مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ . باب: ’’ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ “ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَمْ يَسْبِقْهَا عَمَلٌ ، وَلَمْ يَبْقَ مَعَهَا سَيِّئَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمُ بْنُ عُثْمَانَ الطَّائِيُّ ، ثُمَّ الْفَوْزِيُّ : أَبُو عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ كَمَا فِي الْمِيزَانِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ سُلَيْمَانَ بْنِ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، فَإِنْ وُجِدَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُهُ اعْتُبِرَ حَدِيثُهُ ، وَيَلْزَقُ بِهِ مَا يَتَسَاهَلُ مِنْ جَرْحٍ أَوْ تَعْدِيلٍ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَقَالَ : عَنْ أَبِيهِ ، وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، وَأَبُو عُتْبَةَ : أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْفَرَجِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَعِنْدَهُ عَجَائِبُ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ ثَلَاثَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پڑھ لے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اُسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اس کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” تو کوئی بھی عمل اُس سے سبقت نہیں لے جائے گا ، اور اس کے ہمراہ کوئی گناہ باقی نہیں رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیم بن عثمان طائی فوزی ، ابوعثمان حمصی ہے ، جیسا کہ ” میزان الاعتدال “ میں مذکور ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس کے حافظے کے حوالے سے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ کہا: ہے : اس کے حوالے سے سلیمان بن سلمہ خبائری کے علاوہ کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، اور یہ راوی ضعیف ہے ، اگر اس کے علاوہ اس سے روایت کرنے والا کوئی راوی مل جاتا ہے تو پھر اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا اور اس کو ان لوگوں کے ساتھ ملا دیا جائے گا ، جن پر جرح یا تعدیل کے حوالے سے تساہل سے کام لیا جاتا ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : اس نے اپنے والد سے روایات نقل کی ہیں اور اس سے محمد بن عوف اور ابوعتبہ أحمد بن فرج نے روایات نقل کی ہیں اور یہ راوی مجہول ہے ، اس نے عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں ، اس سے تین افراد نے روایات نقل کی ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔