المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي القصاص والوعاظ باب: قصہ گو افراد اور وعظ و نصیحت کرنے والوں کے متعلق جو روایات مروی ہیں، یہ ان کا بیان ہے۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : لَمَّا مَرِضَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، أَتَاهُ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَعُودُهُ وَهُوَ أَمِيرُ الْكُوفَةِ ، فَجَعَلَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَبْكِي ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، ثُمَّ قَالَ : وَأَمَّا أَنْتَ أَيُّهَا الرَّجُلُ فَاتَّقِ اللهَ تَعَالَى عِنْدَ هَمِّكَ إِذَا هَمَمْتَ ، وَعِنْدَ يَدِكَ إِذَا قَسَّمْتَ ، وَعِنْدَ لِسَانِكَ إِذَا حَكَمْتَ .امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں ان کی وفات ہوئی، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ وہ اس وقت کوفہ کے گورنر تھے، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ (انہیں دیکھ کر) رونے لگے، پھر راوی نے مکمل حدیث بیان کی، اس کے بعد (سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے نصیحت کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے شخص! اللہ تعالیٰ سے اس وقت ڈر جب تو کسی کام کا پختہ ارادہ کرے، اور اپنے ہاتھ کے معاملے میں جب تو (مال و حقوق) تقسیم کرے، اور اپنی زبان کے بارے میں جب تو کوئی فیصلہ صادر کرے۔“
اس روایت کی سند میں امام حسن بصری کا سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے انقطاع پایا جاتا ہے، تاہم اس واقعے کی اصل دیگر کتبِ حدیث میں بھی موجود ہے۔