کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: دنیا سے بے رغبتی کرنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا يُرِيحُ الْقَلْبَ وَالْجَسَدَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ نِزَارٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا سے بے رغبتی ، دل اور جسم کو راحت دیتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن نزار ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال میں سے بعض کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن نزار ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال میں سے بعض کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا تَزَيَّنَ الْأَبْرَارُ فِي الدُّنْيَا بِمِثْلِ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ الشَّاذْكُونِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” نیک لوگ دنیا میں کسی ایسی چیز سے آراستہ نہیں ہوئے ، جو دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے کی مانند ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان شاذ کونی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان شاذ کونی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَزْهَدُ فِي الدُّنْيَا فَادْنُوَا مِنْهُ ; فَإِنَّهُ يَلْقَى الْحِكْمَةَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ دنیا سے بے رغبت ہے ، تو اس کے قریب رہو ، کیونکہ اسے حکمت عطا کی گئی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ فِي بِنِي إِسْرَائِيلَ تَاجِرٌ ، وَكَانَ يُنْقِصُ مَرَّةً ، وَيَزِيدُ أُخْرَى ، فَقَالَ : مَا فِي هَذِهِ التِّجَارَةِ خَيْرٌ ، لَأَلْتَمِسَنَّ تِجَارَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ ، فَبَنَى صَوْمَعَةً وَتَرَهَّبَ فِيهَا [ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ ] " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بنی اسرائیل میں ایک تاجر تھا ، وہ بھی کم ادائیگی کرتا تھا کبھی زیادہ کر دیتا تھا ، اس نے سوچا اس تجارت میں بھلائی نہیں ہے مجھے کوئی ایسی تجارت تلاش کرنی چاہیے ، جو اس سے بہتر ہو ، اس نے ایک عبادت خانہ تعمیر کیا اور اس میں رہبانیت کی زندگی گزارنے لگا ، اس کا نام جریج تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا إِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ ، وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ ، وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِنْكَ بِمَا فِي يَدَيِ اللَّهِ ، وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَصَبْتَ بِهَا أَرْغَبَ مِنْكَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا بَقِيَتْ لَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ : كَانَ صَدُوقًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خبردار ! دنیا سے بے رغبتی کا اختیار کرنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ حلال چیز کو حرام قرار دے دیا جائے ، یا مال کو ضائع کر دیا جائے ، بلکہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ تمہارے نزدیک اس سے زیادہ قابل اعتماد نہیں ہونا چاہیے ، جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور یہ کہ جب تم کسی مصیبت کا شکار ہو جاؤ تو تمہیں اس مصیبت کے ثواب کے حصول کی خاطر اس مصیبت میں دلچسپی ہونی چاہیے کہ کاش مصیبت تمہارے لئے باقی رہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا سے محمد بن مبارک کہتے ہیں : وہ صدوق ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا سے محمد بن مبارک کہتے ہیں : وہ صدوق ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ - قَالَ : " صَلَاحُ أَوَّلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِالزَّهَادَةِ وَالْيَقِينِ ، وَهَلَاكُهَا بِالْبُخْلِ وَالْأَمَلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ” اس امت کے ابتدائی حصے کی بہتری ، دنیا سے بے رغبتی اور یقین کے ذریعے ہو گی ، اور ان کی ہلاکت بخل اور امیدوں کی وجہ سے ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔