حدیث نمبر: 16060
وَعَنْ مَزْبَدَةَ جَدِّ هُودٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ إِذْ قَالَ : " يَطْلَعُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَكْبٌ مِنْ خَيْرِ أَهْلِ الْمَشْرِقِ " . فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَتَوَجَّهَ فِي ذَلِكَ الْوَجْهِ ، فَلَقِيَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَاكِبًا ، فَرَحَّبَ وَقَرَّبَ ، وَقَالَ : مَنِ الْقَوْمُ ؟ قَالُوا : قَوْمٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ : فَمَا أَقْدَمَكُمْ لِهَذِهِ الْبِلَادِ ؟ التِّجَارَةُ ؟ قَالُوا : لَا . قَالَ : فَتَبِيعُونَ سُيُوفَكُمْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : لَا . قَالَ : فَلَعَلَّكُمْ إِنَّمَا قَدِمْتُمْ فِي طَلَبِ هَذَا الرَّجُلِ ؟ قَالُوا : أَجَلْ ، فَمَشَى مَعَهُمْ يُحَدِّثُهُمْ حَتَّى نَظَرَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَذَا صَاحِبُكُمُ الَّذِي تَطْلُبُونَ " . فَرَمَى الْقَوْمُ بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ رَوَاحِلِهِمْ ، فَمِنْهُمْ مَنْ سَعَى سَعْيًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ هَرْوَلَ هَرْوَلَةً ، وَمِنْهُمْ مَنْ مَشَى حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذُوا بِيَدِهِ يُقَبِّلُونَهَا وَقَعَدُوا إِلَيْهِ ، وَبَقِيَ الْأَشَجُّ - وَهُوَ أَصْغَرُ الْقَوْمِ - فَأَنَاخَ الْإِبِلَ وَعَقَلَهَا وَجَمَعَ [مَتَاعَ ] الْقَوْمِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي عَلَى تُؤَدَةٍ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَقَبَّلَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ : وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْأَنَاةُ ، وَالتُّؤَدَةُ " . قَالَ : أَجَبْلًا جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَوْ تَخَلُّقًا مِنِّي ؟ قَالَ : " بَلْ جَبْلٌ " . قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . وَأَقْبَلَ الْقَوْمُ قِبَلَ تَمَرَاتٍ لَهُمْ يَأْكُلُونَهَا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَمِّي لَهُمْ هَذَا كَذَا وَهَذَا كَذَا قَالُوا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَحْنُ بِأَعْلَمَ بِأَسْمَائِهَا مِنْكَ قَالَ : " أَجَلْ " . فَقَالُوا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ : أَطْعِمْنَا مِنْ بَقِيَّةِ الَّذِي بَقِيَ مِنْ نَوْطِكَ ، فَقَامَ فَأَتَاهُ بِالْبَرْنِيِّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا الْبَرْنِيُّ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ تَمَرَاتِكُمْ ، إِنَّمَا هُوَ دَوَاءٌ لَا دَاءَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

ہود عبدی کے دادا سیدنا مزیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، اسی دوران آپ نے ارشاد فرمایا : اس راستے سے تمہارے سامنے اہل مشرق کے بہترین سوار آئیں گے ، راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور اس طرف چل پڑے ، ان کی ملاقات تیرہ سواروں سے ہوئی ، انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا: اور دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ انہوں نے بتایا : عبدالقیس قبیلے سے ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم یہاں کس لیے آئے ہو ؟ تجارت کے سلسلے میں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم اپنی یہ تلواریں فروخت کرنے کے لئے آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر شاید تم لوگ اُن صاحب سے ملنے کے لئے آئے ہو ، ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے اور ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ جب اُن کی نظر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی ، تو انہوں نے فرمایا : یہ تمہارے متعلقہ فرد ہیں جن کی تمہیں تلاش تھی ، تو وہ لوگ اپنی سواریوں سے تیزی سے اُترے ، ان میں سے کوئی تیزی سے چلتا ہوا ، کوئی دوڑتا ہوا ، کوئی عام رفتار سے چلتا ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا ، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اسے بوسہ دینا شروع کیا اور آپ کے پاس بیٹھ گئے ، صرف اشج باقی رہ گئے ، جو اُن لوگوں میں سب سے کم عمر تھے ، انہوں نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اسے باندھا ، تمام لوگوں کا ساز و سامان اکٹھا کیا ، پھر آرام سے چلتے ہوئے آئے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اسے بوسہ دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے اندر دو عادتیں ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نرمی اور سہولت سے کام کرنا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ میری جبلت میں شامل ہیں ؟ یا میری طرف سے پیدا ہوئی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ جبلت میں شامل ہیں ، تو انہوں نے عرض کی : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے میری جبلت میں وہ چیز شامل کی ہے ، جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہے ۔ پھر وہ لوگ اپنی کھجوریں لے کر آئے اور انہیں کھانے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے ان کھجوروں کے نام بیان کرنے شروع کیے کہ یہ ، یہ ہے اور یہ ، وہ ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! ہم ان کے ناموں کے بارے میں آپ سے زیادہ نہیں جانتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن میں سے ایک شخص سے فرمایا : اب تم ہمیں وہ کھجوریں کھلاؤ ، جو تمہاری پوٹلی میں باقی بچی ہیں ، وہ شخص اُٹھ کر گیا اور ” برنی “ کھجوریں لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ” برنی “ ہیں اور یہ تمہاری کھجوروں میں سب سے بہتر ہیں ، یہ دوائی ہے ، اس میں بیماری نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16060
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6850) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (345/20)»