المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي القصاص والوعاظ باب: قصہ گو افراد اور وعظ و نصیحت کرنے والوں کے متعلق جو روایات مروی ہیں، یہ ان کا بیان ہے۔
حدیث نمبر: 3201
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، مَرَّ بِقَصَّاصٍ ، فَقَالَ : مَا يَقُولُ ؟ قَالُوا : يَقُصُّ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَا ، وَلَكِنْ يَقُولُ : اعْرِفُونِي .ترجمہ
سعید بن ابی ہند رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا گزر ایک قصہ گو (وعظ و داستان سنانے والے) کے پاس سے ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا: ”یہ شخص کیا کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ”یہ قصے کہانیاں بیان کر رہا ہے“، اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (اس کے اندازِ بیان پر گرفت کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”نہیں (یہ وعظ و نصیحت نہیں کر رہا)، بلکہ یہ (زبانِ حال سے) یہ کہہ رہا ہے کہ: ”لوگو! مجھے پہچانو (یعنی وہ نصیحت کے بجائے اپنی شہرت اور نام و نمود کا طلب گار ہے)“۔“
[إسناده صحيح، أخرجه مسدد في مسنده كما في المطالب العالية: 3201]