حدیث نمبر: 16062
وَعَنْ نَافِعٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : وَفَدَ الْمُنْذِرُ بْنُ سَاوَى مِنَ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى أَتَى مَدِينَةَ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَ الْمُنْذِرِ أُنَاسٌ ، وَأَنَا غُلَيْمٌ لَا أَعْقِلُ أَمْسِكُ جِمَالَهُمْ . ¤ قَالَ : فَذَهَبُوا بِسِلَاحِهِمْ فَسَلَّمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعَ الْمُنْذِرُ سِلَاحَهُ ، وَوَضَعَ ثِيَابًا كَانَتْ مَعَهُ وَمَسَحَ لِحْيَتَهُ بِدُهْنٍ ، فَأَتَى نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَ الْجِمَالِ ، أَنْظُرُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ الْمُنْذِرُ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ مِنْكَ مَا لَمْ أَرَ مِنْ أَصْحَابِكَ " . قُلْتُ : وَمَا رَأَيْتَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَضَعْتَ سِلَاحَكَ ، وَلَبِسْتَ ثِيَابَكَ ، وَتَدَهَّنْتَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَشَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ أُحْدِثُهُ ؟ قَالَ : " لَا ، بَلْ شَيْءٌ جُبِلْتَ عَلَيْهِ " . فَسَلَّمُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسْلَمَتْ عَبْدُ الْقَيْسِ طَوْعًا ، وَأَسْلَمَ النَّاسُ كَرْهًا ، فَبَارَكَ اللَّهُ فِي عَبْدِ الْقَيْسِ " . ¤ قَالَ : نَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَيْكَ ، وَلَكِنِّي لَمْ أَعْقِلْ . ¤ وَمَاتَ نَافِعٌ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمِائَةِ سَنَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَوْثِيقًا . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا نافع عبدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا منذر بن ساوی رضی اللہ عنہ بحرین سے وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر آئے ، سیدنا مندر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوسرے کچھ لوگ بھی تھے اور میں کمسن لڑکا تھا ، جسے زیادہ سمجھ بوجھ نہیں تھی ، میں ان لوگوں کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا تھا ، راوی کہتے ہیں : وہ لوگ اپنے ہتھیار لے کر گئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام پیش کیا ، سیدنا مندر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہتھیار اتارے اور اپنے جسم پر موجود ( سفر کا ) لباس تبدیل کیا ، اپنی داڑھی کو تیل لگایا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام پیش کیا ، میں اونٹوں کے ساتھ تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا تھا ، سیدنا مندر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہاری طرف سے وہ چیز دیکھی ہے جو تمہارے ساتھیوں میں نہیں دیکھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھ میں کیا چیز دیکھی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ہتھیار اتارے ، لباس تبدیل کیا اور تیل لگایا ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا یہ ایک ایسی چیز ہے جو میری جبلت میں شامل ہے ؟ یا اسے میں نے خود اختیار کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ تمہاری جبلت میں شامل ہے ، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عبدالقیس قبیلے کے لوگوں نے رضامندی کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور دوسرے ( کچھ لوگوں نے ) زبردستی اسلام قبول کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ عبدالقیس قبیلے کو برکت نصیب کرے ۔
راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اُس وقت یوں دیکھ رہا تھا ، جس طرح اس وقت تمہاری طرف دیکھ رہا ہوں ، لیکن اس وقت مجھے زیادہ سمجھ بوجھ نہیں تھی ۔
راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا نافع رضی اللہ عنہ ایک سو بیس سال کی عمر میں فوت ہوئے تھے ۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن نافع عبدی ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا توثیق ذکر نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16062
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف