المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّيَمُّمِ باب: تیمم کا بیان۔
حدیث نمبر: 158
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَرَاقَ الْمَاءَ ، فَتَمَسَّحَ بِالتُّرَابِ . فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّمَا الْمَاءُ مِنْكَ قَرِيبٌ ! فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا يُدْرِينِي لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ " .
ضَعِيفٌ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حاجتِ شرعیہ سے فراغت کے بعد پانی بہایا (یعنی پیشاب فرمایا)، پھر آپ ﷺ نے مٹی سے مسح (تیمم) فرمایا۔ پس میں نے آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں عرض کی کہ (اے اللہ کے رسول!) پانی تو آپ کے بالکل قریب ہی میسر ہے! تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے کیا خبر، شاید میں اس (پانی) تک نہ پہنچ سکوں (اور اس سے پہلے ہی میری موت کا وقت آ جائے)۔“
یہ روایت ضعیف ہے۔