهُوَ عَنْهُ رَاضٍ ، وَمَنْ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ مِنْ دُمُوعِهِ مِثْلُ أُحُدٍ فِي مِيزَانِهِ ، وَلَهُ بِكُلِّ قَطْرَةِ عَيْنٍ فِي الْجَنَّةِ عَلَى حَافَتِهَا مِنَ الْمَدَائِنِ وَالْقُصُورِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ وَاصِفٍ " .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ دیا جس میں آپ ﷺ نے ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جس سے آنکھیں اشکبار ہو گئیں، دل لرز اٹھے، بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور کلیجے دہل گئے، پھر آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے آواز لگائی: «الصلاة جامعة» ”نماز کے لیے جمع ہو جاؤ“، پھر راوی نے طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ بھی ہے کہ: ”اور جس نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دی تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے، اور جس نے کسی دنیا دار کی محض اس کی دنیا کی طمع میں تعظیم کی اور اس کی تعریف کی تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو جائے گا اور وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں قارون کے درجے میں ہوگا، اور جس نے ریاکاری اور شہرت کی خاطر کوئی عمارت تعمیر کی تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا بوجھ آگ کے طوق کی صورت میں اس کے گلے میں ڈال کر اسے لاد دیا جائے گا جو اس کی گردن میں دہکتا رہے گا، پھر اسے آگ میں جھونک دیا جائے گا“، عرض کیا گیا: ریاکاری اور شہرت کی عمارت کیسی ہوتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ اپنی ضرورت سے زائد عمارت بناتا ہے اور اسے محض فخر و مباہات کے لیے تعمیر کرتا ہے، اور جس نے قرآن سیکھا مگر اس پر عمل نہ کیا اور اس کے مقابلے میں دنیا کے مال و متاع اور اس کی زینت کو ترجیح دی تو وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق ٹھہرا اور وہ ان یہودیوں اور نصرانیوں کے درجے میں ہوگا جنہوں نے اللہ کی کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا تھا ﴿نَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 187] ”اور اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا تھا اور اس کے بدلے معمولی قیمت خرید لی تھی“، اور جو اپنے رزق پر ناراض ہوا اور اپنی شکایتوں کا چرچا کیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی کوئی نیکی بلند نہیں کی جائے گی اور وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا، اور جس نے کسی عورت سے حلال مال کے ذریعے حلال طریقے سے نکاح کیا مگر اس کا مقصد محض فخر اور دکھاوا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کی ذلت و رسوائی میں ہی اضافہ فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اس عورت سے حاصل کردہ لذت کے بقدر جہنم کے کنارے پر کھڑا کر دے گا، پھر وہ اس میں ستر سال تک گرتا رہے گا، اور جس نے کسی مسلمان فقیر کو اس کی فقر و محتاجی کی وجہ سے ذلیل کیا یا اسے حقیر سمجھا تو اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کے حق کی توہین کی اور وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی بیزاری اور غصے میں رہے گا یہاں تک کہ وہ اس فقیر کو راضی کر لے، اور جس نے کسی مسلمان فقیر کی عزت و تکریم کی تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا ہوگا، اور جس کے سامنے دنیا اور آخرت پیش کی گئیں اور اس نے آخرت کے بجائے دنیا کا انتخاب کیا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس ایسی کوئی نیکی نہ ہوگی جو اسے آگ سے بچا سکے، اور اگر اس نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس سے راضی ہوگا، اور جس کی آنکھوں سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے خوف سے آنسو بہہ نکلے تو اس کے آنسو کے ہر قطرے کے بدلے اس کے میزانِ عمل میں احد پہاڑ جتنا وزن ہوگا اور اسے ہر قطرے کے عوض جنت کے کناروں پر ایسے شہر اور محلات ملیں گے جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی بیان کرنے والے کے دل میں کبھی ان کا خیال گزرا“۔
یہ روایت سخت ضعیف ہے؛ اس کی سند میں داؤد بن المحبر اور میسرہ بن عبد ربہ کذاب اور وضاع راوی ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3202
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإِسناد موضوع، في إسناده ميسرة، وهو وضّاع، وداود بن المُحَبَّر، وهو متروك. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 245»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : إِنَّ الْقَصَصَ بِدْعَةٌ .
ترجمہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ (وعظ و نصیحت کے نام پر غیر مستند) قصہ گوئی ایک بدعت ہے۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے، اسے امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے جیسا کہ المطالب العالیہ (3203) میں منقول ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3203
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح، رجاله كلهم ثقات. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : لَمَّا مَرِضَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، أَتَاهُ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَعُودُهُ وَهُوَ أَمِيرُ الْكُوفَةِ ، فَجَعَلَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَبْكِي ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، ثُمَّ قَالَ : وَأَمَّا أَنْتَ أَيُّهَا الرَّجُلُ فَاتَّقِ اللهَ تَعَالَى عِنْدَ هَمِّكَ إِذَا هَمَمْتَ ، وَعِنْدَ يَدِكَ إِذَا قَسَّمْتَ ، وَعِنْدَ لِسَانِكَ إِذَا حَكَمْتَ .
ترجمہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں ان کی وفات ہوئی، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ وہ اس وقت کوفہ کے گورنر تھے، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ (انہیں دیکھ کر) رونے لگے، پھر راوی نے مکمل حدیث بیان کی، اس کے بعد (سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے نصیحت کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے شخص! اللہ تعالیٰ سے اس وقت ڈر جب تو کسی کام کا پختہ ارادہ کرے، اور اپنے ہاتھ کے معاملے میں جب تو (مال و حقوق) تقسیم کرے، اور اپنی زبان کے بارے میں جب تو کوئی فیصلہ صادر کرے۔“
اس روایت کی سند میں امام حسن بصری کا سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے انقطاع پایا جاتا ہے، تاہم اس واقعے کی اصل دیگر کتبِ حدیث میں بھی موجود ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3204
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجال هذا الإِسناد ثقات، إلّا أنه منقطع »
«أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 4104، وأخرجه مسند أحمد برقم: 24208، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20632، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6069»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَجْلَحِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمَّا هَلَكُوا قَصُّوا " .
ترجمہ
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک بنی اسرائیل جب (دینی و اخلاقی طور پر) تباہ و برباد ہوئے تو انہوں نے قصہ گوئی (یعنی علم و عمل کو ترک کر کے محض وعظ و داستان سرائی) کو اپنا شعار بنا لیا تھا۔“
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند کے متعلق علما کا کہنا ہے کہ اس کے راوی اجلح بن عبد اللہ الکندی جمہور کے نزدیک صدوق ہیں، اور علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3205
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الحديث بهذا الإِسناد حسن، رجاله ثقات غير الأجلح بن عبد الله، وهو حسن الحديث. »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 3705، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 900»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ قَالَ : اخْتَصَمَ قَوْمٌ فِي الْقَصَصِ ، فَحَسَّنَهُ قَوْمٌ وَكَرِهَهُ قَوْمٌ ، فَأَتَوْا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرُوا لَهُ ذَلِكَ وَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ : بُعِثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِتَالِ وَلَمْ يُبْعَثْ بِالْقَصَصِ .
ترجمہ
یزید رقاشی سے روایت ہے کہ لوگوں کے ایک گروہ نے قصہ گوئی (وعظ و نصیحت کے لیے کہانیوں کا سہارا لینے) کے معاملے میں باہم اختلاف کیا، چنانچہ کچھ لوگوں نے اسے بہتر سمجھا اور بعض نے اسے ناپسند کیا، پھر وہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس مسئلے کا تذکرہ کرتے ہوئے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کو قتال (حق کی سربلندی کے لیے جدوجہد) کے ساتھ مبعوث فرمایا گیا ہے اور آپ ﷺ کو قصہ گوئی (کہانیاں سنانے) کے لیے مبعوث نہیں کیا گیا۔“
اس روایت کی سند میں موجود راوی یزید بن ابان الرقاشی ضعیف ہے، نیز اس کے ایک مبہم راوی ”عن بعض أصحابه“ کی وجہ سے بھی سند میں انقطاع پایا جاتا ہے، تاہم یہ کلام قصہ گوئی کے مقابلے میں دین کے اصل مقاصد کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3206
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :وفيه يزيد بن أبان، وهو ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»