المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إدخال الْمَرْأَةِ عَلَى زوجها باب: دلہن کو اس کے شوہر کے پاس رخصت کر کے لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1632
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الطَّحَّانُ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِنِسَائِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ الْوَدُودُ الْوَلُودُ ، الَّتِي إِذَا ظَلَمَتْ أَوْ ظُلِمَتْ قَالَتْ : لَا أَذُوقُ غَمْضًا حَتَّى تَرْضَى ".ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہاری ان عورتوں کی خبر نہ دوں جو جنتی ہیں؟ وہ عورت جو (اپنے شوہر سے) انتہائی محبت کرنے والی اور کثیر الاولاد ہو، اور جو ایسی (صابرہ و صلح جو) ہو کہ اگر اس نے (شوہر پر) کوئی زیادتی کی ہو یا خود اس پر زیادتی ہوئی ہو تو وہ (شوہر کے پاس آ کر) کہتی ہے: «لَا أَذُوقُ غَمْضًا حَتَّى تَرْضَى» یعنی میں اس وقت تک نیند کی لذت نہیں چکھو گی جب تک کہ آپ مجھ سے راضی نہ ہو جائیں۔“