کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ’’ لا الہ الا اللہ “ کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16797
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَأَتْبِعْهَا حَسَنَةً تَمْحُهَا " . ¤ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِنَ الْحَسَنَاتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ قَالَ : " هِيَ أَفْضَلُ الْحَسَنَاتِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ شِمْرَ بْنَ عَطِيَّةَ حَدَّثَ بِهِ عَنْ أَشْيَاخِهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجیے ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم کوئی برائی کرو ، تو اُس کے بعد اچھائی کر لو ، وہ ( یعنی اچھائی ) اُسے ( یعنی برائی ) کو مٹا دے گی ۔ “ راوی کہتے ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ” لا الہ الا اللہ “ نیکیوں میں سے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ سب سے زیادہ فضیلت والی نیکی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، البتہ شمر بن عطیہ نامی راوی نے
یہ روایت اپنے اساتذہ کے حوالے سے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اس نے اپنے اساتذہ میں سے کسی کا نام ذکر نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16797
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (169/5)»
حدیث نمبر: 16798
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ - وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ حَاضِرٌ يُصَدِّقُهُ - قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَلْ فِيكُمْ غَرِيبٌ ؟ " - يَعْنِي أَهْلَ الْكِتَابِ - قُلْنَا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ وَقَالَ : " ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ وَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . فَرَفَعْنَا أَيْدِينَا سَاعَةً ، [ ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ ] ، ثُمَّ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ بَعَثْتَنِي بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ ، وَأَمَرْتَنِي بِهَا ، وَوَعَدْتَنِي عَلَيْهَا الْجَنَّةَ ، وَإِنَّكَ لَا تُخَلِفُ الْمِيعَادَ " . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاشِدُ بْنُ دَاوُدَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یعلیٰ بن شداد بیان کرتے ہیں : میرے والد سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی : اُس وقت سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے ، اور انہوں نے میرے والد کی بات کی تصدیق کی ، وہ بیان کرتے ہیں : ” ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے درمیان کوئی اجنبی موجود ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کر دینے کا حکم دیا اور پھر ارشاد فرمایا : ” تم اپنے ہاتھ بلند کرو ! اور ” لا الہ الا اللہ “ پڑھو !“ ہم نے کچھ دیر اپنے ہاتھ بلند کئے رکھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک نیچے کر لیا اور پھر یہ فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، اے اللہ ! تو نے مجھے اس کلمہ کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اور تو نے مجھے اس کے بارے میں حکم دیا ہے ، اور تو نے میرے ساتھ اس کے حوالے سے جنت کا وعدہ کیا ہے ، بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ خوشخبری حاصل کرو ! کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی راشد بن داؤد ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16798
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (10) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7163) اخرجه احمد فى المسند (124/4)»
حدیث نمبر: 16799
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " جَدِّدُوا إِيمَانَكُمْ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ نُجَدِّدُ إِيمَانَنَا ؟ ! قَالَ : " أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ اپنے ایمان کی تجدید کرو ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کثرت کے ساتھ ” لا الہ الا اللہ “ پڑھو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16799
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (351/2)»
حدیث نمبر: 16800
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكْثِرُوا مِنْ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَبْلَ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ضِمَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کثرت کے ساتھ اس بات کی گواہی دو ! کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس سے پہلے کہ تمہارے اور اس کے درمیان ( موت کی ) رکاوٹ آ جائے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ضمام بن اسماعیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16800
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6147)»
حدیث نمبر: 16801
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، إِلَّا أَنَّ شَهْرًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” جنت کی کنجیاں اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ شہر نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16801
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (242/5)»
حدیث نمبر: 16802
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : يَا رَبِّ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ وَأَدْعُوكَ بِهِ ، قَالَ : قُلْ يَا مُوسَى : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : كُلُّ عِبَادِكَ يَقُولُ هَذَا ! قَالَ : قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، إِنَّمَا أُرِيدُ شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ ، قَالَ : يَا مُوسَى ، لَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَعَامِرَهُنَّ غَيْرِي وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ فِي كِفَّةٍ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ ، مَالَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِيهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو مجھے ایسی چیز کا علم عطا فرما ! کہ میں تیرا ذکر کروں اور اُس کے حوالے سے تجھ سے دعا کروں ، تو پروردگار نے فرمایا : اے موسیٰ ! تم «لا اله الا الله» پڑھو ! سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : تیرے تمام بندے یہ پڑھتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم «لا اله الا الله» پڑھو ! سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں کوئی ایسی چیز حاصل کرنا چاہتا ہوں ، جو تو بطور خاص مجھے عطا فرمائے ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے موسیٰ ! اگر ساتوں آسمان اور میرے علاوہ ، اُن میں جتنے آباد کرنے والے ہیں ( یعنی جتنی مخلوق ہے ) اور سات زمینیں ، ان سب کو اگر ایک پلڑے میں رکھا جائے ، اور «لا اله الا الله» کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے ، تو «لا اله الا الله» والا پلڑا بھاری ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16802
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1393)»
حدیث نمبر: 16803
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا طَمَسَتْ مَا فِي الصَّحِيفَةِ مِنَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى تَسْكُنَ إِلَى مِثْلِهَا مِنَ الْحَسَنَاتِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص رات یا دن کے کسی بھی حصے میں «لا اله الا الله» پڑھ لیتا ہے ، تو اس کے صحیفے میں موجود گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ اتنی ہی نیکیاں نوٹ کر لی جاتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن زہری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16803
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3611)»
حدیث نمبر: 16804
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - عَمُودًا مِنْ نُورٍ بَيْنَ يَدَيِ الْعَرْشِ ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اهْتَزَّ ذَلِكَ الْعَمُودُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : اسْكُنْ ، فَيَقُولُ : كَيْفَ أَسْكُنُ وَلَمْ تَغْفِرْ لِقَائِلِهَا ؟ فَيَقُولُ : إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ ، فَيَسْكُنُ عِنْدَ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے عرش کے آگے ، نور کا ایک ستون بنایا ہے ، جب کوئی بندہ «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» پڑھتا ہے تو وہ ستون ہلنے لگتا ہے ، اللہ تعالیٰ اُس سے فرماتا ہے ، تم ٹھہر جاؤ ! تو وہ عرض کرتا ہے : میں کیسے ٹھہر جاؤں ؟ جبکہ تو نے اس کو پڑھنے والے کی مغفرت نہیں کی ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے اُس کی مغفرت کر دی ہے ، تو اس وقت وہ ستون ٹھہر جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم بن ابوعمرو ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16804
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3066)»
حدیث نمبر: 16805
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُوضَعُ الْمَوَازِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ فَيُوضَعُ فِي كِفَّةٍ ، وَيُوضَعُ مَا أُحْصِيَ عَلَيْهِ فِي كِفَّةٍ ، فَيَتَمَايَلُ بِهِ الْمِيزَانُ ، فَيُبْعَثُ بِهِ إِلَى النَّارِ " . قَالَ : " فَإِذَا أَدْبَرَ بِهِ إِذَا صَائِحٌ يَصِيحُ مِنْ عِنْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ : لَا تُعَجِّلُوا لَا تُعَجِّلُوا فَإِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَهُ ، فَيُؤْتَى بِبِطَاقَةٍ فِيهَا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَتُوضَعُ مَعَ الرَّجُلِ فِي كِفَّةٍ حَتَّى يَمِيلَ بِهِ الْمِيزَانُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن میزان رکھے جائیں گے ، ایک شخص کو لایا جائے گا اور اُسے ایک پلڑے میں رکھا جائے گا ، اور اس کے خلاف جو کچھ ہو گا اُسے شمار کر کے دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا ، تو وہ ( گناہوں والا ) پلڑا بھاری ہو جائے گا ، اس شخص کو جہنم کی طرف بھیجا جائے گا ، جب وہ اُس طرف بڑھے گا تو اسی دوران ” رحمن “ کی طرف سے کوئی کہنے والا بلند آواز میں مخاطب ہو کر کہے گا : تم جلدی نہ کرو ! تم جلدی نہ کرو ! کیونکہ اس کے حق میں ایک چیز باقی ہے ، پھر ایک کاغذ لایا جائے گا جس میں «لا اله الا الله» لکھا ہوا ہو گا ، اُس کو آدمی کے ساتھ اُس کے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اُس کا ( نیکیوں والا ) پلڑا بھاری ہو جائے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16805
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7066)»
حدیث نمبر: 16806
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِكُلِّ شَيْءٍ مِفْتَاحٌ ، وَمِفْتَاحُ السَّمَاوَاتِ قَوْلُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر چیز کی کوئی کنجی ہوتی ہے اور آسمانوں کی کنجی «لا اله الا الله» پڑھنا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اغلب بن تمیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16806
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (215/20)»
حدیث نمبر: 16807
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ عَلَى أَهْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْشَةٌ فِي قُبُورِهِمْ ، وَلَا مَنْشَرِهِمْ ، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَهُمْ يَنْفُضُونَ التُّرَابَ عَنْ رُءُوسِهِمْ ، وَيَقُولُونَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبُ عَنَّا الْحَزَنَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : «لا إله إلا الله» والوں پر قبر میں ، اور جب انہیں ( قیامت کے دن ) دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، اس وقت وحشت طاری نہیں ہو گی ، میں گویا اس وقت بھی «لا اله الا الله» والوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سروں سے مٹی جھاڑ رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہم سے پریشانی کو دور کر دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16807
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف ۔,قال الهيثمي: وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَفِي الْأُخْرَى مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ .
حدیث نمبر: 16808
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَيْسَ عَلَى أَهْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْشَةٌ عِنْدَ الْمَوْتِ ، وَلَا عِنْدَ الْقَبْرِ " . ¤ وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَفِي الْأُخْرَى مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : «لا اله الا الله» والوں پر موت کے وقت اور قبر میں وحشت نہیں ہو گی ۔ “ پہلی روایت میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور دوسری میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16808
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16809
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ " . فَقَالَ : لَا . وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا فَعَلْتُ ، قَالَ : " بَلَى . قَدْ فَعَلْتَ ، وَلَكِنْ غُفِرَ لَكَ بِالْإِخْلَاصِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت کیا : کیا تم نے فلاں فلاں کام ( یعنی گناہ کا کام ) کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، یا رسول اللہ ! میں نے وہ نہیں کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم نے وہ کیا ہے ، لیکن اخلاص ( یعنی کلمہ توحید پڑھنے ) کی وجہ سے تمہاری مغفرت ہو گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16809
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5361)»
حدیث نمبر: 16810
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ فَعَلَ ، وَلَكِنْ قَدْ غُفِرَ لَهُ بِقَوْلِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ قَالَ : لَمْ يَسْمَعْ ثَابِتٌ هَذَا مِنِ ابْنِ عُمَرَ بَيْنَهُمَا رَجُلٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا : اس شخص نے ایسا کیا ہے ، لیکن اس کے «لا اله الا الله» پڑھنے کی وجہ سے اس کی مغفرت ہو گئی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ حماد بن سلمہ یہ کہتے ہیں : ثابت نے
یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے نہیں سنی ہے ، ان دونوں کے درمیان کوئی اور فرد ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16810
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5690) اخرجه احمد فى المسند (6102)»
حدیث نمبر: 16811
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اخْتَصَمَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلَانِ ، فَوَقَعَتِ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عِنْدِي شَيْءٌ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهُ كَاذِبٌ ، إِنَّ لَهُ عِنْدَهُ حَقَّةً ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ ، وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ مَعْرِفَتُهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ شَهَادَتُهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے اپنا مقدمہ پیش کیا ، اُن میں سے ایک پر قسم اُٹھانا لازم ہوا ، تو اس نے اُس اللہ کے نام کا حلف اٹھایا ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور یہ کہا: کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : یہ جھوٹ بول رہا ہے ، اس کے ذمہ لازم ادائیگی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یہ حکم دیا کہ وہ اس ادائیگی کو کرے ، اور اس کی قسم کا کفارہ یہ ہے کہ وہ یہ بات جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ اُس نے اس بات کی گواہی دی ہے ( یعنی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ) ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عطا بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16811
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (253/1)»
حدیث نمبر: 16812
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا فُلَانُ ، فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ " . قَالَ : لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا فَعَلْتُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ فَعَلَهُ ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ مِرَارًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُفِّرَ عَنْكَ بِتَصْدِيقِكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " كَفَّرَ اللَّهُ عَنْكَ كَذِبَكَ بِتَصْدِيقِكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے فلاں ! کیا تم نے اس ، اس طرح کا کام کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں نے ایسا نہیں کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے تھے کہ اُس نے ایسا کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے چند مرتبہ یہ بات دہرائی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے «لا اله الا الله» کی تصدیق کرنے کی وجہ سے تمہارا یہ گناہ معاف ہو گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تمہارے « لا اله الا الله» کی تصدیق کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے جھوٹ کو تم سے دور کر دیا ہے ( یعنی اُسے معاف کر دیا ہے ) ۔ “ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16812
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3068)»
حدیث نمبر: 16813
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ رَجُلًا حَلَفَ [ بِاللَّهِ ] الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كَاذِبًا فَغُفِرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ” ایک شخص نے اس اللہ کے نام کا جھوٹا حلف اُٹھایا ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، لیکن اُس کی مغفرت ہو گئی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16813
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 16814
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَرَكْتُ حَاجَةً وَلَا دَاجَّةً إِلَّا [ قَدْ ] أَتَيْتُ ، قَالَ : " أَلَيْسَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ " - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " ذَاكَ يَأْتِي عَلَى ذَاكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا طُرُقٌ فِي الْإِيمَانِ فِي بَابِ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ہر قسم کی برائی کا ارتکاب کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ؟ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دریافت کی ، اُس نے عرض کی : جی ہاں ! ( یعنی میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اس پر آ جائے گا ۔ “ ( یعنی یہ گواہی تمہارے ان گناہوں کو ختم کر دے گی ) ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق ، کتاب الایمان میں ، اس باب میں گزر چکے ہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے کی چیزوں ( یعنی گناہوں ) کو ختم کر دیتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16814
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1025) اخرجه البزار فى المسند (3067) اخرجه أبو يعلى فى المسند (3433)»
حدیث نمبر: 16815
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي . فَقَالَ : " أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ ، أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صَادِقًا بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُبَشِّرُ النَّاسَ ، فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا يَتَّكِلُ النَّاسُ ! فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِي الْإِيمَانِ ، فِي بَابِ مَنْ شَهْدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرے ساتھ میری قوم کے کچھ افراد تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یہ خوشخبری حاصل کرو اور اپنے پیچھے موجود لوگوں کو بھی یہ خوشخبری سنا دو ! کہ جو شخص اس بات کی سچی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلئے تاکہ ہم لوگوں کو خوشخبری سنائیں ، ہماری ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، وہ ہمیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسی صورت میں لوگ اسی بات پر اکتفاء کر لیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ اس روایت کے مختلف طرق اس سے پہلے ، کتاب الایمان میں ، باب ، جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16815
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (402/4)»
حدیث نمبر: 16816
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِوَصِيَّةِ نُوحٍ ابْنَهُ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " أَوْصَى نُوحٌ ابْنَهُ فَقَالَ لِابْنِهِ : يَا بُنَيَّ ، إِنِّي أُوصِيكَ بِاثْنَتَيْنِ ، وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ . أُوصِيكَ بِقَوْلِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; فَإِنَّهَا لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَوُضِعَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ فِي كِفَّةٍ لَرَجَحَتْ بِهِنَّ ، وَلَوْ كَانَتْ حَلْقَةً لَقَصَمَتْهُنَّ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَى اللَّهِ . وَبُقُولِ : سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ; فَإِنَّهَا عِبَادَةُ الْخَلْقِ ، وَبِهَا تُقْطَعُ أَرْزَاقُهُمْ . وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ : الشِّرْكُ وَالْكِبْرُ ; فَإِنَّهُمَا يَحْجُبَانِ عَنِ اللَّهِ " . ¤ قَالَ : فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَتَّخِذَ الرَّجُلُ الطَّعَامَ فَيَكُونُ عَلَيْهِ الْجَمَاعَةُ ؟ أَوْ يَلْبَسُ النَّظِيفَ ؟ قَالَ : " لَيْسَ [ ذَاكَ ] - يَعْنِي بِالْكِبْرِ - إِنَّمَا الْكِبْرُ أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ وَتَغْمِصَ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي الْوَصَايَا فِي وَصِيَّةِ نُوحٍ - عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ السَّلَامُ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کو سیدنا نوح علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو کی گئی وصیت کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے ، اپنے بیٹے سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میں تمہیں دو باتوں کی تلقین کرتا ہوں اور میں تمہیں دو چیزوں سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہوں ، میں تمہیں یہ تلقین کرتا ہوں کہ ” لا الہ الا اللہ “ پڑھو ! کیونکہ اگر اس کو میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور آسمانوں اور زمین کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو اس کا پلڑا بھاری ہو گا اور اگر کوئی حلقہ موجود ہو ، تو یہ اس کو چیر کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ جائے گا اور تم ” سبحان الله العظيم و بحمدہ “ پڑھو ! کیونکہ یہ مخلوق کی عبادت ہے اور اسی کی وجہ سے اُن کا رزق تقسیم ہوتا ہے ، اور میں تمہیں دو چیزوں سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہوں ، شرک اور تکبر ، کیونکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ سے دور کر دیتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا یہ چیز تکبر میں داخل ہو گی ؟ کہ آدمی کھانا لائے اور اس پر ایک جماعت کھانے والی آ جائے ، یا آدمی صاف ستھرا لباس پہنے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ نہیں ہے ( یعنی تکبر نہیں ہے ) تکبر یہ ہے کہ تم حق سے روگردانی کرو اور لوگوں کو حقیر سمجھو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ ” مدلس “ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الوصایا میں ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے جو سیدنا نوح علیہ السلام کی وصیت کے بارے میں ہے ، ہمارے نبی پر اور ان پر سلام ہو !
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16816
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3069)»
حدیث نمبر: 16817
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنَ الذِّكْرِ أَفْضَلُ مَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا مِنَ الدُّعَاءِ [ أَفْضَلُ مَنْ ] أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ " . ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْإِفْرِيقِيُّ وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی بھی ذکر ” لا الہ الا الله “ سے افضل نہیں ہے ، اور کوئی بھی دعا ” استغفراللہ “ سے افضل نہیں ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” تم یہ بات جان لو ! کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور تم اپنے ذنب کے لیے اور مؤمن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے دعائے مغفرت کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں افریقی اور دیگر ضعیف راوی موجود ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16817
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف