کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے ، تو اسے دنیا سے بچاتا ہے
حدیث نمبر: 18053
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمَى سَقِيمَهُ الْمَاءَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے یوں بچاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18053
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4296)»
حدیث نمبر: 18054
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَحْمِي أَحَدُكُمْ مَرِيضَهُ الْمَاءَ لِيُشْفَى " . رَوَاهُ أَبُو يُعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن رافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے یوں بچاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے تاکہ وہ شفایاب ہو جائے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18054
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6865)»
حدیث نمبر: 18055
وَعَنْ سَاعِدَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ حُذَيْفَةَ : أَنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ يَقُولُ : مَا مِنْ يَوْمٍ أَقَرَّ لِعَيْنِي وَلَا أَحَبَّ لِنَفْسِي مِنْ يَوْمٍ آتِي أَهْلِي فَلَا أَجِدُ عِنْدَهُمْ طَعَامًا ، وَيَقُولُونَ : مَا نَقْدِرُ عَلَى قَلِيلٍ وَلَا كَثِيرٍ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ أَشَدُّ حَمِيَّةً لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الدُّنْيَا مِنَ الْمَرِيضِ أَهْلُهُ مِنَ الطَّعَامِ ، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَشَدُّ تَعَاهُدًا لِلْمُؤْمِنِ بِالْبَلَاءِ مِنَ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ بِالْخَيْرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ساعده بن سعد بن حذیفہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے : ” کوئی بھی دن میری آنکھوں کے لیے اس دن سے زیادہ ٹھنڈا اور میرے من کے لیے اس دن سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے جس دن میں اپنے گھر آؤں اور میں اپنے گھر والوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ پاؤں ، اور وہ یہ کہیں کہ ہمارے پاس تھوڑی یا زیادہ کوئی چیز نہیں ہے ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ مومن کو دنیا سے اس سے زیادہ سختی سے بچاتا ہے ، جتنا بیمار کے اہل خانہ اسے کھانے سے بچاتے ہیں اور مومن کی آزمائش میں اللہ تعالٰیٰ اس کا اس سے زیادہ خیال رکھتا ہے جتنا والد بھلائی کے ہمراہ اولاد کا خیال رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18055
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3003)»
حدیث نمبر: 18056
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي ، وَيَعْلَمُ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ ، فَأَقْلِلْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ ، وَعَجِّلْ قَبْضَهُ . اللَّهُمَّ وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي وَلَمْ يُصَدِّقْنِي ، وَيَعْلَمْ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ ; فَأَكْثِرْ مَالَهُ ، وَوَلَدَهُ ، وَأَطِلْ عُمْرَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! جو شخص مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کرے اور وہ یہ بات جان لے کہ میں جو لے کے آیا ہوں وہ تیری طرف سے آنے والا حق ہے ، تو اس شخص کے مال اور اولاد کو کم کر دینا اور اسے جلدی موت دے دینا ، اے اللہ ! اور جو شخص مجھ پر ایمان نہ لائے اور میری تصدیق نہ کرے اور وہ یہ بات جانتا ہو کہ میں جو لے کے آیا ہوں وہ تیری طرف سے آنے والا حق ہے ، تو اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر دینا اور اس کی عمر کو طویل کر دینا ۔ “ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18056
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (53/20)»
حدیث نمبر: 18057
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ مَنْ آمَنَ بِكَ ، وَشَهِدَ أَنِّي رَسُولُكَ فَحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ ، وَسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ ، وَأَقْلِلْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا ، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِكَ ، وَيَشْهَدْ أَنِّي رَسُولُكَ فَلَا تُحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ ، وَلَا تُسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ ، وَكَثِّرْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! جو شخص مجھ پر ایمان لائے اور وہ اس بات کی گواہی دے کہ میں تیرا رسول ہوں ، تو اپنی بارگاہ میں حاضری اس کے نزدیک محبوب کر دینا اور اپنے ( تقدیر کے ) فیصلے کو اس کے لیے آسان کر دینا ، اسے دنیا تھوڑی دینا اور جو شخص مجھ پر ایمان نہ لائے اور اس بات کی گواہی نہ دے کہ میں تیرا رسول ہوں ، تو اپنی بارگاہ میں حاضری اس کے نزدیک محبوب نہ کرنا اور اپنے ( تقدیر کے ) فیصلے کو اس کے لیے آسان نہ کرنا اور اسے دنیا بکثرت دینا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18057
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (313/18)»