المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي القصاص والوعاظ باب: قصہ گو افراد اور وعظ و نصیحت کرنے والوں کے متعلق جو روایات مروی ہیں، یہ ان کا بیان ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ قَالَ : اخْتَصَمَ قَوْمٌ فِي الْقَصَصِ ، فَحَسَّنَهُ قَوْمٌ وَكَرِهَهُ قَوْمٌ ، فَأَتَوْا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرُوا لَهُ ذَلِكَ وَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ : بُعِثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِتَالِ وَلَمْ يُبْعَثْ بِالْقَصَصِ .یزید رقاشی سے روایت ہے کہ لوگوں کے ایک گروہ نے قصہ گوئی (وعظ و نصیحت کے لیے کہانیوں کا سہارا لینے) کے معاملے میں باہم اختلاف کیا، چنانچہ کچھ لوگوں نے اسے بہتر سمجھا اور بعض نے اسے ناپسند کیا، پھر وہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس مسئلے کا تذکرہ کرتے ہوئے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کو قتال (حق کی سربلندی کے لیے جدوجہد) کے ساتھ مبعوث فرمایا گیا ہے اور آپ ﷺ کو قصہ گوئی (کہانیاں سنانے) کے لیے مبعوث نہیں کیا گیا۔“
اس روایت کی سند میں موجود راوی یزید بن ابان الرقاشی ضعیف ہے، نیز اس کے ایک مبہم راوی ”عن بعض أصحابه“ کی وجہ سے بھی سند میں انقطاع پایا جاتا ہے، تاہم یہ کلام قصہ گوئی کے مقابلے میں دین کے اصل مقاصد کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے۔