مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَشَجِّ وَرُفْقَتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - باب: حضرت اشج رضی اللہ عنہ اور انک ے ساتھیوں کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الزَّارِعِ : أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجَ مَعَهُ بِأَخِيهِ لِأُمِّهِ - يُقَالُ لَهُ : مَطَرُ بْنُ هِلَالِ بْنِ عَنَزَةَ - وَخَرَجَ بِابْنِ أَخٍ لَهُ مَجْنُونٍ ، وَمَعَهُمُ الْأَشَجُّ - وَكَانَ اسْمُهُ الْمُنْذِرَ بْنَ عَائِذٍ - فَقَالَ الْمُنْذِرُ : يَا زَارِعُ ، خَرَجْتَ مَعَنَا بِرَجُلٍ مَجْنُونٍ وَفَتًى شَابٍّ ، لَيْسَ مِنَّا وَافِدِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ الزَّارِعُ : أَمَّا الْمُصَابُ ؛ فَآتِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو لَهُ عَسَى أَنْ يُعَافِيَهُ اللَّهُ ، وَأَمَّا الْفَتَى الْعَنَزِيُّ ؛ فَإِنَّهُ أَخِي لِأُمِّي وَأَرْجُو أَنْ يَدْعُوَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَعْوَةٍ ، تُصِيبُهُ دَعْوَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ فَمَا عَدَا أَنْ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قُلْنَا : هَذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا تَمَالَكْنَا أَنْ وَثَبْنَا عَنْ رَوَاحِلِنَا ، فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ سِرَاعًا ، فَأَخَذْنَا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ نُقَبِّلُهُمَا ، وَأَنَاخَ الْمُنْذِرُ رَاحِلَتَهُ فَعَقَلَهَا ، وَذَاكَ بِعَيْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ عَمَدَ إِلَى رَوَاحِلِنَا فَأَنَاخَهَا رَاحِلَةً رَاحِلَةً ، فَعَقَلَهَا كُلَّهَا ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى عَيْبَتِهِ فَفَتَحَهَا فَوَضَعَ عَنْهَا ثِيَابَ السَّفَرِ ، ثُمَّ أَتَى يَمْشِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَشَجُّ ، إِنْ فِيكَ لَخُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ : وَمَا هُمَا بِأَبِي وَأُمِّي ؟ قَالَ : " الْحِلْمُ ، وَالْأَنَاةُ " . قَالَ : فَأَنَا تَخَلَّقْتُ بِهِمَا أَمِ اللَّهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا ؟ قَالَ : " بَلِ اللَّهُ جَبَلَكَ عَلَيْهِمَا " . قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ : الْحِلْمُ ، وَالْأَنَاةُ . ¤ قَالَ الزَّارِعُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي جِئْتُ بِابْنِ أَخٍ لِي مُصَابٍ ؛ لِتَدْعُوَ اللَّهَ لَهُ وَهُوَ فِي الرِّكَابِ قَالَ : " فَأْتِ بِهِ " . قَالَ : فَأَتَيْتُهُ وَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعَ الْأَشَجُّ ، فَأَخَذْتُ عَيْبَتِي فَأَخْرَجْتُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ حَسَنَيْنِ ، وَأَلْقَيْتُ عَنْهُ ثِيَابَ السَّفَرِ وَأَلْبَسْتُهُمَا إِيَّاهُ ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجِئْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَنْظُرُ نَظَرَ الْمَجْنُونِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْعَلْ ظَهْرَهُ مِنْ قِبَلِي " . فَأَقَمْتُهُ فَجَعَلْتُ ظَهْرَهُ مِنْ قِبَلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَجْهَهُ مِنْ قِبَلِي ، فَأَخَذَهُ ، ثُمَّ جَرَّهُ بِمَجَامِعِ رِدَائِهِ فَرَفَعَ يَدَهُ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِثَوْبِهِ ظَهْرَهُ ، وَقَالَ : " اخْرُجْ يَا عَدُوَّ اللَّهِ " . فَالْتَفَتَ وَهُوَ يَنْظُرُ نَظَرَ الصَّحِيحِ ، ثُمَّ أَقْعَدَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَعَا لَهُ وَمَسَحَ وَجْهَهُ . قَالَ : فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ الْمَسْحَةُ فِي وَجْهِهِ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، كَأَنَّ وَجْهَهُ وَجْهُ عَذْرَاءَ شَبَابًا ، وَمَا كَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يَفْضُلُ عَلَيْهِ بَعْدَ دَعْوَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ ثُمَّ دَعَا لَنَا عَبْدَ الْقَيْسِ ، فَقَالَ : " خَيْرُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ ، رَحِمَ اللَّهُ عَبَدَ الْقَيْسِ إِذْ أَسْلَمُوا غَيْرَ خَزَايَا إِذْ أَبَى بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يُسْلِمُوا " . قَالَ : ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَدْعُو لَنَا حَتَّى زَالَتِ الشَّمْسُ . ¤ قَالَ الزَّارِعُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ مَعَنَا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا لَيْسَ مِنَّا قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " . فَانْصَرَفْنَا رَاجِعِينَ ، فَقَالَ الْأَشَجُّ : إِنَّكَ كُنْتَ يَا زَارِعُ أَمْثَلَ مِنِّي رَأْيًا فِيهِمَا ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ جَهْمُ بْنُ قُثَمَ ، كَانَ قَدْ شَرِبَ قَبْلَ ذَلِكَ بِالْبَحْرَيْنِ مَعَ ابْنِ عَمٍّ لَهُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ ابْنُ عَمِّهِ فَضَرَبَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ ، فَكَانَتْ تِلْكَ الضَّرْبَةُ فِي سَاقِهِ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّ أَرْضَنَا ثَقِيلَةٌ وَخِمَةٌ ، وَإِنَّا نَشْرَبُ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ عَلَى طَعَامِنَا ، فَقَالَ : لَعَلَّ أَحَدَكُمْ أَنْ يَشْرَبَ الْإِنَاءَ ثُمَّ يَزْدَادَ إِلَيْهَا أُخْرَى حَتَّى يَأْخُذَ مِنْهُ الشَّرَابَ فَيَقُومَ إِلَى ابْنِ عَمِّهِ فَيَضْرِبَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ " . فَجَعَلَ يُغَطِّي جَهْمُ بْنُ قُثَمَ سَاقَهُ . ¤ قَالَ : فَنَهَاهُمْ عَنِ الدِّبَاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الزَّارِعِ رَوَى لَهَا أَبُو دَاوُدَ . وَسُكِتَ عَلَى حَدِيثِهَا ، فَهُوَ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا زارع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ اپنی ماں کی طرف سے شریک بھائی کو لے کر گئے ، جن کا نام مطر بن ہلال بن عنزہ تھا اور وہ اپنے ساتھ اپنے ایک بھتیجے کو لے کر گئے ، جو مجنون تھا ، ان لوگوں کے ساتھ سیدنا اشج رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ان کا نام سیدنا منذر بن عائذ رضی اللہ عنہ ہے ، سیدنا مندر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے زارع ! تم ہمارے ساتھ ایک پاگل شخص کو لے کر جا رہے ہو ؟ اور تم ایک نوجوان کو لے کر جا رہے ہو ، جو ہم میں سے نہیں ہے ؟ اور ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد کی شکل میں جا رہے ہیں ، تو سیدنا زارع رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک بیمار شخص کا تعلق ہے ، تو میں اسے ساتھ لے کر جا رہا ہوں ، تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے دعا کریں ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطا کر دے ، جہاں تک عنزی نوجوان کا تعلق ہے ، تو وہ ماں کی طرف سے میرا شریک بھائی ہے اور مجھے یہ امید ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے بھی دعا کریں گے ، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نصیب ہو گی ۔
راوی کہتے ہیں : یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ آ گئے ، تو ہم نے کہا: یہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، پھر ہمیں خود پر ق ابونہیں رہا ، ہم نے اپنی سواریوں سے چھلانگیں لگائیں اور تیزی سے چلتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، ہم نے آپ کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں پکڑے اور انہیں بوسہ دینا شروع کیا ، سیدنا مندر رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کو بٹھایا ، اُسے باندھا ، یہ سب کچھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں کے سامنے ہو رہا تھا ، پھر وہ ہماری سواریوں کی طرف بڑھے ، انہوں نے ایک ایک کر کے ہر ایک سواری کو بٹھایا ، پھر ان سب کو باندھا ، پھر وہ اپنے تھیلے کی طرف بڑھے اسے کھولا اور اپنے جسم سے سفر کا لباس اتارا ( اور نیا اور عمدہ لباس پہن کر ) چلتے ہوئے تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اشج ! تمہارے اندر دو عادتیں ہیں ، اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پسند کرتے ہیں ، انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بردباری کرنا اور جلدبازی نہ کرنا ، انہوں نے عرض کی : کیا میں نے ان دونوں کو خود اپنایا ہے ؟ یا اللہ تعالیٰ نے میری جبلت میں یہ رکھی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جبلت میں یہ رکھی ہیں ، تو انہوں نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میری جبلت میں دو ایسی عادتیں رکھی ہیں ، جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم محبت کرتے ہیں ، بردباری کرنا اور جلدبازی نہ کرنا ۔
سیدنا زارع رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں اپنے ایک بھتیجے کو لے کر آیا ہوں جو بیمار ہے ، تاکہ آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کریں ، وہ سواروں میں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے لے کر آؤ ! راوی کہتے ہیں : میں اس کے پاس آیا ، میں وہ چیز دیکھ چکا تھا ، جو اشج نے کیا تھا ، تو میں نے اپنا تھیلا لیا ، اس میں سے دو عمدہ کپڑے نکالے اور اپنے بھتیجے سے سفر کے لباس کو اتارا ، اُسے وہ کپڑے پہنائے ، پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا ، وہ اس طرح دیکھ رہا تھا ، جس طرح کوئی پاگل شخص دیکھتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی پشت میری طرف کر دو ، میں نے اُسے کھڑا کیا اور اس کی پشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دی اور اس کا رخ اپنی طرف کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا ، پھر آپ نے اس کے گریبان کو پکڑا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا ، یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کپڑا اس کی پشت پر مارا ، پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! نکل جاؤ ، جب میں نے توجہ کی ، تو وہ بچہ بالکل ٹھیک شخص کی طرح دیکھ رہا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اپنے سامنے بٹھایا اور اس کے لئے دعا کی اور اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا ، راوی کہتے ہیں : اس ہاتھ پھیرنے کا اثر ہمیشہ اس کے چہرے پر رہا ، یہاں تک کہ وہ شخص بوڑھا ہو گیا تھا ، لیکن اس کا چہرہ نوجوان کنوارے شخص کی طرح محسوس ہوتا تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نصیب ہونے کے بعد اُن لوگوں میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں تھا ، جو اس پر فضیلت والا محسوس ہوتا ہو ۔
راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے ، یعنی عبدالقیس کے وفد کے لئے ، یہ دعا کی کہ یہ اہل مشرق کے بہترین لوگ ہیں ، اللہ تعالیٰ عبدالقیس قبیلے کے لوگوں پر رحم کرے کہ جب انہوں نے اسلام قبول کیا ، تو کسی ندامت کا شکار ہوئے بغیر کیا ، جبکہ کچھ لوگوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا ، پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ہمارے لئے دعا کرتے رہے ، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا ، سیدنا زارع رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ ہمارا ایک بھانجا بھی ہے ، جو ہم میں سے نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قوم کا بھانجا اُن میں سے ایک فرد ہوتا ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم وہاں سے واپس آئے ، تو سیدنا اشج رضی اللہ عنہ نے کہا: اے زارع ! ان دونوں کے بارے میں تمہاری رائے مجھ سے زیادہ مناسب تھی ۔
راوی کہتے ہیں : ان لوگوں میں ایک صاحب سیدنا جہم بن قثم رضی اللہ عنہ بھی تھے ، اس سے پہلے بحرین میں وہ اپنے چچازاد کے ساتھ بیٹھ کر شراب پی رہے تھے ، اُن کے چازاد اٹھ کر ان کے پاس آئے اور ان کی پنڈلی پر تلوار ماری تو اس ضرب کا اثر ان کی پنڈلی پر موجود تھا ، حاضرین میں سے کسی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ہماری سرزمین بوجھل اور ناموافق ہے ، ہم اپنے کھانے کے بعد ایک مشروب پیتے ہیں ( یعنی شراب پیتے ہیں ، اگر آپ ہمیں اس کی اجازت دیں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایک برتن پئے ، پھر وہ اس کے ساتھ مزید ایک اور پی لے ، یہاں تک کہ جب وہ زیادہ شراب پی لے ، تو اُٹھ کر اپنے چچا زاد کے پاس جائے اور اس کی پنڈلی پر تلوار مار دے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا جہم بن قثم رضی اللہ عنہ نے اپنی پنڈلی کو چھپانا شروع کر دیا ۔
راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کو دباء ، حنتم اور نقیر سے منع کیا تھا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خاتون ام ابان بنت زارع ہیں ، امام ابوداؤد نے اس خاتون کے حوالے سے روایت نقل کی ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے ، تو یہ روایت حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔