مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا . باب: دنیا سے بے رغبتی کرنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18061
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ فِي بِنِي إِسْرَائِيلَ تَاجِرٌ ، وَكَانَ يُنْقِصُ مَرَّةً ، وَيَزِيدُ أُخْرَى ، فَقَالَ : مَا فِي هَذِهِ التِّجَارَةِ خَيْرٌ ، لَأَلْتَمِسَنَّ تِجَارَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ ، فَبَنَى صَوْمَعَةً وَتَرَهَّبَ فِيهَا [ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ ] " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بنی اسرائیل میں ایک تاجر تھا ، وہ بھی کم ادائیگی کرتا تھا کبھی زیادہ کر دیتا تھا ، اس نے سوچا اس تجارت میں بھلائی نہیں ہے مجھے کوئی ایسی تجارت تلاش کرنی چاہیے ، جو اس سے بہتر ہو ، اس نے ایک عبادت خانہ تعمیر کیا اور اس میں رہبانیت کی زندگی گزارنے لگا ، اس کا نام جریج تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔