❮
❯
حدیث نمبر: 1629
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ . وَعَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ ، قَالَا : لَمَّا أُهْدِيَتْ فَاطِمَةُ إِلَى عَلِيٍّ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ : " أَنْ لَا تَقْرَبَ أَهْلَكَ حَتَّى آتِيَكَ " ، قَالَتْ : فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِمَاءٍ . فَقَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ نَضَحَ الْمَاءَ عَلَى صَدْرِ عَلِيٍّ وَوَجْهِهِ ، ثُمَّ دَعَا فَاطِمَةَ فَقَامَتْ تَعْثُرُ فِي ثَوْبِهَا مِنَ الْحَيَاءِ ، فَنَضَحَ عَلَيْهَا أَيْضًا .
ثُمَّ نَظَرَ فَإِذَا سَوَادٌ وَرَاءَ الْبَيْتِ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ : أَنَا ، فَقَالَ : " أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ؟ " ، فَقَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَجِئْتِ مَعَ ابْنَةِ رَسُولِ اللهِ كَرَامَةً لِرَسُولِ اللهِ " ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَدَعَا لِي بِدُعَاءٍ أَنَّهُ لَأَوْلَى عَمَلِي عِنْدِي ، فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ ، إِنِّي لَمْ آلُ أَنْ أَنْكَحْتُ أَحَبَّ أَهْلِي إِلَيَّ " .
ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لِعَلِيٍّ : " دُونَكَ أَهْلَكَ " ، ثُمَّ وَلَّى إِلَى حُجْرَةٍ ، فَمَا زَالَ يَدْعُو لَهُمَا حَتَّى دَخَلَ حَجْرَهُ .
قُلْتُ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، لَكِنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ كَانَتْ فِي هَذَا الْوَقْتِ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مَعَ زَوْجِهَا جَعْفَرٍ ، لَا خِلَافَ فِي ذَلِكَ ، فَلَعَلَّ ذَلِكَ كَانَ لِأُخْتِهَا سَلْمَى بِنْتِ عُمَيْسٍ ، وَهِيَ امْرَأَةُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ .
ترجمہ

حضرت عکرمہ اور حضرت ابویزید المدینی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں رخصت کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ ”اپنی اہلیہ کے قریب نہ جانا جب تک کہ میں تمہارے پاس نہ آ جاؤں“، راویہ بیان کرتی ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا، آپ ﷺ نے اس پر جو اللہ نے چاہا وہ دعا پڑھی اور پھر وہ پانی علی رضی اللہ عنہ کے سینے اور چہرے پر چھڑک دیا، پھر آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا تو وہ شرم و حیا کے باعث اپنے لباس میں الجھتی ہوئی حاضر ہوئیں، آپ ﷺ نے ان پر بھی پانی چھڑکا، پھر آپ ﷺ نے دیکھا تو گھر کے پیچھے ایک سایہ سا نظر آیا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ میں ہوں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اسماء بنتِ عمیس ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم رسول اللہ کی بیٹی کے ساتھ ان کی تکریم و خاطر داری کے لیے آئی ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے لیے ایسی دعا فرمائی جو میرے نزدیک میرے تمام اعمال سے زیادہ قیمتی ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! میں نے تمہارا نکاح اپنے گھر والوں میں سے اس شخص سے کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے“، پھر آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اب اپنی اہلیہ کو سنبھالو“، پھر آپ ﷺ اپنے حجرے کی جانب مڑ گئے اور مسلسل ان دونوں کے لیے دعائیں فرماتے رہے یہاں تک کہ اپنے حجرہ مبارک میں داخل ہو گئے
محقق فرماتے ہیں کہ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں، البتہ اسماء بنتِ عمیس اس وقت بلا اختلاف اپنے شوہر جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سرزمینِ حبشہ میں تھیں، لہٰذا قرینِ قیاس یہی ہے کہ یہ ان کی بہن سلمیٰ بنتِ عمیس ہوں گی جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1629
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، لَكِنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ كَانَتْ فِي هَذَا الْوَقْتِ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مَعَ زَوْجِهَا جَعْفَرٍ ، لَا خِلَافَ فِي ذَلِكَ ، فَلَعَلَّ ذَلِكَ كَانَ لِأُخْتِهَا سَلْمَى بِنْتِ عُمَيْسٍ ، وَهِيَ امْرَأَةُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3932، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 9781، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 365»