کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے ان کا نام حضرت صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ ہے
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَوْمِي أَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَعْرِضُ عَلَيْهِمْ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ ، فَأَتَيْتُهُمْ وَقَدْ سَقَوْا إِبِلَهُمْ وَحَلَبُوهَا وَشَرِبُوا ، فَلَمَّا رَأَوْنِي قَالُوا : مَرْحَبًا بِالصُّدَيِّ بْنِ عَجْلَانَ قَالُوا : بَلَغَنَا أَنَّكَ صَبَوْتَ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ ، قُلْتُ : لَا ، وَلَكِنْ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَبَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ أَعْرِضُ عَلَيْكُمُ الْإِسْلَامَ وَشَرَائِعَهُ . فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءُوا بِقَصْعَةِ دَمٍ ، فَوَضَعُوهَا وَاجْتَمَعُوا حَوْلَهَا فَأَكَلُوا بِهَا قَالُوا : هَلُمَّ يَا صُدَيُّ ، قُلْتُ : وَيْحَكُمُ ! إِنَّمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ مَنْ يُحَرِّمُ هَذَا عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ؛ كَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالُوا : وَمَا قَالَ ؟ قُلْتُ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ إِلَى قَوْلِهِ : وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ، فَجَعَلْتُ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَيَأْبَوْنَ ، قُلْتُ لَهُمْ : وَيْحَكُمُ ائْتُونِي بِشَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ ؛ فَإِنِّي شَدِيدُ الْعَطَشِ قَالَ : وَعَلَيَّ عِمَامَةٌ قَالُوا : لَا ، وَلَكِنْ نَدَعُكَ تَمُوتُ عَطَشًا قَالَ : فَاعْتَمَمْتُ وَضَرَبْتُ بِرَأْسِي فِي الْعِمَامَةِ ، وَنِمْتُ فِي الرَّمْضَاءِ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي بِقَدَحِ زُجَاجٍ لَمْ يَرَ النَّاسُ أَحْسَنَ مِنْهُ ، وَفِيهِ شَرَابٌ لَمْ يَرَ النَّاسُ أَلَذَّ مِنْهُ ، فَأَمْكَنَنِي مِنْهَا فَشَرِبْتُهَا ، فَحَيْثُ فَرَغْتُ مِنْ شَرَابِي اسْتَيْقَظْتُ ، وَلَا وَاللَّهِ مَا عَطِشْتُ وَلَا عَرَفْتُ عَطَشًا بَعْدَ تِيكَ الشَّرْبَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ شُرَيْحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری قوم کی طرف بھیجا ، تاکہ میں ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دوں اور انہیں اسلامی تعلیمات بتاؤں ، میں ان لوگوں کے پاس آیا وہ لوگ اپنے اونٹ ہانک کر لائے تھے ، ان لوگوں نے ان کا دودھ دوہ لیا تھا اور اسے پی لیا تھا ، جب ان لوگوں نے مجھے دیکھا تو کہا: صدی بن عجلان کو خوش آمدید ، ان لوگوں نے کہا: ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ آپ بے دین ہو کر ان صاحب کے پاس چلے گئے ، میں نے کہا: جی نہیں ! بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکا ہوں ، اور اللہ کے رسول نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے ، تاکہ میں تمہارے سامنے اسلام اور اس کی تعلیمات پیش کروں ، راوی کہتے ہیں : ابھی وہ لوگ اسی صورت حال میں تھے کہ اسی دوران ایک پیالہ آیا ، جس میں خون موجود تھا ، وہ ان لوگوں نے رکھا اور اس کے اردگرد اکٹھے ہو گئے اور اسے کھانے لگے ، ان لوگوں نے کہا: اے صدی ! تم بھی آ جاؤ ، میں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، میں ان صاحب کی طرف سے تمہارے پاس آیا ہوں ، جنہوں نے اس چیز کو تمہارے لئے حرام قرار دیا ہے ، صرف وہ جانور حلال ہیں ، جسے تم ذبح کرو ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ حکم نازل کیا ہے ، لوگوں نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ؟ میں نے کہا: یہ آیت نازل ہوئی ہے :
” تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت حرام قرار دیا گیا ہے ۔ “
یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور یہ کہ تم تیروں کے ذریعے پانسہ کھیلو ۔ “
راوی کہتے ہیں : پھر میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے لگا اور وہ انکار کرنے لگے ، میں نے ان سے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، تم میرے پاس ایک گھونٹ پانی لے کر آؤ ، کیونکہ مجھے شدید پیاس محسوس ہو رہی ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عمامہ باندھا ہوا تھا ، ان لوگوں نے کہا: جی نہیں ! بلکہ ہم تمہیں ایسے ہی چھوڑ دیں گے کہ تم پیاسے ہونے کے عالم میں مر جاؤ ، راوی کہتے ہیں : میں نے عمامہ باندھا اور اپنا سر عمامے پر رکھا اور شدید گری میں گرم ریت پر سو گیا ، خواب میں ایک شخص میرے پاس آیا ، اس کے پاس شیشے کا بنا ہوا پیالہ تھا ، لوگوں نے اس سے زیادہ خوبصورت پیالہ نہیں دیکھا ہو گا ، اس میں ایسا مشروب تھا کہ لوگوں نے اس سے زیادہ لذیذ مشروب نہیں دیکھا ہو گا ، اس نے وہ مجھے دیا ، میں نے اسے پیا ، جب میں اُسے پی کر فارغ ہوا تو میں بیدار ہو گیا ، اس کے بعد اللہ کی قسم ! مجھے پیاس محسوس نہیں ہوئی اور اس مشروب کے بعد مجھے پیاس کا پتہ ہی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
” تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت حرام قرار دیا گیا ہے ۔ “
یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور یہ کہ تم تیروں کے ذریعے پانسہ کھیلو ۔ “
راوی کہتے ہیں : پھر میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے لگا اور وہ انکار کرنے لگے ، میں نے ان سے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، تم میرے پاس ایک گھونٹ پانی لے کر آؤ ، کیونکہ مجھے شدید پیاس محسوس ہو رہی ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عمامہ باندھا ہوا تھا ، ان لوگوں نے کہا: جی نہیں ! بلکہ ہم تمہیں ایسے ہی چھوڑ دیں گے کہ تم پیاسے ہونے کے عالم میں مر جاؤ ، راوی کہتے ہیں : میں نے عمامہ باندھا اور اپنا سر عمامے پر رکھا اور شدید گری میں گرم ریت پر سو گیا ، خواب میں ایک شخص میرے پاس آیا ، اس کے پاس شیشے کا بنا ہوا پیالہ تھا ، لوگوں نے اس سے زیادہ خوبصورت پیالہ نہیں دیکھا ہو گا ، اس میں ایسا مشروب تھا کہ لوگوں نے اس سے زیادہ لذیذ مشروب نہیں دیکھا ہو گا ، اس نے وہ مجھے دیا ، میں نے اسے پیا ، جب میں اُسے پی کر فارغ ہوا تو میں بیدار ہو گیا ، اس کے بعد اللہ کی قسم ! مجھے پیاس محسوس نہیں ہوئی اور اس مشروب کے بعد مجھے پیاس کا پتہ ہی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَاهِلَةَ ، فَأَتَيْتُهُمْ وَهُمْ عَلَى الطَّعَامِ ، فَرَحَّبُوا بِي وَأَكْرَمُونِي ، وَقَالُوا : تَعَالَ فَكُلْ ، فَقُلْتُ : إِنِّي جِئْتُ لِأَنْهَاكُمْ عَنْ هَذَا الطَّعَامِ ، وَأَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَيْتُكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِهِ ، فَكَذَّبُونِي وَزَبَرُونِي ، [ فَانْطَلَقْتُ ] وَأَنَا جَائِعٌ ظَمْآنُ قَدْ بَرَانِي جَهْدٌ شَدِيدٌ ، فَنِمْتُ فَأُتِيتُ فِي مَنَامِي بِشَرْبَةِ لَبَنٍ ، فَشَرِبْتُ وَرُوِيتُ وَعَظُمَ بَطْنِي ، فَقَالَ الْقَوْمُ : أَتَاكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِكُمْ وَسَرَاتِكُمْ فَرَدَدْتُمُوهُ ! ، اذْهَبُوا إِلَيْهِ وَأَطْعِمُوهُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مَا يَشْتَهِي ، فَأَتَوْنِي بِالطَّعَامِ وَالشَّرَابِ ، فَقُلْتُ : لَا حَاجَةَ [ لِي ] فِي طَعَامِكُمْ وَشَرَابِكُمْ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَطْعَمَنِي وَسَقَانِي ، فَانْظُرُوا إِلَى هَذِهِ الْحَالِ الَّتِي أَنَا عَلَيْهَا ، فَنَظَرُوا فَآمَنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے باہلہ قبیلے کی طرف بھیجا ، میں ان لوگوں کے پاس آیا ، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے ، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا: ، میری عزت افزائی کی اور یہ کہا: آگے آؤ ! اور کھانا کھاؤ ، میں نے کہا: میں اس لئے آیا ہوں تاکہ میں تمہیں اس کھانے سے منع کر دوں اور میں اللہ کے رسول کا قاصد ہوں ، میں تم لوگوں کے پاس آیا ہوں ، تاکہ تم ان پر ایمان لے آؤ ، تو ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا اور مجھے پرے کر دیا ، میں بھوکا اور پیاسا تھا ، شدید بھوک نے مجھے پریشانی کا شکار کر دیا تھا ، میں سو گیا ، خواب میں میرے پاس دودھ کا مشروب آیا ، میں نے وہ پیا تو میرا پیٹ بھر گیا ، لوگوں نے کہا: تمہارے معززین اور نمایاں افراد میں سے ایک شخص تمہارے پاس آیا اور تم لوگوں نے اسے لوٹا دیا ، تم لوگ اس کے پاس جاؤ اسے کھانا کھلاؤ اور مشروب دو ، جو وہ چاہتا ہو ، تو وہ لوگ کھانا اور مشروب لے کر میرے پاس آئے ، میں نے کہا: مجھے تمہارے کھانے اور تمہارے مشروب کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کھلا دیا ہے اور پلا دیا ہے ، تم لوگ اس صورت حال کا جائزہ لو ! ا جس پر میں ہوں ، جب ان لوگوں نے جائزہ لیا ، تو وہ مجھ پر ایمان لے آئے اور اس چیز پر ایمان لے آئے ، جو میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لے کر آیا تھا ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : فَأَرَيْتُهُمْ بَطْنِي ، فَأَسْلَمُوا عَنْ آخِرِهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَإِسْنَادُ الْأُولَى حَسَنٌ ؛ فِيهَا أَبُو غَالِبٍ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے اُن لوگوں کو اپنا پیٹ دکھایا ، تو وہ سب لوگ مسلمان ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، پہلی سند حسن ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوغالب ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، پہلی سند حسن ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوغالب ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔