المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّيَمُّمِ باب: تیمم کا بیان۔
حدیث نمبر: 156
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رِجَالًا أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّا نَاسٌ نَكُونُ بِالرَّمْلِ فَتُصِيبُنَا الْجَنَابَةُ وَفِينَا الْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ ، وَلَا نَجِدُ الْمَاءَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالْأَرْضِ " .
فِيهِ ضَعْفٌ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”ہم ایسے لوگ ہیں جو ریگستانی علاقے (ریت) میں رہتے ہیں، پس ہمیں جنابت (غسل کی حاجت) لاحق ہو جاتی ہے، اور ہمارے درمیان حیض اور نفاس والی خواتین بھی ہوتی ہیں، جبکہ ہمیں چار چار ماہ تک پانی میسر نہیں ہوتا (تو ایسی صورت میں ہم کیا کریں)؟“ اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم مٹی کو لازم پکڑو (یعنی تیمم کر لیا کرو)۔“
اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے۔