کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ إِحْدَى عَشْرَ سَنَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، اس وقت میں گیارہ سال کا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15847
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4742)»
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : أَجَازَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَكَسَانِي قِبْطِيَّةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر مجھے ( جنگ میں حصہ لینے کی ) اجازت دی تھی ، آپ نے مجھے ایک قبطی ( لباس ) پہننے کے لئے دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس بن سعد بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15848
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4743)»
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ - : ادْعُوَا لِي زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَاتِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے پاس سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلا کر لاؤ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسماعیل بن عبد بن ابوکریمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15849
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4745)»
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ : أَيُّ النَّاسِ أَكْتَبُ ؟ قَالُوا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون شخص زیادہ اچھا لکھتا ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15850
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4744)»
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ : أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَبَّرَ عَلَى أُمِّهِ أَرْبَعًا ، ثُمَّ أَتَى بِدَابَّتِهِ فَأَخَذَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالرِّكَابِ ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ : دَعْهُ أَوْ ذَرْهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَكَذَا نَفْعَلُ بِالْعُلَمَاءِ الْكُبَرَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رُزَيْنٍ الرُّمَّانِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی تھیں ، پھر ان کی سواری لائی گئی ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُن کی رکاب پکڑ لی ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اسے چھوڑ دیں ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم اپنے اکابر علماء کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف رزین رمانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15851
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4746)»
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حِينَ مَاتَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : الْيَوْمَ مَاتَ حَبْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْهُ خَلَفًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي ذَهَابِ الْعِلْمِ كَلَامٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ حِينَ مَاتَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے انتقال پر یہ فرمایا : آج اس امت کا بڑا عالم فوت ہو گیا ، اور اللہ تعالیٰ اُن کا جانشین سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بنائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ یحیی بن سعید انصاری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے علم کی رخصتی کے بارے میں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا کلام گزر چکا ہے ، جو انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے انتقال پر ارشاد فرمایا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15852
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4750)»
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ سَنَةَ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ، وَسِنُّهُ سِتٌّ وَخَمْسُونَ ; وَمِنَ النَّاسِ يَقُولُ : مَاتَ سَنَةَ ثَمَانٍ وَأَرْبَعِينَ وَسَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجَازَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَالْخَنْدَقُ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي وَفَاتِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا انتقال 45 ہجری میں 56 سال کی عمر میں ہوا تھا ، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے : کہ ان کا انتقال 48 ہجری میں 59 سال کی عمر میں ہوا تھا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ خندق کے موقع پر جب اجازت دی تھی ، اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی اور غزوہ خندق ، شوال کے مہینے میں چار ہجری میں ہوا تھا ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے سن وفات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15853
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4753)»