کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: غسل کے وقت پردہ اختیار کرنے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ رَمَضَانَ ، فَقَامَ يَغْتَسِلُ وَسَتَرْتُهُ ، فَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ فِي الْإِنَاءِ ، فَقَالَ : " إِنْ شِئْتَ فَأَرِقْهُ ، وَإِنْ شِئْتَ فَصُبَّ عَلَيْهِ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذِهِ الْفَضْلَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا أَصُبُّ عَلَيْهِ . قَالَ : فَاغْتَسَلْتُ بِهِ ، وَسَتَرَنِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقُلْتُ : لَا تَسْتُرْنِي ! فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ ، سَتَرْتُكَ كَمَا سَتَرْتَنِي " .
جَابِرٌ هُوَ الْجُعْفِيُّ ضَعِيفٌ .
161 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْفِهْرِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَهُ مُطَوَّلًا .
ترجمہ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رمضان کی ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز کے لیے) کھڑا ہوا، پھر آپ ﷺ غسل فرمانے لگے اور میں نے آپ ﷺ کے لیے پردہ کیا، جب آپ ﷺ غسل سے فارغ ہوئے تو برتن میں کچھ پانی بچ گیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اسے بہا دو اور اگر چاہو تو اس میں مزید پانی ڈال لو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ بچا ہوا (استعمال شدہ) پانی مجھے اس (تازہ) پانی سے زیادہ محبوب ہے جو میں اس میں شامل کروں گا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے اس پانی سے غسل کیا اور اس دوران رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے پردہ فرمایا، میں نے (باعثِ احترام) عرض کیا: آپ میرے لیے پردہ نہ فرمائیں! تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیوں نہیں، میں نے تمہارے لیے ویسے ہی پردہ کیا ہے جیسے تم نے میرے لیے پردہ کیا تھا۔“
جابر نامی راوی جعفی ہے جو کہ ضعیف ہے۔
امام حارث نے اپنی سند سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ کا یہی واقعہ تفصیلاً ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الغسل / حدیث: 161
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح وضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر:161/1 إسنادہ ضعیف: جَابِرٌ هُوَ الْجُعْفِيُّ ضَعِيفٌ . 161/2 إسنادہ صحیح »
«أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 772، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 542، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1897، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1007 ، وأبو داود فى «سننه» برقم: 871، 874، والترمذي فى «جامعه» برقم: 262، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 888، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 2595، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23712، ، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 415، 416، والبزار فى «مسنده» برقم: 2921، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 161/2، 578، 585، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 2842، وأخرجه الترمذي فى "الشمائل"، 275، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 4324، 5689»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَغْتَسِلُ إِلَى بَعِيرٍ ، يَعْنِي وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَأَنَا أَسْتُرُ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ ، إِذْ قَالَ لِي : " يَا يَعْلَى ، اصْبُبْ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ ! " . قُلْتُ : أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَعْلَمُ ، قَالَ : " وَاللهِ مَا أَرَى الْمَاءَ يَزِيدُ الشَّعَرَ إِلَّا شَعَثًا " ، قَالَ : " بِسْمِ اللهِ " ، وَأَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ .
ترجمہ
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حالتِ احرام میں اپنے اونٹ کی اوٹ میں غسل فرما رہے تھے اور میں ایک کپڑے کے ذریعے ان کی پردہ پوشی کر رہا تھا، اس دوران انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اے یعلیٰ! میرے سر پر پانی ڈالو۔“ میں نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین زیادہ بہتر جانتے ہیں (کہ آیا احرام میں ایسا کرنا درست ہے یا نہیں)، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ پانی بالوں میں محض بکھراؤ اور پراگندگی ہی پیدا کرتا ہے (یعنی اس سے بال ٹوٹتے نہیں ہیں)۔“ پھر انہوں نے «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ کہا اور اپنے سر مبارک پر پانی بہا لیا۔
اس روایت کی سند صحیح ہے اور اس کی اصل صحیح بخاری (1840) اور صحیح مسلم (1206) میں موجود ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الغسل / حدیث: 162
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده صحيح. »
«أخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 1155، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 9225، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 162»