المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إدخال الْمَرْأَةِ عَلَى زوجها باب: دلہن کو اس کے شوہر کے پاس رخصت کر کے لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1631
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ سِيَاهٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُوا الْحَسْنَاءَ الْعَقِيمَ ، وَعَلَيْكُمْ بِالسَّوْدَاءِ الْوَلُودِ ; فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ، حَتَّى السِّقْطُ يَظَلُّ مُحْبَنْطِئًا بِبَابِ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ! فَيَقُولُ : حَتَّى يَدْخُلَ وَالِدَايَ مَعِي ".ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم خوبصورت مگر بانجھ عورت (سے نکاح) کو ترک کر دو اور سانولی (سیاہ فام) مگر کثیر الاولاد عورت کو لازم پکڑو، کیونکہ میں (روزِ قیامت) تمہاری کثرت کی وجہ سے دیگر امتوں پر فخر کروں گا، یہاں تک کہ وہ بچہ جو قبل از وقت (ناتمام) پیدا ہو کر فوت ہو گیا ہو وہ بھی جنت کے دروازے پر اڑ کر (ضد کے ساتھ) ٹھہر جائے گا، پس اس سے کہا جائے گا کہ ’جنت میں داخل ہو جاؤ!‘ تو وہ عرض کرے گا کہ ’ (میں تب تک نہیں جاؤں گا) جب تک میرے والدین بھی میرے ہمراہ داخل نہ ہو جائیں‘۔“