مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ . باب: ’’ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ “ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ ، كَانَ لَهُ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ نَسَمَةٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ التَّهْلِيلِ وَثَوَابِهِ . ¤ رَوَاهُمَا أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جو شخص یہ کلمات پڑھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اُسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ جو شخص دس مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے گا ، تو یہ اس کے لئے ایک غلام آزاد کرنے کی مانند ہو گا ۔ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں «لا اله الا الله» پڑھنے اور اس کے ثواب کا ذکر ہے ۔ یہ دونوں روایات امام أحمد میں نقل کی ہیں ، اور دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔