مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَشَجِّ وَرُفْقَتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - باب: حضرت اشج رضی اللہ عنہ اور انک ے ساتھیوں کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ الْأَشَجُّ بْنُ عَصَرٍ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ فِيكَ لَخُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - " . قُلْتُ : مَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْحِلْمُ ، وَالْأَنَاةُ " . قُلْتُ : أَقَدِيمًا كَانَا [ فِي ] أَمْ حَدِيثًا ؟ قَالَ : " [ بَلْ ] قَدِيمًا " . قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي بَكْرَةَ لَمْ يُدْرِكِ الْأَشَجَّ . ¤عبدالرحمن بن ابوبکرہ بیان کرتے ہیں : سیدنا اشج بن عصر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تمہارے اندر دو عادتیں ہیں ، اُن دونوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بردباری کرنا اور جلدبازی نہ کرنا ، میں نے عرض کی : کیا یہ شروع سے میرے اندر ہیں ؟ یا بعد میں میرے اندر پیدا ہوئی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ یہ قدیمی ہیں ، میں نے عرض کی : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے دو ایسی عادتیں عطا کی ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اُن دونوں کو پسند کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نے سیدنا اشج رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔