مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : امْدُدْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ قُلْتُ : ¤ تَرَكْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِيَانِ وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالًا وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ ¤ وَحَمْلِي عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْقِتَالَا فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ بَيْعَتِي ¤ فَقَدْ بِعْتُ أَهْلِي وَمَالِي بِدَالَا . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَحَمْلِي عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، بَدَلَ : الْمُسْلِمِينَ . وَقَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا غُبِنَتْ صَفْقَتُكَ يَا ضِرَارُ " . ¤ وَقَالَ فِي الْإِسْنَادِ : مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَالضَّعِيفُ قُرَشِيٌّ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَثْرَمُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي ثِقَاتِ ابْنِ حِبَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَلَمْ يَقُلِ الْأَثْرَمُ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ فَقَدْ وُثِّقَ وَإِلَّا فَهُوَ الضَّعِيفُ ، وَفِي الْآخَرِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں ، تاکہ میں اسلام پر آپ کی بیعت کر لوں ، پھر میں نے یہ اشعار پڑھے : ” میں نے مغفرت کے حصول اور گریہ و زاری ( یعنی توبہ ) کے لیے پانسے کے تیروں ، کنیزوں کی گائیکی اور شراب کو چھوڑ دیا ہے ، اور شدت ( یعنی جنگ ) کے وقت میرا ( اپنے گھوڑے ) ” محبر “ کو موڑنا اور میرا مسلمانوں کے خلاف جنگ پر برانگیختہ کرنا ( میں نے یہ سب کچھ چھوڑ دیا ہے ) تو اے میرے پروردگار ! مجھے اس سودے میں نقصان نہ ہو کیونکہ میں نے اپنے اہل خانہ اور مال کے بدلے میں یہ سودا کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور عبداللہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اور میرا مشرکین پر حملہ کرنا “
یہاں ” مسلمانوں “ کی جگہ لفظ ” مشرکین “ استعمال ہوا ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اے ضرار ! تمہارے سودے میں تمہیں خسارہ نہیں ہو گا ۔ “
انہوں نے سند میں ایک راوی کا نام محمد بن سعید باہلی ذکر کیا ہے اور یہ ضعیف ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک سند میں ایک راوی محمد بن سعید بن زیاد اثرم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان کی کتاب ” الثقات “ میں محمد بن سعید بن زیاد کا ذکر ہے ، لیکن انہوں نے لفظ اثرم نقل نہیں کیا ، اگر تو یہ وہی ہے تو پھر اس کی توثیق کی گئی ہے اور اگر یہ وہ نہیں ہے ، تو پھر یہ راوی ضعیف ہے ، اور دوسری سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔