المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ تنجيد الْبُيُوتِ بالستور والتبقر فِي التزين باب: گھروں کو پردوں سے سجانے اور زینت میں مبالغہ کرنے کی کراہت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : دُعِيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ إِلَى طَعَامٍ ، فَلَمَّا جَاءَ رَأَى الْبَيْتَ مُنَجَّدًا فَقَعَدَ خَارِجًا يَبْكِي ، فَقِيلَ لَهُ : مَا يُبْكِيكَ ؟ فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَيَّعَ جَيْشًا فَبَلَغَ عَقَبَةَ الْوَدَاعِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ " ، فَرَأَى رَجُلًا ذَاتَ يَوْمٍ قَدْ رَقَّعَ بُرْدَةً لَهُ بِقِطْعَةِ فَرْوٍ فَقَالَ : فَاسْتَقْبَلَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ ، وَقَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ ، وَوَصَفَ حَمَّادٌ بِيَدَيْهِ بِبَاطِنِ الْكَفَّيْنِ وَمَدَّ يَدَيْهِ : " تَطَالَعَتْ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا - أَيْ أَقْبَلَتْ - حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ تَقَعَ عَلَيْنَا ، وَيَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فِي حُلَّةٍ وَيَرُوحَ فِي أُخْرَى ، وَتَسْتُرُونَ بُيُوتَكُمْ كَمَا تَسْتُرُونَ الْكَعْبَةَ " فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ : أَوَلَا أَبْكِي وَقَدْ رَأَيْتُكُمْ تَسْتُرُونَ بُيُوتَكُمْ كَمَا تَسْتُرُونَ الْكَعْبَةَ .
قُلْتُ : أَخْرَجَ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ قِصَّةَ الْقَوْلِ عِنْدَ التَّوْدِيعِ فَقَطَّ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ .محمد بن کعب سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کو کھانے کی دعوت دی گئی، جب وہ تشریف لائے تو انہوں نے دیکھا کہ گھر کو (قیمتی کپڑوں اور پردوں سے) سجایا گیا ہے، تو وہ باہر ہی بیٹھ کر رونے لگے؛ ان سے پوچھا گیا: ”آپ کو کس چیز نے رلا دیا؟“ تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر کو رخصت کرتے اور جب وہ مقامِ عقبۃ الوداع پر پہنچتے تو اللہ کے نبی ﷺ یہ دعا فرماتے: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ» ”میں تمہارا دین، تمہاری امانت داری اور تمہارے اعمال کے انجام کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ پھر (سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے قصہ بیان کیا کہ) ایک دن آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے اپنی چادر پر کھال کا ایک ٹکڑا پیوند کے طور پر لگایا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے طلوعِ آفتاب کی سمت رخ کیا اور اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ فرمایا—اور حماد نے اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو پھیلا کر اس کی کیفیت واضح کی—اور فرمایا: ”تم پر دنیا طلوع ہو چکی ہے—یعنی وہ تمہاری طرف پوری طرح مائل ہو گئی ہے—یہاں تک کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ وہ ہم پر آن پڑے گی، اور (ایک وقت آئے گا کہ) تم میں سے کوئی شخص صبح کے وقت ایک لباس پہن کر نکلے گا اور شام کو دوسرا لباس زیب تن کرے گا، اور تم اپنے گھروں پر اس طرح پردے لٹکاؤ گے (ان کی دیواروں کو ڈھانپو گے) جس طرح کعبہ کو ڈھانپا جاتا ہے۔“ پس سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے (موجودہ صورتحال دیکھ کر) فرمایا: ”بھلا میں کیوں نہ روؤں جبکہ میں نے تمہیں دیکھ لیا ہے کہ تم اپنے گھروں کو (پردوں سے) یوں ڈھانپ رہے ہو جیسے کعبہ کو ڈھانپا جاتا ہے۔“
میں کہتا ہوں کہ امام ابو داؤد اور امام نسائی نے صرف رخصت کے وقت کہے جانے والے کلمات کا قصہ روایت کیا ہے، اور ان دونوں کی سند حسن ہے۔