المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي القصاص والوعاظ باب: قصہ گو افراد اور وعظ و نصیحت کرنے والوں کے متعلق جو روایات مروی ہیں، یہ ان کا بیان ہے۔
حدیث نمبر: 3205
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَجْلَحِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمَّا هَلَكُوا قَصُّوا " .ترجمہ
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک بنی اسرائیل جب (دینی و اخلاقی طور پر) تباہ و برباد ہوئے تو انہوں نے قصہ گوئی (یعنی علم و عمل کو ترک کر کے محض وعظ و داستان سرائی) کو اپنا شعار بنا لیا تھا۔“
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند کے متعلق علما کا کہنا ہے کہ اس کے راوی اجلح بن عبد اللہ الکندی جمہور کے نزدیک صدوق ہیں، اور علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔