کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت اشج رضی اللہ عنہ اور انک ے ساتھیوں کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ الْأَشَجُّ بْنُ عَصَرٍ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ فِيكَ لَخُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - " . قُلْتُ : مَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْحِلْمُ ، وَالْأَنَاةُ " . قُلْتُ : أَقَدِيمًا كَانَا [ فِي ] أَمْ حَدِيثًا ؟ قَالَ : " [ بَلْ ] قَدِيمًا " . قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي بَكْرَةَ لَمْ يُدْرِكِ الْأَشَجَّ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابوبکرہ بیان کرتے ہیں : سیدنا اشج بن عصر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تمہارے اندر دو عادتیں ہیں ، اُن دونوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بردباری کرنا اور جلدبازی نہ کرنا ، میں نے عرض کی : کیا یہ شروع سے میرے اندر ہیں ؟ یا بعد میں میرے اندر پیدا ہوئی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ یہ قدیمی ہیں ، میں نے عرض کی : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے دو ایسی عادتیں عطا کی ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اُن دونوں کو پسند کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نے سیدنا اشج رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16058
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (6848) اخرجه احمد فى المسند (205/4)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ : " إِنَّكَ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ : الْحِلْمُ ، وَالْأَنَاةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نُعَيْمِ بْنِ يَعْقُوبَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقٍ حَسَنَةِ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس قبیلے کے ” اشج“ سے ارشاد فرمایا : تمہارے اندر دو خصوصیات ہیں کہ اللہ اور اُس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے محبت کرتے ہیں ، بردباری کرنا اور جلدبازی نہ کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو طریقوں سے نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نعیم بن یعقوب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ،
یہ روایت انہوں نے معجم اوسط میں ایسے طریق کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16059
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12969)»
وَعَنْ مَزْبَدَةَ جَدِّ هُودٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ إِذْ قَالَ : " يَطْلَعُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَكْبٌ مِنْ خَيْرِ أَهْلِ الْمَشْرِقِ " . فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَتَوَجَّهَ فِي ذَلِكَ الْوَجْهِ ، فَلَقِيَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَاكِبًا ، فَرَحَّبَ وَقَرَّبَ ، وَقَالَ : مَنِ الْقَوْمُ ؟ قَالُوا : قَوْمٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ : فَمَا أَقْدَمَكُمْ لِهَذِهِ الْبِلَادِ ؟ التِّجَارَةُ ؟ قَالُوا : لَا . قَالَ : فَتَبِيعُونَ سُيُوفَكُمْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : لَا . قَالَ : فَلَعَلَّكُمْ إِنَّمَا قَدِمْتُمْ فِي طَلَبِ هَذَا الرَّجُلِ ؟ قَالُوا : أَجَلْ ، فَمَشَى مَعَهُمْ يُحَدِّثُهُمْ حَتَّى نَظَرَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَذَا صَاحِبُكُمُ الَّذِي تَطْلُبُونَ " . فَرَمَى الْقَوْمُ بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ رَوَاحِلِهِمْ ، فَمِنْهُمْ مَنْ سَعَى سَعْيًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ هَرْوَلَ هَرْوَلَةً ، وَمِنْهُمْ مَنْ مَشَى حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذُوا بِيَدِهِ يُقَبِّلُونَهَا وَقَعَدُوا إِلَيْهِ ، وَبَقِيَ الْأَشَجُّ - وَهُوَ أَصْغَرُ الْقَوْمِ - فَأَنَاخَ الْإِبِلَ وَعَقَلَهَا وَجَمَعَ [مَتَاعَ ] الْقَوْمِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي عَلَى تُؤَدَةٍ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَقَبَّلَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ : وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْأَنَاةُ ، وَالتُّؤَدَةُ " . قَالَ : أَجَبْلًا جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَوْ تَخَلُّقًا مِنِّي ؟ قَالَ : " بَلْ جَبْلٌ " . قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . وَأَقْبَلَ الْقَوْمُ قِبَلَ تَمَرَاتٍ لَهُمْ يَأْكُلُونَهَا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَمِّي لَهُمْ هَذَا كَذَا وَهَذَا كَذَا قَالُوا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَحْنُ بِأَعْلَمَ بِأَسْمَائِهَا مِنْكَ قَالَ : " أَجَلْ " . فَقَالُوا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ : أَطْعِمْنَا مِنْ بَقِيَّةِ الَّذِي بَقِيَ مِنْ نَوْطِكَ ، فَقَامَ فَأَتَاهُ بِالْبَرْنِيِّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا الْبَرْنِيُّ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ تَمَرَاتِكُمْ ، إِنَّمَا هُوَ دَوَاءٌ لَا دَاءَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
ہود عبدی کے دادا سیدنا مزیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، اسی دوران آپ نے ارشاد فرمایا : اس راستے سے تمہارے سامنے اہل مشرق کے بہترین سوار آئیں گے ، راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور اس طرف چل پڑے ، ان کی ملاقات تیرہ سواروں سے ہوئی ، انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا: اور دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ انہوں نے بتایا : عبدالقیس قبیلے سے ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم یہاں کس لیے آئے ہو ؟ تجارت کے سلسلے میں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم اپنی یہ تلواریں فروخت کرنے کے لئے آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر شاید تم لوگ اُن صاحب سے ملنے کے لئے آئے ہو ، ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے اور ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ جب اُن کی نظر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی ، تو انہوں نے فرمایا : یہ تمہارے متعلقہ فرد ہیں جن کی تمہیں تلاش تھی ، تو وہ لوگ اپنی سواریوں سے تیزی سے اُترے ، ان میں سے کوئی تیزی سے چلتا ہوا ، کوئی دوڑتا ہوا ، کوئی عام رفتار سے چلتا ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا ، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اسے بوسہ دینا شروع کیا اور آپ کے پاس بیٹھ گئے ، صرف اشج باقی رہ گئے ، جو اُن لوگوں میں سب سے کم عمر تھے ، انہوں نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اسے باندھا ، تمام لوگوں کا ساز و سامان اکٹھا کیا ، پھر آرام سے چلتے ہوئے آئے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اسے بوسہ دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے اندر دو عادتیں ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نرمی اور سہولت سے کام کرنا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ میری جبلت میں شامل ہیں ؟ یا میری طرف سے پیدا ہوئی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ جبلت میں شامل ہیں ، تو انہوں نے عرض کی : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے میری جبلت میں وہ چیز شامل کی ہے ، جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہے ۔ پھر وہ لوگ اپنی کھجوریں لے کر آئے اور انہیں کھانے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے ان کھجوروں کے نام بیان کرنے شروع کیے کہ یہ ، یہ ہے اور یہ ، وہ ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! ہم ان کے ناموں کے بارے میں آپ سے زیادہ نہیں جانتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن میں سے ایک شخص سے فرمایا : اب تم ہمیں وہ کھجوریں کھلاؤ ، جو تمہاری پوٹلی میں باقی بچی ہیں ، وہ شخص اُٹھ کر گیا اور ” برنی “ کھجوریں لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ” برنی “ ہیں اور یہ تمہاری کھجوروں میں سب سے بہتر ہیں ، یہ دوائی ہے ، اس میں بیماری نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16060
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6850) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (345/20)»
وَعَنِ الزَّارِعِ : أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجَ مَعَهُ بِأَخِيهِ لِأُمِّهِ - يُقَالُ لَهُ : مَطَرُ بْنُ هِلَالِ بْنِ عَنَزَةَ - وَخَرَجَ بِابْنِ أَخٍ لَهُ مَجْنُونٍ ، وَمَعَهُمُ الْأَشَجُّ - وَكَانَ اسْمُهُ الْمُنْذِرَ بْنَ عَائِذٍ - فَقَالَ الْمُنْذِرُ : يَا زَارِعُ ، خَرَجْتَ مَعَنَا بِرَجُلٍ مَجْنُونٍ وَفَتًى شَابٍّ ، لَيْسَ مِنَّا وَافِدِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ الزَّارِعُ : أَمَّا الْمُصَابُ ؛ فَآتِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو لَهُ عَسَى أَنْ يُعَافِيَهُ اللَّهُ ، وَأَمَّا الْفَتَى الْعَنَزِيُّ ؛ فَإِنَّهُ أَخِي لِأُمِّي وَأَرْجُو أَنْ يَدْعُوَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَعْوَةٍ ، تُصِيبُهُ دَعْوَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ فَمَا عَدَا أَنْ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قُلْنَا : هَذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا تَمَالَكْنَا أَنْ وَثَبْنَا عَنْ رَوَاحِلِنَا ، فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ سِرَاعًا ، فَأَخَذْنَا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ نُقَبِّلُهُمَا ، وَأَنَاخَ الْمُنْذِرُ رَاحِلَتَهُ فَعَقَلَهَا ، وَذَاكَ بِعَيْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ عَمَدَ إِلَى رَوَاحِلِنَا فَأَنَاخَهَا رَاحِلَةً رَاحِلَةً ، فَعَقَلَهَا كُلَّهَا ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى عَيْبَتِهِ فَفَتَحَهَا فَوَضَعَ عَنْهَا ثِيَابَ السَّفَرِ ، ثُمَّ أَتَى يَمْشِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَشَجُّ ، إِنْ فِيكَ لَخُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ : وَمَا هُمَا بِأَبِي وَأُمِّي ؟ قَالَ : " الْحِلْمُ ، وَالْأَنَاةُ " . قَالَ : فَأَنَا تَخَلَّقْتُ بِهِمَا أَمِ اللَّهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا ؟ قَالَ : " بَلِ اللَّهُ جَبَلَكَ عَلَيْهِمَا " . قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ : الْحِلْمُ ، وَالْأَنَاةُ . ¤ قَالَ الزَّارِعُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي جِئْتُ بِابْنِ أَخٍ لِي مُصَابٍ ؛ لِتَدْعُوَ اللَّهَ لَهُ وَهُوَ فِي الرِّكَابِ قَالَ : " فَأْتِ بِهِ " . قَالَ : فَأَتَيْتُهُ وَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعَ الْأَشَجُّ ، فَأَخَذْتُ عَيْبَتِي فَأَخْرَجْتُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ حَسَنَيْنِ ، وَأَلْقَيْتُ عَنْهُ ثِيَابَ السَّفَرِ وَأَلْبَسْتُهُمَا إِيَّاهُ ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجِئْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَنْظُرُ نَظَرَ الْمَجْنُونِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْعَلْ ظَهْرَهُ مِنْ قِبَلِي " . فَأَقَمْتُهُ فَجَعَلْتُ ظَهْرَهُ مِنْ قِبَلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَجْهَهُ مِنْ قِبَلِي ، فَأَخَذَهُ ، ثُمَّ جَرَّهُ بِمَجَامِعِ رِدَائِهِ فَرَفَعَ يَدَهُ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِثَوْبِهِ ظَهْرَهُ ، وَقَالَ : " اخْرُجْ يَا عَدُوَّ اللَّهِ " . فَالْتَفَتَ وَهُوَ يَنْظُرُ نَظَرَ الصَّحِيحِ ، ثُمَّ أَقْعَدَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَعَا لَهُ وَمَسَحَ وَجْهَهُ . قَالَ : فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ الْمَسْحَةُ فِي وَجْهِهِ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، كَأَنَّ وَجْهَهُ وَجْهُ عَذْرَاءَ شَبَابًا ، وَمَا كَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يَفْضُلُ عَلَيْهِ بَعْدَ دَعْوَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ ثُمَّ دَعَا لَنَا عَبْدَ الْقَيْسِ ، فَقَالَ : " خَيْرُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ ، رَحِمَ اللَّهُ عَبَدَ الْقَيْسِ إِذْ أَسْلَمُوا غَيْرَ خَزَايَا إِذْ أَبَى بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يُسْلِمُوا " . قَالَ : ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَدْعُو لَنَا حَتَّى زَالَتِ الشَّمْسُ . ¤ قَالَ الزَّارِعُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ مَعَنَا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا لَيْسَ مِنَّا قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " . فَانْصَرَفْنَا رَاجِعِينَ ، فَقَالَ الْأَشَجُّ : إِنَّكَ كُنْتَ يَا زَارِعُ أَمْثَلَ مِنِّي رَأْيًا فِيهِمَا ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ جَهْمُ بْنُ قُثَمَ ، كَانَ قَدْ شَرِبَ قَبْلَ ذَلِكَ بِالْبَحْرَيْنِ مَعَ ابْنِ عَمٍّ لَهُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ ابْنُ عَمِّهِ فَضَرَبَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ ، فَكَانَتْ تِلْكَ الضَّرْبَةُ فِي سَاقِهِ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّ أَرْضَنَا ثَقِيلَةٌ وَخِمَةٌ ، وَإِنَّا نَشْرَبُ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ عَلَى طَعَامِنَا ، فَقَالَ : لَعَلَّ أَحَدَكُمْ أَنْ يَشْرَبَ الْإِنَاءَ ثُمَّ يَزْدَادَ إِلَيْهَا أُخْرَى حَتَّى يَأْخُذَ مِنْهُ الشَّرَابَ فَيَقُومَ إِلَى ابْنِ عَمِّهِ فَيَضْرِبَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ " . فَجَعَلَ يُغَطِّي جَهْمُ بْنُ قُثَمَ سَاقَهُ . ¤ قَالَ : فَنَهَاهُمْ عَنِ الدِّبَاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الزَّارِعِ رَوَى لَهَا أَبُو دَاوُدَ . وَسُكِتَ عَلَى حَدِيثِهَا ، فَهُوَ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زارع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ اپنی ماں کی طرف سے شریک بھائی کو لے کر گئے ، جن کا نام مطر بن ہلال بن عنزہ تھا اور وہ اپنے ساتھ اپنے ایک بھتیجے کو لے کر گئے ، جو مجنون تھا ، ان لوگوں کے ساتھ سیدنا اشج رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ان کا نام سیدنا منذر بن عائذ رضی اللہ عنہ ہے ، سیدنا مندر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے زارع ! تم ہمارے ساتھ ایک پاگل شخص کو لے کر جا رہے ہو ؟ اور تم ایک نوجوان کو لے کر جا رہے ہو ، جو ہم میں سے نہیں ہے ؟ اور ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد کی شکل میں جا رہے ہیں ، تو سیدنا زارع رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک بیمار شخص کا تعلق ہے ، تو میں اسے ساتھ لے کر جا رہا ہوں ، تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے دعا کریں ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطا کر دے ، جہاں تک عنزی نوجوان کا تعلق ہے ، تو وہ ماں کی طرف سے میرا شریک بھائی ہے اور مجھے یہ امید ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے بھی دعا کریں گے ، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نصیب ہو گی ۔
راوی کہتے ہیں : یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ آ گئے ، تو ہم نے کہا: یہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، پھر ہمیں خود پر ق ابونہیں رہا ، ہم نے اپنی سواریوں سے چھلانگیں لگائیں اور تیزی سے چلتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، ہم نے آپ کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں پکڑے اور انہیں بوسہ دینا شروع کیا ، سیدنا مندر رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کو بٹھایا ، اُسے باندھا ، یہ سب کچھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں کے سامنے ہو رہا تھا ، پھر وہ ہماری سواریوں کی طرف بڑھے ، انہوں نے ایک ایک کر کے ہر ایک سواری کو بٹھایا ، پھر ان سب کو باندھا ، پھر وہ اپنے تھیلے کی طرف بڑھے اسے کھولا اور اپنے جسم سے سفر کا لباس اتارا ( اور نیا اور عمدہ لباس پہن کر ) چلتے ہوئے تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اشج ! تمہارے اندر دو عادتیں ہیں ، اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پسند کرتے ہیں ، انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بردباری کرنا اور جلدبازی نہ کرنا ، انہوں نے عرض کی : کیا میں نے ان دونوں کو خود اپنایا ہے ؟ یا اللہ تعالیٰ نے میری جبلت میں یہ رکھی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جبلت میں یہ رکھی ہیں ، تو انہوں نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میری جبلت میں دو ایسی عادتیں رکھی ہیں ، جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم محبت کرتے ہیں ، بردباری کرنا اور جلدبازی نہ کرنا ۔
سیدنا زارع رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں اپنے ایک بھتیجے کو لے کر آیا ہوں جو بیمار ہے ، تاکہ آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کریں ، وہ سواروں میں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے لے کر آؤ ! راوی کہتے ہیں : میں اس کے پاس آیا ، میں وہ چیز دیکھ چکا تھا ، جو اشج نے کیا تھا ، تو میں نے اپنا تھیلا لیا ، اس میں سے دو عمدہ کپڑے نکالے اور اپنے بھتیجے سے سفر کے لباس کو اتارا ، اُسے وہ کپڑے پہنائے ، پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا ، وہ اس طرح دیکھ رہا تھا ، جس طرح کوئی پاگل شخص دیکھتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی پشت میری طرف کر دو ، میں نے اُسے کھڑا کیا اور اس کی پشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دی اور اس کا رخ اپنی طرف کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا ، پھر آپ نے اس کے گریبان کو پکڑا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا ، یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کپڑا اس کی پشت پر مارا ، پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! نکل جاؤ ، جب میں نے توجہ کی ، تو وہ بچہ بالکل ٹھیک شخص کی طرح دیکھ رہا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اپنے سامنے بٹھایا اور اس کے لئے دعا کی اور اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا ، راوی کہتے ہیں : اس ہاتھ پھیرنے کا اثر ہمیشہ اس کے چہرے پر رہا ، یہاں تک کہ وہ شخص بوڑھا ہو گیا تھا ، لیکن اس کا چہرہ نوجوان کنوارے شخص کی طرح محسوس ہوتا تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نصیب ہونے کے بعد اُن لوگوں میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں تھا ، جو اس پر فضیلت والا محسوس ہوتا ہو ۔
راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے ، یعنی عبدالقیس کے وفد کے لئے ، یہ دعا کی کہ یہ اہل مشرق کے بہترین لوگ ہیں ، اللہ تعالیٰ عبدالقیس قبیلے کے لوگوں پر رحم کرے کہ جب انہوں نے اسلام قبول کیا ، تو کسی ندامت کا شکار ہوئے بغیر کیا ، جبکہ کچھ لوگوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا ، پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ہمارے لئے دعا کرتے رہے ، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا ، سیدنا زارع رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ ہمارا ایک بھانجا بھی ہے ، جو ہم میں سے نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قوم کا بھانجا اُن میں سے ایک فرد ہوتا ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم وہاں سے واپس آئے ، تو سیدنا اشج رضی اللہ عنہ نے کہا: اے زارع ! ان دونوں کے بارے میں تمہاری رائے مجھ سے زیادہ مناسب تھی ۔
راوی کہتے ہیں : ان لوگوں میں ایک صاحب سیدنا جہم بن قثم رضی اللہ عنہ بھی تھے ، اس سے پہلے بحرین میں وہ اپنے چچازاد کے ساتھ بیٹھ کر شراب پی رہے تھے ، اُن کے چازاد اٹھ کر ان کے پاس آئے اور ان کی پنڈلی پر تلوار ماری تو اس ضرب کا اثر ان کی پنڈلی پر موجود تھا ، حاضرین میں سے کسی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ہماری سرزمین بوجھل اور ناموافق ہے ، ہم اپنے کھانے کے بعد ایک مشروب پیتے ہیں ( یعنی شراب پیتے ہیں ، اگر آپ ہمیں اس کی اجازت دیں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایک برتن پئے ، پھر وہ اس کے ساتھ مزید ایک اور پی لے ، یہاں تک کہ جب وہ زیادہ شراب پی لے ، تو اُٹھ کر اپنے چچا زاد کے پاس جائے اور اس کی پنڈلی پر تلوار مار دے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا جہم بن قثم رضی اللہ عنہ نے اپنی پنڈلی کو چھپانا شروع کر دیا ۔
راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کو دباء ، حنتم اور نقیر سے منع کیا تھا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خاتون ام ابان بنت زارع ہیں ، امام ابوداؤد نے اس خاتون کے حوالے سے روایت نقل کی ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے ، تو یہ روایت حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16061
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2746)»
وَعَنْ نَافِعٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : وَفَدَ الْمُنْذِرُ بْنُ سَاوَى مِنَ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى أَتَى مَدِينَةَ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَ الْمُنْذِرِ أُنَاسٌ ، وَأَنَا غُلَيْمٌ لَا أَعْقِلُ أَمْسِكُ جِمَالَهُمْ . ¤ قَالَ : فَذَهَبُوا بِسِلَاحِهِمْ فَسَلَّمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعَ الْمُنْذِرُ سِلَاحَهُ ، وَوَضَعَ ثِيَابًا كَانَتْ مَعَهُ وَمَسَحَ لِحْيَتَهُ بِدُهْنٍ ، فَأَتَى نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَ الْجِمَالِ ، أَنْظُرُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ الْمُنْذِرُ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ مِنْكَ مَا لَمْ أَرَ مِنْ أَصْحَابِكَ " . قُلْتُ : وَمَا رَأَيْتَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَضَعْتَ سِلَاحَكَ ، وَلَبِسْتَ ثِيَابَكَ ، وَتَدَهَّنْتَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَشَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ أُحْدِثُهُ ؟ قَالَ : " لَا ، بَلْ شَيْءٌ جُبِلْتَ عَلَيْهِ " . فَسَلَّمُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسْلَمَتْ عَبْدُ الْقَيْسِ طَوْعًا ، وَأَسْلَمَ النَّاسُ كَرْهًا ، فَبَارَكَ اللَّهُ فِي عَبْدِ الْقَيْسِ " . ¤ قَالَ : نَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَيْكَ ، وَلَكِنِّي لَمْ أَعْقِلْ . ¤ وَمَاتَ نَافِعٌ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمِائَةِ سَنَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَوْثِيقًا . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نافع عبدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا منذر بن ساوی رضی اللہ عنہ بحرین سے وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر آئے ، سیدنا مندر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوسرے کچھ لوگ بھی تھے اور میں کمسن لڑکا تھا ، جسے زیادہ سمجھ بوجھ نہیں تھی ، میں ان لوگوں کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا تھا ، راوی کہتے ہیں : وہ لوگ اپنے ہتھیار لے کر گئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام پیش کیا ، سیدنا مندر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہتھیار اتارے اور اپنے جسم پر موجود ( سفر کا ) لباس تبدیل کیا ، اپنی داڑھی کو تیل لگایا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام پیش کیا ، میں اونٹوں کے ساتھ تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا تھا ، سیدنا مندر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہاری طرف سے وہ چیز دیکھی ہے جو تمہارے ساتھیوں میں نہیں دیکھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھ میں کیا چیز دیکھی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ہتھیار اتارے ، لباس تبدیل کیا اور تیل لگایا ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا یہ ایک ایسی چیز ہے جو میری جبلت میں شامل ہے ؟ یا اسے میں نے خود اختیار کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ تمہاری جبلت میں شامل ہے ، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عبدالقیس قبیلے کے لوگوں نے رضامندی کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور دوسرے ( کچھ لوگوں نے ) زبردستی اسلام قبول کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ عبدالقیس قبیلے کو برکت نصیب کرے ۔
راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اُس وقت یوں دیکھ رہا تھا ، جس طرح اس وقت تمہاری طرف دیکھ رہا ہوں ، لیکن اس وقت مجھے زیادہ سمجھ بوجھ نہیں تھی ۔
راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا نافع رضی اللہ عنہ ایک سو بیس سال کی عمر میں فوت ہوئے تھے ۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن نافع عبدی ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا توثیق ذکر نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16062
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف