❮
❯
حدیث نمبر: 3202
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً فَوَعَظَنَا فِيهَا مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ ، وَاقْشَعَرَّتْ مِنْهَا الْجُلُودُ ، وَتَقَلْقَلَتْ مِنْهَا الْأَحْشَاءُ ، أَمَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنَادَى : الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَفِيهِ : " وَمَنِ اخْتَارَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ فَلَهُ النَّارُ ، وَمَنْ عَظَّمَ صَاحِبَ دُنْيَا وَمَدَحَهُ طَمَعًا فِي دُنْيَاهُ سَخِطَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ ، وَكَانَ فِي دَرَجَةِ قَارُونَ فِي أَسْفَلِ جَهَنَّمَ ، وَمَنْ بَنَى بِنَاءً رِيَاءً وَسُمْعَةً حُمِّلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ، مُطَوَّقَةٍ نَارًا تُوقَدُ فِي عُنُقِهِ ثُمَّ يُرْمَى بِهِ فِي النَّارِ " فَقِيلَ : وَكَيْفَ يَبْنِي بِنَاءَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ ؟ فَقَالَ : " يَبْنِي فَضْلًا عَمَّا يَكْفِيهِ وَيَبْنِيهِ مُبَاهَاةً ، وَمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَلَمْ يَعْمَلْ بِهِ وَآثَرَ عَلَيْهِ حُطَامَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا اسْتَوْجَبَ سَخَطَ اللهِ تَعَالَى ، وَكَانَ فِي دَرَجَةِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى الَّذِينَ نَبَذُوا كِتَابَ اللهِ تَعَالَى وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ، وَمَنْ سَخِطَ رِزْقَهُ وَبَثَّ شَكْوَاهُ لَمْ تُرْفَعْ لَهُ إِلَى اللهِ تَعَالَى حَسَنَةٌ ، وَلَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ سَاخِطٌ ، وَمَنْ نَكَحَ امْرَأَةً حَلَالًا بِمَالٍ حَلَالٍ يُرِيدُ بِذَلِكَ الْفَخْرَ وَالرِّيَاءَ لَمْ يَزِدْهُ اللهُ تَعَالَى بِذَلِكَ إِلَّا ذُلًّا وَهَوَانًا ، وَأَقَامَهُ اللهُ تَعَالَى بِقَدْرِ مَا اسْتَمْتَعَ مِنْهَا عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ ، ثُمَّ يَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا ، وَمَنْ أَهَانَ فَقِيرًا مُسْلِمًا مِنْ أَجْلِ فَقْرِهِ فَاسْتَخَفَّ بِهِ ، فَقَدِ اسْتَخَفَّ بِحَقِّ اللهِ تَعَالَى ، وَلَمْ يَزَلْ فِي مَقْتِ اللهِ تَعَالَى وَسَخَطِهِ حَتَّى يُرْضِيَهُ ، وَمَنْ أَكْرَمَ فَقِيرًا مُسْلِمًا لَقِيَ اللهَ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يَضْحَكُ إِلَيْهِ ، وَمَنْ عُرِضَتْ لَهُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ فَاخْتَارَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ لَقِيَ اللهَ تَعَالَى وَلَيْسَتْ لَهُ حَسَنَةٌ يَتَّقِي بِهَا النَّارَ ، وَإِنِ اخْتَارَ الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا لَقِيَ اللهَ تَعَالَى وَهُوَ عَنْهُ رَاضٍ ، وَمَنْ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ مِنْ دُمُوعِهِ مِثْلُ أُحُدٍ فِي مِيزَانِهِ ، وَلَهُ بِكُلِّ قَطْرَةِ عَيْنٍ فِي الْجَنَّةِ عَلَى حَافَتِهَا مِنَ الْمَدَائِنِ وَالْقُصُورِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ وَاصِفٍ " .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ دیا جس میں آپ ﷺ نے ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جس سے آنکھیں اشکبار ہو گئیں، دل لرز اٹھے، بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور کلیجے دہل گئے، پھر آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے آواز لگائی: «الصلاة جامعة» ”نماز کے لیے جمع ہو جاؤ“، پھر راوی نے طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ بھی ہے کہ: ”اور جس نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دی تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے، اور جس نے کسی دنیا دار کی محض اس کی دنیا کی طمع میں تعظیم کی اور اس کی تعریف کی تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو جائے گا اور وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں قارون کے درجے میں ہوگا، اور جس نے ریاکاری اور شہرت کی خاطر کوئی عمارت تعمیر کی تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا بوجھ آگ کے طوق کی صورت میں اس کے گلے میں ڈال کر اسے لاد دیا جائے گا جو اس کی گردن میں دہکتا رہے گا، پھر اسے آگ میں جھونک دیا جائے گا“، عرض کیا گیا: ریاکاری اور شہرت کی عمارت کیسی ہوتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ اپنی ضرورت سے زائد عمارت بناتا ہے اور اسے محض فخر و مباہات کے لیے تعمیر کرتا ہے، اور جس نے قرآن سیکھا مگر اس پر عمل نہ کیا اور اس کے مقابلے میں دنیا کے مال و متاع اور اس کی زینت کو ترجیح دی تو وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق ٹھہرا اور وہ ان یہودیوں اور نصرانیوں کے درجے میں ہوگا جنہوں نے اللہ کی کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا تھا ﴿نَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 187] ”اور اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا تھا اور اس کے بدلے معمولی قیمت خرید لی تھی“، اور جو اپنے رزق پر ناراض ہوا اور اپنی شکایتوں کا چرچا کیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی کوئی نیکی بلند نہیں کی جائے گی اور وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا، اور جس نے کسی عورت سے حلال مال کے ذریعے حلال طریقے سے نکاح کیا مگر اس کا مقصد محض فخر اور دکھاوا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کی ذلت و رسوائی میں ہی اضافہ فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اس عورت سے حاصل کردہ لذت کے بقدر جہنم کے کنارے پر کھڑا کر دے گا، پھر وہ اس میں ستر سال تک گرتا رہے گا، اور جس نے کسی مسلمان فقیر کو اس کی فقر و محتاجی کی وجہ سے ذلیل کیا یا اسے حقیر سمجھا تو اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کے حق کی توہین کی اور وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی بیزاری اور غصے میں رہے گا یہاں تک کہ وہ اس فقیر کو راضی کر لے، اور جس نے کسی مسلمان فقیر کی عزت و تکریم کی تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا ہوگا، اور جس کے سامنے دنیا اور آخرت پیش کی گئیں اور اس نے آخرت کے بجائے دنیا کا انتخاب کیا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس ایسی کوئی نیکی نہ ہوگی جو اسے آگ سے بچا سکے، اور اگر اس نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس سے راضی ہوگا، اور جس کی آنکھوں سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے خوف سے آنسو بہہ نکلے تو اس کے آنسو کے ہر قطرے کے بدلے اس کے میزانِ عمل میں احد پہاڑ جتنا وزن ہوگا اور اسے ہر قطرے کے عوض جنت کے کناروں پر ایسے شہر اور محلات ملیں گے جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی بیان کرنے والے کے دل میں کبھی ان کا خیال گزرا“۔
یہ روایت سخت ضعیف ہے؛ اس کی سند میں داؤد بن المحبر اور میسرہ بن عبد ربہ کذاب اور وضاع راوی ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3202
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإِسناد موضوع، في إسناده ميسرة، وهو وضّاع، وداود بن المُحَبَّر، وهو متروك. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 245»