المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّيَمُّمِ باب: تیمم کا بیان۔
حدیث نمبر: 155
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ بُرْدٍ هُوَ ابْنُ سِنَانٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ لَمْ أَدْرِ كَيْفَ أَصْنَعُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهُ فَاسْتَقْبَلْتُهُ ، فَلَمَّا رَآنِي عَرَفَ الَّذِي جِئْتُ لَهُ ، فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ " .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب تیمم کی آیت نازل ہوئی تو میں سمجھ نہ سکا کہ (تیمم) کس طرح کروں، چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تاکہ آپ سے اس بارے میں دریافت کروں، لیکن آپ ﷺ وہاں موجود نہ تھے، پھر میں آپ کی تلاش میں نکلا تو میری آپ ﷺ سے ملاقات ہو گئی، جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو آپ ﷺ سمجھ گئے کہ میں کس مقصد کے لیے حاضر ہوا ہوں، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور پھر اپنے چہرے کا مسح فرمایا۔“
یہ روایت منقطع ہے۔