کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ’’ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ “ کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمَلِكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، كُنَّ لَهُ كَعَدْلِ عَشْرِ رَقَبَاتٍ أَوْ رَقَبَةٍ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا فِيمَنْ قَالَهَا عَشْرًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ فِي أَحَدِ الطُّرُقِ : " كَانَ لَهُ كَعَدْلِ عَشْرِ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - " . وَلَمْ يَشُكَّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ الْحَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيَهِمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پڑھے :
«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمَلِكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اُسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
تو یہ کلمات اُس کے لئے 10 غلام آزاد کرنے کی مانند ہوں گے ۔ “ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ان صحابی کے حوالے سے ایک حدیث مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ، اور اس شخص کے بارے میں ہے جو یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے ایک طریق میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہ اُس کے لئے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے 10 غلام آزاد کرنے کی مانند ہو گا ۔ “
اس روایت میں ، انہوں نے راوی کا شک ذکر نہیں کیا ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اور طبرانی کے رجال میں ایک شخص حجاج بن نصیر ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمَلِكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اُسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
تو یہ کلمات اُس کے لئے 10 غلام آزاد کرنے کی مانند ہوں گے ۔ “ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ان صحابی کے حوالے سے ایک حدیث مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ، اور اس شخص کے بارے میں ہے جو یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے ایک طریق میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہ اُس کے لئے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے 10 غلام آزاد کرنے کی مانند ہو گا ۔ “
اس روایت میں ، انہوں نے راوی کا شک ذکر نہیں کیا ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اور طبرانی کے رجال میں ایک شخص حجاج بن نصیر ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، كَانَتْ لَهُ كَعَدْلِ مُحَرَّرٍ أَوْ مُحَرَّرَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ پڑھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اُسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اس کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ تو یہ پڑھنا ، اُس کے لیے ایک غلام ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو غلام آزاد کرنے کی مانند ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خَيْثَمٍ قَالَ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبَعَةَ [ أَنْفُسٍ ] مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " . ¤ فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ بْنِ خَيْثَمٍ : مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ : مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ فَقُلْتُ : مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ : مِنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى فَقُلْتُ : مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ : مِنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ربیع بن خیثم فرماتے ہیں جو شخص یہ پڑھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اُسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اس کے لیے مخصوص ہے ، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو یہ اس کے لیے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں چار غلام آزاد کرنے کی مانند ہو گا ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ربیع بن خیثم سے دریافت کیا : آپ نے یہ روایت کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا عمرو بن میمون سے ، راوی کہتے ہیں : میں عمرو بن میمون کے پاس آیا اور میں نے دریافت کیا : آپ نے
یہ روایت کس سے سنی ہے ، انہوں نے جواب دیا : ابن ابولیلیٰ سے ، میں ابن ابولیلیٰ کے پاس آیا ، میں نے دریافت کیا : آپ نے یہ روایت کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے بتایا : سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ، اور انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ربیع بن خیثم سے دریافت کیا : آپ نے یہ روایت کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا عمرو بن میمون سے ، راوی کہتے ہیں : میں عمرو بن میمون کے پاس آیا اور میں نے دریافت کیا : آپ نے
یہ روایت کس سے سنی ہے ، انہوں نے جواب دیا : ابن ابولیلیٰ سے ، میں ابن ابولیلیٰ کے پاس آیا ، میں نے دریافت کیا : آپ نے یہ روایت کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے بتایا : سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ، اور انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى رَوَاهَا الطَّبَرَانِيُّ : " مَنْ قَالَ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ عَشْرَ مَرَّاتٍ كَانَ لَهُ ذَلِكَ بِعَدْلِ رَقَبَةٍ أَوْ عَشْرِ رِقَابٍ " . عَلَى الشَّكِّ فِيهِمَا . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک دوسری روایت جس کو امام طبرانی نے نقل کیا ہے اس میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص ایک مرتبہ ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ دس مرتبہ یہ کلمات پڑھ لیتا ہے ، تو یہ اُس کے لئے ایک غلام آزاد کرنے ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں ) ۔ دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہوتا ہے ۔ “ ان دونوں الفاظ کے بارے میں ، راوی کو شک ہے ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ وَرِقٍ ، أَوْ مَنِيحَةَ لَبَنٍ ، أَوْ هَدَى زُقَاقًا ، فَهُوَ كَعِتْقِ نَسَمَةٍ . وَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، فَهُوَ كَعِتْقِ نَسَمَةٍ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص عطیہ کے طور پر کچھ چاندی دیتا ہے ، یا دودھ دیتا ہے ، یا مشکیزہ دیتا ہے تو یہ ایک جان کو آزاد کرنے کی مانند ہے ، اور جو شخص یہ کلمات پڑھ لیتا ہے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اُسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اُسی کے لیے مخصوص ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ تو یہ غلام کو آزاد کرنے کی مانند ہو گا ۔ “
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ ، كَانَ لَهُ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ نَسَمَةٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ التَّهْلِيلِ وَثَوَابِهِ . ¤ رَوَاهُمَا أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جو شخص یہ کلمات پڑھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اُسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ جو شخص دس مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے گا ، تو یہ اس کے لئے ایک غلام آزاد کرنے کی مانند ہو گا ۔ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں «لا اله الا الله» پڑھنے اور اس کے ثواب کا ذکر ہے ۔ یہ دونوں روایات امام أحمد میں نقل کی ہیں ، اور دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں «لا اله الا الله» پڑھنے اور اس کے ثواب کا ذکر ہے ۔ یہ دونوں روایات امام أحمد میں نقل کی ہیں ، اور دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَمْ يَسْبِقْهَا عَمَلٌ ، وَلَمْ يَبْقَ مَعَهَا سَيِّئَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمُ بْنُ عُثْمَانَ الطَّائِيُّ ، ثُمَّ الْفَوْزِيُّ : أَبُو عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ كَمَا فِي الْمِيزَانِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ سُلَيْمَانَ بْنِ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، فَإِنْ وُجِدَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُهُ اعْتُبِرَ حَدِيثُهُ ، وَيَلْزَقُ بِهِ مَا يَتَسَاهَلُ مِنْ جَرْحٍ أَوْ تَعْدِيلٍ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَقَالَ : عَنْ أَبِيهِ ، وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، وَأَبُو عُتْبَةَ : أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْفَرَجِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَعِنْدَهُ عَجَائِبُ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ ثَلَاثَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پڑھ لے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اُسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اس کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” تو کوئی بھی عمل اُس سے سبقت نہیں لے جائے گا ، اور اس کے ہمراہ کوئی گناہ باقی نہیں رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیم بن عثمان طائی فوزی ، ابوعثمان حمصی ہے ، جیسا کہ ” میزان الاعتدال “ میں مذکور ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس کے حافظے کے حوالے سے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ کہا: ہے : اس کے حوالے سے سلیمان بن سلمہ خبائری کے علاوہ کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، اور یہ راوی ضعیف ہے ، اگر اس کے علاوہ اس سے روایت کرنے والا کوئی راوی مل جاتا ہے تو پھر اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا اور اس کو ان لوگوں کے ساتھ ملا دیا جائے گا ، جن پر جرح یا تعدیل کے حوالے سے تساہل سے کام لیا جاتا ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : اس نے اپنے والد سے روایات نقل کی ہیں اور اس سے محمد بن عوف اور ابوعتبہ أحمد بن فرج نے روایات نقل کی ہیں اور یہ راوی مجہول ہے ، اس نے عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں ، اس سے تین افراد نے روایات نقل کی ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیم بن عثمان طائی فوزی ، ابوعثمان حمصی ہے ، جیسا کہ ” میزان الاعتدال “ میں مذکور ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس کے حافظے کے حوالے سے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ کہا: ہے : اس کے حوالے سے سلیمان بن سلمہ خبائری کے علاوہ کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، اور یہ راوی ضعیف ہے ، اگر اس کے علاوہ اس سے روایت کرنے والا کوئی راوی مل جاتا ہے تو پھر اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا اور اس کو ان لوگوں کے ساتھ ملا دیا جائے گا ، جن پر جرح یا تعدیل کے حوالے سے تساہل سے کام لیا جاتا ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : اس نے اپنے والد سے روایات نقل کی ہیں اور اس سے محمد بن عوف اور ابوعتبہ أحمد بن فرج نے روایات نقل کی ہیں اور یہ راوی مجہول ہے ، اس نے عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں ، اس سے تین افراد نے روایات نقل کی ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا يُرِيدُ بِهَا إِلَّا وَجْهَ اللَّهِ ، أَدْخَلَهُ بِهَا جَنَّاتِ النَّعِيمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر بیا تا بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم سلیم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص یہ پڑھتا ہے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں آئے گی ، بھلائی اُسی کے دست قدرت میں ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اسے پڑھتا ہے ، تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل کر دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اسے پڑھتا ہے ، تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل کر دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، كُتِبَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص یہ پڑھتا ہے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ “ تو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے اتنی ، اتنی نیکیاں نوٹ کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، أَحَدٌ صَمَدٌ ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فَائِدُ أَبُو الْوَرْقَاءِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ پڑھتا ہے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، أَحَدٌ صَمَدٌ ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، وہ یکتا ہے ، بے نیاز ہے ، اس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور نہ ہی اُسے جنم دیا گیا ، اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے دو ہزار ، ہزار نیکیاں نوٹ کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ابوالورقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ابوالورقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔