المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي القصاص والوعاظ باب: قصہ گو افراد اور وعظ و نصیحت کرنے والوں کے متعلق جو روایات مروی ہیں، یہ ان کا بیان ہے۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ : كَانَ كَعْبٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُصُّ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ ، أَوْ مَأْمُورٌ ، أَوْ مُخْتَالٌ " قَالَ : فَقِيلَ لِكَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ، هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، فَتَرَكَ الْقَصَصَ ، ثُمَّ إِنَّ مُعَاوِيَةَ أَمَرَهُ بِالْقَصَصِ ، فَاسْتَحَلَّ ذَلِكَ بِذَلِكَ .قاسم بن کثیر اپنے ایک ساتھی سے روایت کرتے ہیں کہ کعب الاحبار رحمہ اللہ لوگوں کو وعظ و نصیحت اور قصے سنایا کرتے تھے، تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے (انہیں دیکھ کر) فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وعظ و نصیحت (یا قصہ گوئی) صرف وہی کرتا ہے جو خود امیر (حکمران) ہو، یا جسے امیر نے اس کا باقاعدہ حکم دیا ہو، یا پھر وہ شخص جو متکبر اور خود پسند ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر کعب الاحبار رحمہ اللہ سے (لوگوں نے) کہا: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ» ”تیری ماں تجھے گم کرے (یعنی افسوس!)“ یہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (نبی کریم ﷺ کے حوالے سے) ایسی ایسی بات فرما رہے ہیں، چنانچہ کعب الاحبار رحمہ اللہ نے (خوفِ الہی کی وجہ سے) وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیا، پھر جب بعد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں باقاعدہ وعظ و نصیحت کرنے کا حکم دیا، تو انہوں نے اس حکمِ حاکم کی وجہ سے (مامور ہونے کی شرط پوری ہونے پر) اسے اپنے لیے دوبارہ جائز سمجھ لیا۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، تاہم اس کا متن دیگر معتبر کتبِ حدیث مثلاً سنن ابی داؤد (3665) اور مسند احمد میں مروی ہے، جسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔