کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: دلہن کو اس کے شوہر کے پاس رخصت کر کے لے جانے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ . وَعَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ ، قَالَا : لَمَّا أُهْدِيَتْ فَاطِمَةُ إِلَى عَلِيٍّ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ : " أَنْ لَا تَقْرَبَ أَهْلَكَ حَتَّى آتِيَكَ " ، قَالَتْ : فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِمَاءٍ . فَقَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ نَضَحَ الْمَاءَ عَلَى صَدْرِ عَلِيٍّ وَوَجْهِهِ ، ثُمَّ دَعَا فَاطِمَةَ فَقَامَتْ تَعْثُرُ فِي ثَوْبِهَا مِنَ الْحَيَاءِ ، فَنَضَحَ عَلَيْهَا أَيْضًا .
ثُمَّ نَظَرَ فَإِذَا سَوَادٌ وَرَاءَ الْبَيْتِ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ : أَنَا ، فَقَالَ : " أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ؟ " ، فَقَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَجِئْتِ مَعَ ابْنَةِ رَسُولِ اللهِ كَرَامَةً لِرَسُولِ اللهِ " ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَدَعَا لِي بِدُعَاءٍ أَنَّهُ لَأَوْلَى عَمَلِي عِنْدِي ، فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ ، إِنِّي لَمْ آلُ أَنْ أَنْكَحْتُ أَحَبَّ أَهْلِي إِلَيَّ " .
ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لِعَلِيٍّ : " دُونَكَ أَهْلَكَ " ، ثُمَّ وَلَّى إِلَى حُجْرَةٍ ، فَمَا زَالَ يَدْعُو لَهُمَا حَتَّى دَخَلَ حَجْرَهُ .
قُلْتُ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، لَكِنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ كَانَتْ فِي هَذَا الْوَقْتِ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مَعَ زَوْجِهَا جَعْفَرٍ ، لَا خِلَافَ فِي ذَلِكَ ، فَلَعَلَّ ذَلِكَ كَانَ لِأُخْتِهَا سَلْمَى بِنْتِ عُمَيْسٍ ، وَهِيَ امْرَأَةُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ .
ترجمہ
حضرت عکرمہ اور حضرت ابویزید المدینی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں رخصت کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ ”اپنی اہلیہ کے قریب نہ جانا جب تک کہ میں تمہارے پاس نہ آ جاؤں“، راویہ بیان کرتی ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا، آپ ﷺ نے اس پر جو اللہ نے چاہا وہ دعا پڑھی اور پھر وہ پانی علی رضی اللہ عنہ کے سینے اور چہرے پر چھڑک دیا، پھر آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا تو وہ شرم و حیا کے باعث اپنے لباس میں الجھتی ہوئی حاضر ہوئیں، آپ ﷺ نے ان پر بھی پانی چھڑکا، پھر آپ ﷺ نے دیکھا تو گھر کے پیچھے ایک سایہ سا نظر آیا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ میں ہوں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اسماء بنتِ عمیس ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم رسول اللہ کی بیٹی کے ساتھ ان کی تکریم و خاطر داری کے لیے آئی ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے لیے ایسی دعا فرمائی جو میرے نزدیک میرے تمام اعمال سے زیادہ قیمتی ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! میں نے تمہارا نکاح اپنے گھر والوں میں سے اس شخص سے کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے“، پھر آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اب اپنی اہلیہ کو سنبھالو“، پھر آپ ﷺ اپنے حجرے کی جانب مڑ گئے اور مسلسل ان دونوں کے لیے دعائیں فرماتے رہے یہاں تک کہ اپنے حجرہ مبارک میں داخل ہو گئے
محقق فرماتے ہیں کہ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں، البتہ اسماء بنتِ عمیس اس وقت بلا اختلاف اپنے شوہر جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سرزمینِ حبشہ میں تھیں، لہٰذا قرینِ قیاس یہی ہے کہ یہ ان کی بہن سلمیٰ بنتِ عمیس ہوں گی جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1629
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، لَكِنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ كَانَتْ فِي هَذَا الْوَقْتِ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مَعَ زَوْجِهَا جَعْفَرٍ ، لَا خِلَافَ فِي ذَلِكَ ، فَلَعَلَّ ذَلِكَ كَانَ لِأُخْتِهَا سَلْمَى بِنْتِ عُمَيْسٍ ، وَهِيَ امْرَأَةُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3932، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 9781، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 365»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ - هُوَ ابْنُ فَرُّوخَ - ثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَةً قَدْ أَعْجَبَتْنِي ، لَا تَلِدُ ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا " ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا .
ثُمَّ تَبِعَتْهَا نَفْسُهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَعْجَبَتْنِي هَذِهِ الْمَرْأَةُ وَنَحْوُهَا ، أَعْجَبَنِي دَلُّهَا وَنَحْوُهَا ، فَأَتَزَوَّجُهَا ؟ قَالَ : " لَا ، امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ وَلُودٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهَا ، أَمَا شَعَرْتَ أَنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَجِيءُ ذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ آخِذِينَ بِحَقْوَيْ آبَائِهِمْ ، فَيُقَالُ لَهُمُ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ ، حَتَّى أَرَى السِّقْطَ مُحْبَنْطِئًا مُتَقَاعِسًا ، فَيُقَالُ لَهُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ! فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَأَبَوَيَّ ؟ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( ادْخُلْ أَنْتَ الْجَنَّةَ ، وَأَبَوَاكَ الْجَنَّةَ ) ".
ترجمہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک عورت مجھے بہت پسند آئی ہے مگر وہ بانجھ ہے، کیا میں اس سے نکاح کر لوں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں۔“ اس پر وہ شخص رک گیا، لیکن پھر اس کا جی اس عورت کی رغبت میں بے چین ہوا تو وہ دوبارہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! وہ عورت اور اس کا حسن و جمال مجھے بہت پسند ہے، اس کا ناز و انداز اور چال ڈھال مجھے بھاتی ہے، تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں! ایک سیاہ فام مگر کثیر الاولاد عورت میرے نزدیک اس (خوبصورت بانجھ) سے کہیں زیادہ بہتر ہے؛ کیا تمہیں علم نہیں کہ میں قیامت کے دن تمہاری کثرتِ تعداد کی وجہ سے دیگر امتوں پر فخر کروں گا؟ چنانچہ مسلمانوں کی وہ اولاد (جو صغر سنی میں فوت ہوگئی) اپنے آباء کے دامن تھامے ہوئے لائی جائے گی، ان سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ، یہاں تک کہ میں اس ادھورے پیدا ہونے والے بچے (سقط) کو دیکھوں گا جو (اپنے والدین کے بغیر جانے سے انکار کرتے ہوئے) غصے کی حالت میں اڑا بیٹھا ہوگا، تو اس سے کہا جائے گا: تو جنت میں داخل ہو جا! وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میرے والدین کا کیا بنے گا؟ تب اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: تم بھی جنت میں داخل ہو جاؤ اور تمہارے والدین بھی جنت میں داخل ہو جائیں۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1630
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 10344»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ سِيَاهٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُوا الْحَسْنَاءَ الْعَقِيمَ ، وَعَلَيْكُمْ بِالسَّوْدَاءِ الْوَلُودِ ; فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ، حَتَّى السِّقْطُ يَظَلُّ مُحْبَنْطِئًا بِبَابِ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ! فَيَقُولُ : حَتَّى يَدْخُلَ وَالِدَايَ مَعِي ".
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم خوبصورت مگر بانجھ عورت (سے نکاح) کو ترک کر دو اور سانولی (سیاہ فام) مگر کثیر الاولاد عورت کو لازم پکڑو، کیونکہ میں (روزِ قیامت) تمہاری کثرت کی وجہ سے دیگر امتوں پر فخر کروں گا، یہاں تک کہ وہ بچہ جو قبل از وقت (ناتمام) پیدا ہو کر فوت ہو گیا ہو وہ بھی جنت کے دروازے پر اڑ کر (ضد کے ساتھ) ٹھہر جائے گا، پس اس سے کہا جائے گا کہ ’جنت میں داخل ہو جاؤ!‘ تو وہ عرض کرے گا کہ ’ (میں تب تک نہیں جاؤں گا) جب تک میرے والدین بھی میرے ہمراہ داخل نہ ہو جائیں‘۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1631
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5742، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 3392، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3076»
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الطَّحَّانُ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِنِسَائِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ الْوَدُودُ الْوَلُودُ ، الَّتِي إِذَا ظَلَمَتْ أَوْ ظُلِمَتْ قَالَتْ : لَا أَذُوقُ غَمْضًا حَتَّى تَرْضَى ".
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہاری ان عورتوں کی خبر نہ دوں جو جنتی ہیں؟ وہ عورت جو (اپنے شوہر سے) انتہائی محبت کرنے والی اور کثیر الاولاد ہو، اور جو ایسی (صابرہ و صلح جو) ہو کہ اگر اس نے (شوہر پر) کوئی زیادتی کی ہو یا خود اس پر زیادتی ہوئی ہو تو وہ (شوہر کے پاس آ کر) کہتی ہے: «لَا أَذُوقُ غَمْضًا حَتَّى تَرْضَى» یعنی میں اس وقت تک نیند کی لذت نہیں چکھو گی جب تک کہ آپ مجھ سے راضی نہ ہو جائیں۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1632
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5644، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 7663، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3080، 5105»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْمَكْفُوفُ ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَزَوَّجَ فَقَدْ أُعْطِيَ ضِعْفَ الْعِبَادَةِ ".
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے نکاح کر لیا، اسے یقیناً عبادت کی دوچند (دوگنی) فضیلت و سعادت عطا کر دی گئی۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1633
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 7308، 7309»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُغَلِّسِ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَجِيحٍ السُّلَمِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَدَرَ أَنْ يَنْكِحَ ، فَلَمْ يَنْكِحْ - فَلَيْسَ مِنَّا ".
ترجمہ
سیدنا ابو نجیح السلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص نکاح کرنے کی قدرت و استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی نکاح نہ کرے، تو اس کا ہم سے (یعنی ہمارے طریقے اور سنت سے) کوئی تعلق نہیں ہے“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1634
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«أخرجه سنن الدارمي برقم: 2164، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3072/1»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ سَعْدٍ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ فِطْرَتِي فَلْيَسْتَنَّ بِسُنَّتِي ، وَمِنْ سُنَّتِي النِّكَاحُ ".
ترجمہ
سیدنا عبید بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میری فطرت (دینِ فطرت) کو پسند کرتا ہے اسے چاہیے کہ وہ میری سنت کی اتباع کرے، اور یقیناً نکاح کرنا میری سنت کا حصہ ہے“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1635
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده ضعيف. »
«أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1846، وأخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 13448، 13453، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3082/1، وأخرجه السنن الصغير للبيهقي برقم: 2345»
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : " لَا يَتِمُّ نُسُكُ الشَّابِّ حَتَّى يَتَزَوَّجَ ".
ترجمہ
امام طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کسی نوجوان کی عبادت اور زہد و تقویٰ اس وقت تک پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچتا جب تک کہ وہ رشتۂ ازدواج سے منسلک نہ ہو جائے۔“
اس قولِ مبارک سے مراد یہ ہے کہ نوجوانی کے دور میں نفسانی خواہشات اور فتنوں سے بچاؤ کے لیے نکاح ایک مضبوط ڈھال ہے، اور جب تک انسان نکاح کے ذریعے اپنی عفت و پاکدامنی کو محفوظ نہیں کر لیتا، اس کی عبادات میں وہ قلبی جمعیت اور روحانی پختگی پیدا نہیں ہوتی جو مقصودِ بندگی ہے، اسی لیے صالح معاشرے کی تعمیر اور انفرادی تقویٰ کے حصول کے لیے نکاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1636
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده صحيح. »
«أخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 497، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 16159»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، نَبَا زَاجِرُ بْنُ الصَّلْتِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا شَبَابَ قُرَيْشٍ ، لَا تَزْنُوا ; مَنْ سَلِمَ لَهُ شَبَابُهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
ترجمہ
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے قریش کے نوجوانو! بدکاری (زنا) کے مرتکب نہ ہونا؛ یاد رکھو کہ جس شخص کی جوانی (گناہوں کی آلودگی سے) محفوظ رہی وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1637
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 7314، 7315»
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ ، نَبَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : جَاءَ عَطَّافُ بْنُ وَدَاعَةَ الْهِلَالِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَطَّافُ ، أَلَكَ زَوْجَةٌ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " وَلَا جَارِيَةٌ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنْتَ صَحِيحٌ مُوسِرٌ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، الْحَمْدُ لِلهِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَنْتَ إِذًا مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ ; إِمَّا أَنْ تَكُونَ مِنْ رَهْبَانِيَّةِ النَّصَارَى فَأَنْتَ مِنْهُمْ ، وَإِمَّا أَنْ تَكُونَ مِنَّا ، فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ ; فَإِنَّ مِنْ سُنَّتِنَا النِّكَاحَ .
شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ ، وَأَرَاذِلُ أَمْوَاتِكُمْ عُزَّابُكُمْ ; إِنَّ الشَّيْطَانَ مَا لَهُ فِي نَفْسِي سِلَاحٌ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجِينَ ، أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّؤُونَ مِنَ الْخَنَا .
وَيْلَكَ يَا عَطَّافُ ، إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ دَاوُدَ ، وَصَوَاحِبُ أَيُّوبَ ، وَصَوَاحِبُ يُوسُفَ ، وَصَوَاحِبُ كُرْسُفٍ ... الْحَدِيثَ .
وَيْحَكَ يَا عَطَّافُ ، تَزَوَّجْ ; فَإِنَّكَ مِنَ الْمَزِيدِينَ . قَالَ : فَقَالَ عَطَّافٌ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُزَوِّجَنِي مَنْ شِئْتَ . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ زَوَّجْتُكَ عَلَى اسْمِ اللهِ تَعَالَى وَبَرَكَتِهِ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ ".
ترجمہ
حضرت عطیہ بن بسر سے روایت ہے کہ سیدنا عطاف بن وداعہ ہلالی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”اے عطاف! کیا تمہاری کوئی زوجہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اور کیا کوئی لونڈی بھی نہیں ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی نہیں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور تم تندرست اور صاحبِ استطاعت بھی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں «الْحَمْدُ لِلهِ» (تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں)، تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پھر تو تم شیطانوں کے بھائیوں میں سے ہو؛ یا تو تم نصاریٰ کی رہبانیت اختیار کر لو تو تم انہی میں سے شمار ہو گے، اور اگر تم ہم میں سے ہو تو ویسا ہی کرو جیسا ہم کرتے ہیں، کیونکہ نکاح کرنا ہماری سنت میں سے ہے۔
تمہارے برے لوگ وہ ہیں جو کنوارے ہیں، اور تمہارے مردوں میں سب سے کم تر وہ ہیں جو کنوارے مرے؛ بے شک شیطان کے پاس نیک بخت مردوں کے خلاف عورتوں سے بڑھ کر کوئی کاری ہتھیار نہیں ہے سوائے ان کے جو نکاح یافتہ ہیں، کیونکہ وہی لوگ پاکیزہ اور فحش گوئی و بے حیائی سے محفوظ رکھے گئے ہیں۔
اے عطاف! تم پر افسوس، بے شک یہ (عورتیں) سیدنا داؤد، سیدنا ایوب، سیدنا یوسف اور سیدنا کرسف (علیہم السلام) کی رفیقہ ہائے حیات رہی ہیں (یعنی انبیاء نے بھی نکاح کو اپنایا)۔
اے عطاف! تم پر رحمت ہو، نکاح کر لو کیونکہ تم ان لوگوں میں سے ہو جنہیں نسلِ انسانی میں اضافے کا باعث بننا چاہیے۔“ عطاف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس وقت تک نکاح نہیں کروں گا جب تک آپ ﷺ خود جس سے چاہیں میرا نکاح نہ فرما دیں، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کی برکت کے ساتھ «عَلَى اسْمِ اللهِ تَعَالَى وَبَرَكَتِهِ» (اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کی برکت پر) تمہارا نکاح کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1638
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 7297، 7298، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3083»