المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إدخال الْمَرْأَةِ عَلَى زوجها باب: دلہن کو اس کے شوہر کے پاس رخصت کر کے لے جانے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ - هُوَ ابْنُ فَرُّوخَ - ثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَةً قَدْ أَعْجَبَتْنِي ، لَا تَلِدُ ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا " ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا .
ثُمَّ تَبِعَتْهَا نَفْسُهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَعْجَبَتْنِي هَذِهِ الْمَرْأَةُ وَنَحْوُهَا ، أَعْجَبَنِي دَلُّهَا وَنَحْوُهَا ، فَأَتَزَوَّجُهَا ؟ قَالَ : " لَا ، امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ وَلُودٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهَا ، أَمَا شَعَرْتَ أَنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَجِيءُ ذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ آخِذِينَ بِحَقْوَيْ آبَائِهِمْ ، فَيُقَالُ لَهُمُ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ ، حَتَّى أَرَى السِّقْطَ مُحْبَنْطِئًا مُتَقَاعِسًا ، فَيُقَالُ لَهُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ! فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَأَبَوَيَّ ؟ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( ادْخُلْ أَنْتَ الْجَنَّةَ ، وَأَبَوَاكَ الْجَنَّةَ ) ".سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک عورت مجھے بہت پسند آئی ہے مگر وہ بانجھ ہے، کیا میں اس سے نکاح کر لوں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں۔“ اس پر وہ شخص رک گیا، لیکن پھر اس کا جی اس عورت کی رغبت میں بے چین ہوا تو وہ دوبارہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! وہ عورت اور اس کا حسن و جمال مجھے بہت پسند ہے، اس کا ناز و انداز اور چال ڈھال مجھے بھاتی ہے، تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں! ایک سیاہ فام مگر کثیر الاولاد عورت میرے نزدیک اس (خوبصورت بانجھ) سے کہیں زیادہ بہتر ہے؛ کیا تمہیں علم نہیں کہ میں قیامت کے دن تمہاری کثرتِ تعداد کی وجہ سے دیگر امتوں پر فخر کروں گا؟ چنانچہ مسلمانوں کی وہ اولاد (جو صغر سنی میں فوت ہوگئی) اپنے آباء کے دامن تھامے ہوئے لائی جائے گی، ان سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ، یہاں تک کہ میں اس ادھورے پیدا ہونے والے بچے (سقط) کو دیکھوں گا جو (اپنے والدین کے بغیر جانے سے انکار کرتے ہوئے) غصے کی حالت میں اڑا بیٹھا ہوگا، تو اس سے کہا جائے گا: تو جنت میں داخل ہو جا! وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میرے والدین کا کیا بنے گا؟ تب اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: تم بھی جنت میں داخل ہو جاؤ اور تمہارے والدین بھی جنت میں داخل ہو جائیں۔“