المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إدخال الْمَرْأَةِ عَلَى زوجها باب: دلہن کو اس کے شوہر کے پاس رخصت کر کے لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1636
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : " لَا يَتِمُّ نُسُكُ الشَّابِّ حَتَّى يَتَزَوَّجَ ".ترجمہ
امام طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کسی نوجوان کی عبادت اور زہد و تقویٰ اس وقت تک پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچتا جب تک کہ وہ رشتۂ ازدواج سے منسلک نہ ہو جائے۔“
اس قولِ مبارک سے مراد یہ ہے کہ نوجوانی کے دور میں نفسانی خواہشات اور فتنوں سے بچاؤ کے لیے نکاح ایک مضبوط ڈھال ہے، اور جب تک انسان نکاح کے ذریعے اپنی عفت و پاکدامنی کو محفوظ نہیں کر لیتا، اس کی عبادات میں وہ قلبی جمعیت اور روحانی پختگی پیدا نہیں ہوتی جو مقصودِ بندگی ہے، اسی لیے صالح معاشرے کی تعمیر اور انفرادی تقویٰ کے حصول کے لیے نکاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔