حدیث نمبر: 18062
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا إِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ ، وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ ، وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِنْكَ بِمَا فِي يَدَيِ اللَّهِ ، وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَصَبْتَ بِهَا أَرْغَبَ مِنْكَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا بَقِيَتْ لَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ : كَانَ صَدُوقًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خبردار ! دنیا سے بے رغبتی کا اختیار کرنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ حلال چیز کو حرام قرار دے دیا جائے ، یا مال کو ضائع کر دیا جائے ، بلکہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ تمہارے نزدیک اس سے زیادہ قابل اعتماد نہیں ہونا چاہیے ، جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور یہ کہ جب تم کسی مصیبت کا شکار ہو جاؤ تو تمہیں اس مصیبت کے ثواب کے حصول کی خاطر اس مصیبت میں دلچسپی ہونی چاہیے کہ کاش مصیبت تمہارے لئے باقی رہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا سے محمد بن مبارک کہتے ہیں : وہ صدوق ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18062
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف