قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ بُرْدٍ هُوَ ابْنُ سِنَانٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ لَمْ أَدْرِ كَيْفَ أَصْنَعُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهُ فَاسْتَقْبَلْتُهُ ، فَلَمَّا رَآنِي عَرَفَ الَّذِي جِئْتُ لَهُ ، فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ " .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب تیمم کی آیت نازل ہوئی تو میں سمجھ نہ سکا کہ (تیمم) کس طرح کروں، چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تاکہ آپ سے اس بارے میں دریافت کروں، لیکن آپ ﷺ وہاں موجود نہ تھے، پھر میں آپ کی تلاش میں نکلا تو میری آپ ﷺ سے ملاقات ہو گئی، جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو آپ ﷺ سمجھ گئے کہ میں کس مقصد کے لیے حاضر ہوا ہوں، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور پھر اپنے چہرے کا مسح فرمایا۔“
یہ روایت منقطع ہے۔
یہ روایت منقطع ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رِجَالًا أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّا نَاسٌ نَكُونُ بِالرَّمْلِ فَتُصِيبُنَا الْجَنَابَةُ وَفِينَا الْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ ، وَلَا نَجِدُ الْمَاءَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالْأَرْضِ " .
فِيهِ ضَعْفٌ .
فِيهِ ضَعْفٌ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”ہم ایسے لوگ ہیں جو ریگستانی علاقے (ریت) میں رہتے ہیں، پس ہمیں جنابت (غسل کی حاجت) لاحق ہو جاتی ہے، اور ہمارے درمیان حیض اور نفاس والی خواتین بھی ہوتی ہیں، جبکہ ہمیں چار چار ماہ تک پانی میسر نہیں ہوتا (تو ایسی صورت میں ہم کیا کریں)؟“ اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم مٹی کو لازم پکڑو (یعنی تیمم کر لیا کرو)۔“
اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے۔
اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ نَزَلَ الْقَوْمُ ، فَبَصُرَ بِهِمْ رَاعٍ ، فَنَزَلَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ الصَّعِيدَ فَتَيَمَّمَ ، ثُمَّ أَذَّنَ " .
الْحَدِيثُ فِيهِ ضَعْفٌ .
الْحَدِيثُ فِيهِ ضَعْفٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تشریف فرما تھے، پس جب نماز کا وقت ہوا تو تمام لوگ سواریوں سے نیچے اتر گئے، ایک چرواہے نے انہیں دیکھا تو وہ بھی (پہاڑ یا بلندی سے) نیچے اترا، اس نے اپنے ہاتھ پاک مٹی پر مار کر تیمم کیا اور پھر اذان دی“۔
اس حدیث کی سند میں ضعف ہے۔
اس حدیث کی سند میں ضعف ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَرَاقَ الْمَاءَ ، فَتَمَسَّحَ بِالتُّرَابِ . فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّمَا الْمَاءُ مِنْكَ قَرِيبٌ ! فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا يُدْرِينِي لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ " .
ضَعِيفٌ .
ضَعِيفٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حاجتِ شرعیہ سے فراغت کے بعد پانی بہایا (یعنی پیشاب فرمایا)، پھر آپ ﷺ نے مٹی سے مسح (تیمم) فرمایا۔ پس میں نے آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں عرض کی کہ (اے اللہ کے رسول!) پانی تو آپ کے بالکل قریب ہی میسر ہے! تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے کیا خبر، شاید میں اس (پانی) تک نہ پہنچ سکوں (اور اس سے پہلے ہی میری موت کا وقت آ جائے)۔“
یہ روایت ضعیف ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " التَّيَمُّمُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " .
ضَعِيفٌ .
ضَعِيفٌ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہر نماز کی ادائیگی کے وقت (از سرِ نو) تیمم کرنا ہو گا۔“
یہ روایت ضعیف ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ قَابُوسَ هُوَ ابْنُ أَبِي ظِبْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : " أَطْيَبُ الصَّعِيدِ حَرْثُ الْأَرْضِ " .
مَوْقُوفٌ حَسَنٌ .
مَوْقُوفٌ حَسَنٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”روئے زمین کی مٹی میں سے سب سے عمدہ اور بہترین حصہ وہ ہے جسے کاشت کاری کے لیے جوتا گیا ہو (یعنی زراعتی مٹی)۔“
یہ روایت موقوف حسن ہے۔
یہ روایت موقوف حسن ہے۔