کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اُم المومنین سیدہ عاشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شادی کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ الْأَوْقَصِ - امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، وَذَلِكَ بِمَكَّةَ - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَزَوَّجُ ؟ قَالَ : " مَنْ ؟ " . قَالَتْ : إِنْ شِئْتَ بِكْرًا ، وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا ؟ قَالَ : " فَمَنِ الْبِكْرُ ؟ " . قَالَتْ : ابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْكَ : عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : " فَمَنِ الثَّيِّبُ ؟ " . قَالَتْ : سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ ، آمَنَتْ بِكَ ، وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا أَنْتَ عَلَيْهِ . قَالَ : " فَاذْهَبِي فَاذْكُرِيهَا عَلَيَّ " . فَجَاءَتْ ، فَدَخَلَتْ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ فَوَجَدَتْ أُمَّ رُومَانَ أُمَّ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : يَا أُمَّ رُومَانَ ، مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ . قَالَتْ : وَدِدْتُ ، انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ ، فَإِنَّهُ آتٍ . فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ ! أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ ، فَقَالَ : هَلْ تَصْلُحُ لَهُ ؟ إِنَّمَا هِيَ بِنْتُ أَخِيهِ ! فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " ارْجِعِي إِلَيْهِ ، فَقُولِي لَهُ : أَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ ، وَأَنَا أَخُوكَ ، وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي " . فَأَتَتْ أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَجَاءَ فَأَنْكَحَهُ [وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ] . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ خولہ بنت حکیم نے عرض کی : یہ مکہ کی بات ہے ، یا رسول اللہ ! کیا آپ شادی نہیں کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس کے ساتھ ؟ اس خاتون نے کہا: اگر آپ چاہیں تو کنواری کے ساتھ کر لیں اور اگر آپ چاہیں ، تو ثیبہ خاتون کے ساتھ کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کنواری لڑکی کون ہے ؟ اس خاتون نے کہا: اللہ کی مخلوق میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب فرد کی صاحبزادی عائشہ بنت ابوبکر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ثیبہ خاتون کون ہیں ، تو خولہ نے جواب دیا : سودہ بنت زمعہ جو آپ پر ایمان لا چکی ہیں ، انہوں نے آپ کی پیروی بھی کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور ان کے ہاں میرے حوالے سے ذکر کرو ، وہ خاتون گئیں وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئیں ، وہاں انہوں نے سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کو پایا ، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں ، اس خاتون نے کہا: اے ام رومان ! اللہ تعالیٰ نے تم پر بھلائی اور برکت کیسے داخل کی ہے ، اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے شادی کا پیغام دوں ، تو سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا: میری یہ خواہش ہے کہ آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتظار کر لیں ، وہ آنے والے ہیں ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو اس خاتون نے کہا: اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھلائی اور برکت نصیب کی ہے ، اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے عائشہ کے لئے شادی کا پیغام دوں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا یہ ٹھیک ہو گا ؟ یہ تو ان کی بھتیجی بنتی ہے ، وہ خاتون واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے یہ کہو کہ تم میرے اسلام میں بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں ، لیکن تمہاری بیٹی میرے لئے درست ہو سکتی ہے ( یعنی اس کے ساتھ شادی ہو سکتی ہے ) وہ خاتون سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ہاں بلوا لو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی شادی کروا دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَيَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَا : لَمَّا هَلَكَتْ خَدِيجَةُ ، جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ - امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَزَوَّجُ ؟ قَالَ : " مَنْ ؟ " . قَالَتْ : إِنْ شِئْتَ بِكْرًا ، وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا ؟ قَالَ : " فَمَنِ الْبِكْرُ ؟ " . قَالَتْ : بِنْتُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ عَلَيْكَ : عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ . قَالَ : " وَمَنِ الثَّيِّبُ ؟ " . قَالَتْ : سَوْدَةُ ابْنَةُ زَمْعَةَ ، قَدْ آمَنَتْ بِكَ وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا تَقُولُ . قَالَ : " اذْهَبِي فَاذْكُرِيهَا عَلَيَّ " . فَأَتَتْ أُمَّ رُومَانَ ، فَقَالَتْ : يَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ ! قَالَتْ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَتْ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ . قَالَتْ : انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى يَأْتِيَ . فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ ! قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَتْ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُ عَائِشَةَ . قَالَ : وَهَلْ تَصْلُحُ لَهُ ؟ إِنَّمَا هِيَ ابْنَةُ أَخِيهِ ! فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : " ارْجِعِي ، فَقُولِي لَهُ : أَنَا أَخُوكَ وَأَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ ، وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي " . فَرَجَعَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : انْتَظِرِي ، وَخَرَجَ . قَالَتْ أُمُّ رُومَانَ : إِنَّ مُطْعِمَ بْنَ عَدِيٍّ كَانَ قَدْ ذَكَرَهَا عَلَى ابْنِهِ ، فَوَاللَّهِ مَا وَعَدَ وَعْدًا قَطُّ فَأَخْلَفَهُ لِأَبِي بَكْرٍ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ ، أَقُولُ : هَذِهِ تَقُولُ إِنَّكَ تَقُولُ ذَلِكَ ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وَقَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ مِنْ عِدَتِهِ الَّتِي وَعَدَ ، فَقَالَ لِخَوْلَةَ : ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَتْهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ ، وَعَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - يَوْمَئِذٍ بَنْتُ سِتِّ سِنِينَ . ¤ ثُمَّ خَرَجَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ، فَقَالَتْ : مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكِ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ ! قَالَتْ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَتْ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُكِ عَلَيْهِ قَالَتْ : وَدِدْتُ ، ادْخُلِي عَلَى أَبِي فَاذْكُرِي ذَلِكَ لَهُ ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَتْهُ السِّنُّ ، قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَحَيَّتْهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ ؟ فَقَالَتْ : خَوْلَةُ ابْنَةُ حَكِيمٍ . قَالَ : فَمَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ : أَرْسَلَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْطُبُ عَلَيْهِ سَوْدَةَ ، فَقَالَ : كُفْؤٌ كَرِيمٌ ، فَمَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُكِ ؟ قَالَتْ : تُحِبُّ ذَلِكَ ، قَالَ : ادْعِيهَا فَدَعَتْهَا لِي فَقَالَ : أَيْ بُنَيَّةُ ، إِنَّ هَذِهِ تَزْعُمُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَرْسَلَ يَخْطُبُكِ وَهُوَ كُفْؤٌ كَرِيمٌ ، أَتُحِبِّنِي أَنْ أُزَوِّجَكِ بِهِ قَالَتْ : نَعَمْ، قَالَ : ادْعِيهِ لِي ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ . فَجَاءَ أَخُوهَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ مِنَ الْحَجِّ ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي رَأْسِهِ التُّرَابَ ، فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ : لَعَمْرِي إِنِّي لَسَفِيهٌ يَوْمَ أَحْثِي فِي رَأْسِي التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَوْدَةَ ابْنَةَ زَمْعَةَ . ¤ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ بِالسُّنْحِ . قَالَتْ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ بَيْتَنَا[وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَنِسَاءٌ] ، فَجَاءَتْ بِي أُمِّي وَأَنَا فِي أُرْجُوحَةٍ تُرَجَّحُ بِي بَيْنَ عِذْقَيْنِ ، فَأَنْزَلَتْنِي مِنَ الْأُرْجُوحَةِ وَلِي جُمَيْمَةٌ ، فَفَرَقَتْهَا وَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ تَقُودُنِي حَتَّى وَقَفَتْ عِنْدَ الْبَابِ ، وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ مِنْ نَفَسِي ، ثُمَّ دَخَلَتْ بِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ عَلَى سَرِيرٍ فِي بَيْتِنَا ، وَعِنْدَهُ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَأَجْلَسَتْنِي فِي حُجْرَةٍ ، ثُمَّ قَالَتْ : هَؤُلَاءِ أَهْلُكَ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهِمْ ، وَبَارَكَ لَهُمْ فِيكَ . فَوَثَبَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فَخَرَجُوا ، وَبَنَى بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِنَا ، مَا نُحِرَتْ عَلَيَّ جَزُورٌ وَلَا ذُبِحَتْ عَلَيَّ شَاةٌ ، حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيْنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ بِجَفْنَةٍ ، كَانَ يُرْسِلُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَارَ إِلَى نِسَائِهِ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، بَعْضُهُ صَرَّحَ فِيهِ بِالِاتِّصَالِ عَنْ عَائِشَةَ ، وَأَكْثَرُهُ مُرْسَلٌ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ اور یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب یہ دونوں بیان کرتے ہیں : جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا آئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ شادی نہیں کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس کے ساتھ ؟ ان خاتون نے کہا: اگر آپ چاہیں تو کنواری لڑکی کے ساتھ اور اگر چاہیں ، تو ثیبہ کے ساتھ کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کنواری لڑکی کون ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا : آپ کے نزدیک اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب فرد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اور ثیبہ خاتون کون ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا : سیدہ سودہ بن زمعہ جو آپ پر ایمان لا چکی ہیں اور آپ جو بات کہتے ہیں اس کے حوالے سے آپ کی پیروی کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور ان کے سامنے میری یہ بات ذکر کرنا ، وہ خاتون سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور بولیں : اے ام رومان ! اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر بھلائی اور برکت کو داخل کیا ہے ، سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ تو اس خاتون نے جواب دیا : اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ ان کی طرف سے عائشہ کے لئے شادی کا پیغام دوں ، تو سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتظار کر لیں تو وہ آ جائیں ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے سیدنا ابوبکر ! اللہ تعالیٰ نے تم پر کیسی بھلائی اور برکت داخل کی ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ اس خاتون نے بتایا : اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے عائشہ کے لئے شادی کا پیغام دوں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا عائشہ کی شادی ان کے ساتھ ہو سکتی ہے ؟ یہ ان کی بھتیجی بنتی ہے ، وہ خاتون واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے یہ کہو کہ میں اسلام میں تمہارا بھائی ہوں اور تم میرے بھائی ہو ، لیکن تمہاری بیٹی کے ساتھ میری شادی ہو سکتی ہے ۔ وہ خاتون واپس گئیں اور اس بات کا تذکرہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے کیا ، تو انہوں نے کہا: تم انتظار کرو ، پھر وہ باہر گئے ، سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ مطعم بن عدی نے عائشہ کے لئے اپنے بیٹے کا رشتہ بھیجا ہے ۔ اللہ کی قسم ! اس نے جب بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی وعدہ کیا ، کبھی اس کی خلاف ورزی نہیں کی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مطعم بن عدی کے پاس تشریف لے گئے ، اس کے پاس اس کی بیوی اُم فتیان موجود تھی ، اس عورت نے کہا: اے ابوقحافہ کے صاحبزادے ! شاید آپ ہمارے لڑکے کو بے دین بنا دیں گے اور اسے اس دین میں داخل کروا دیں گے جس پر آپ گامزن ہیں ، اگر اس نے آپ کے ہاں شادی کر لی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مطعم بن عدی سے کہا: کیا تمہاری بھی وہی رائے ہے جو اس عورت کا قول ہے ؟ اس نے کہا: یہ بات کہہ تو رہی ہے ( یعنی اس کی بات ٹھیک لگتی ہے ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے پاس سے اٹھ کے نکلے تو ان کے دل میں مطعم بن عدی کے ساتھ وعدہ کرنے کے حوالے سے جو بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیا ، وہ واپس آئے اور انہوں نے سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ہاں بلا کے لے آؤ ، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کے لے آئی ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کروا دی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اس وقت چھ سال تھی ، پھر وہ خاتون وہاں سے نکلیں اور سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئیں اور یہ کہا: کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیسی بھلائی اور کیسی برکت داخل کی ہے ، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ اس خاتون نے کہا: اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شادی کا پیغام دوں ، تو سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میری یہ خواہش ہے کہ تم میرے والد کے پاس جاؤ اور ان کے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے رشتے کا ذکر کرو ، وہ ایک عمر رسیدہ شخص ہیں ، انہیں بڑھاپا لاحق ہو چکا ہے ، وہ اس وجہ سے حج میں بھی شرکت نہیں کر سکتے ، وہ خاتون ان صاحب کے پاس گئیں اور انہیں زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق سلام کیا ، ان صاحب نے دریافت کیا : کون ہے ؟ اس خاتون نے بتایا خولہ بنت حکیم ، ان صاحب نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : محمد بن عبداللہ نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے سودہ کے لئے شادی کا پیغام دوں ، تو ان صاحب نے کہا: وہ ایک معزز ہم پایہ شخص ہیں ۔ سودہ کیا کہتی ہے ؟ اس خاتون نے کہا: اسے بھی یہ بات پسند ہے ، اس صاحب نے کہا: اسے میرے پاس بلا کے لے کر آؤ ، وہ خاتون سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو بلا کے لے کر آئیں تو ان صاحب نے اپنی بیٹی سے کہا: اس خاتون کا یہ کہنا ہے کہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے تمہارے لئے شادی کا پیغام بھیجا ہے ، وہ ایک معزز ہم پلہ شخص ہیں ، کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ میں تمہاری شادی اس کے ساتھ کروا دوں ؟ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی ہاں ، تو ان صاحب نے کہا: تم انہیں میرے پاس بلا کے لاؤ ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان صاحب کے پاس تشریف لے گئے ، تو ان صاحب نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کروا دی ، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبد بن زمعہ حج کر کے آئے تو وہ اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگے ، بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو وہ کہنے لگے کہ میں ان دنوں بے وقوف تھا کہ جب میں اپنے سر میں مٹی ڈال رہا تھا ، اس بات پر کہ اللہ کے رسول نے سودہ بنت زمعہ کے ساتھ شادی کی تھی ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگ مدینہ منورہ آ گئے ، ہم نے بنو حارث بن خزرج کے محلے میں ” سخ“ کے مقام پر رہائش اختیار کی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ ہمارے گھر آئے میری والدہ مجھے لے کر آ گئیں ، میں اس وقت ایک جھولے میں جھولے لی رہی تھی جو دو شاخوں کے درمیان تھا ، میری والدہ نے مجھے جھولے سے اتارا ، میرے بال کانوں سے ذرا نیچے تک آتے تھے ، انہوں نے ان میں مانگ بنائی ، میرے چہرے پر پانی لگا کے صاف کیا ، پھر وہ مجھے ساتھ لے کے چلتی ہوئی آئیں ، یہاں تک کہ میں دروازے کے پاس ٹھہر گئی ، تھکاوٹ کی وجہ سے میرا سانس پھولا ہوا تھا ، یہاں تک کہ میرا سانس پرسکون ہوا تو وہ مجھے لے کے اندر آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں پلنگ پر تشریف فرما تھے ، آپ کے پاس انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد اور خواتین تھیں ، میری والدہ نے مجھے حجرے میں روک لیا ، پھر انہوں نے کہا: یہ تمہارے گھر والے ہیں ، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ان میں برکت رکھے اور ان کے لئے تم میں برکت رکھے ، پھر مرد اور خواتین اٹھ کر باہر چلے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری رخصتی کروا کے ہمارے گھر آ گئے ، میری شادی پر کوئی اونٹ قربان نہیں کیا گیا اور کوئی بکری ذبح نہیں کی گئی ، یہاں تک کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے ہمارے ہاں ایک برتن بھیجا ، جو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا کرتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے پاس تشریف لے جاتے تھے ، اس وقت میری عمر سات سال تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے بعض راویوں نے اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک سند کے متصل ہونے کی صراحت کی ہے ، اور زیادہ تر نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے بعض راویوں نے اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک سند کے متصل ہونے کی صراحت کی ہے ، اور زیادہ تر نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَاهُ جِبْرِيلُ بِصُورَتِي ، فَقَالَ : هَذِهِ زَوْجَتُكَ . وَلَقَدْ تَزَوَّجَنِي وَإِنِّي لَجَارِيَةٌ عَلَى حَوْفٍ ، فَلَمَّا تَزَوَّجَنِي أَوْقَعَ اللَّهُ عَلَيَّ الْحَيَاءَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس وقت تک شادی نہیں کی جب تک سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس میری تصویر لے کے نہیں آ گئے ، انہوں نے یہ بتایا کہ یہ آپ کی زوجہ ہیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کی ، میں اس وقت کمسن لڑکی تھی اور کمسن لڑکیوں کا سا لباس پہنتی تھی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کر لی تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حیاء ڈال دی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ مدلس ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ ، اشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى[خُشِيَ عَلَيْهِ ] حَتَّى تَزَوَّجَ عَائِشَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں : جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ بات شدید پریشانی کا باعث ہوئی ، یہاں تک کہ آپ کو اس حوالے سے اندیشہ ہوا ، یہاں تک کہ آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلَّفَنَا وَخَلَّفَ بَنَاتِهِ ، فَلَمَّا اسْتَقَرَّ بِالْمَدِينَةِ ، بَعَثَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ، وَبَعَثَ مَعَهُ أَبَا رَافِعٍ مَوْلَاهُ ، وَأَعْطَاهُمَا بَعِيرَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ ، أَخَذَهَا مِنْ أَبِي بَكْرٍ ؛ يَشْتَرِيَانِ بِهَا مَا يَحْتَاجَانِ إِلَيْهِ مِنَ الظَّهْرِ ، وَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْأُرَيْقِطِ الدِّئَلِيَّ بِبَعِيرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ ، وَكَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَحْمِلَ مَعَهُ أَهْلَهُ أُمَّ رُومَانَ ، وَأُمَّ أَبِي بَكْرٍ ، وَأَنَا ، وَأَخِي ، وَأَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ امْرَأَةَ الزُّبَيْرِ ، فَخَرَجُوا مُصْطَحِبِينَ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى قَدِيدٍ ، اشْتَرَى زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بِتِلْكَ الْخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ ثَلَاثَةَ أَبْعِرَةٍ ، ثُمَّ دَخَلُوا مَكَّةَ جَمِيعًا ، فَصَادَفُوا طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يُرِيدُ الْهِجْرَةَ ، فَخَرَجْنَا جَمِيعًا ، وَخَرَجَ زَيْدٌ ، وَأَبُو رَافِعٍ بِفَاطِمَةَ ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ ، وَسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ، وَحَمَلَ زَيْدٌ أُمَّ أَيْمَنَ وَوَلَدَهَا أَيْمَنَ وَأُسَامَةَ ، وَاصْطَحَبَنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْضِ مِنْ نَمِرٍ نَفَرَ بَعِيرِي ، وَأَنَا فِي مِحَفَّةٍ مَعِي فِيهَا أُمِّي ، فَجَعَلَتْ تَقُولُ : وَابِنْتَاهُ وَاعَرُوسَتَاهُ . حَتَّى إِذَا أُدْرِكَ بَعِيرُنَا وَقَدْ هَبَطَ مِنَ الثَّنِيَّةِ ثَنِيَّةِ هَبْشَا ، فَسَلَّمَ اللَّهُ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، فَنَزَلْتُ فِي عِيَالِ أَبِي بَكْرٍ ، وَنَزَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ يَبْنِي الْمَسْجِدَ ، وَأَبْيَاتُنَا حَوْلَ الْمَسْجِدِ ، فَأَنْزَلَ فِيهَا أَهْلَهُ ، فَمَكَثْنَا أَيَّامًا ، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَبْنِيَ بِأَهْلِكَ ؟ قَالَ : " الصَّدَاقُ " . فَأَعْطَاهُ أَبُو بَكْرٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيْنَا ، وَبَنَى بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي هَذَا الَّذِي أَنَا فِيهِ ، وَهُوَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ وَدُفِنَ فِيهِ ، وَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ أَحَدَ تِلْكَ الْبُيُوتِ ، وَكَانَ يَكُونُ عِنْدَهَا،[وَكَاَنَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِيَّايَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْجَوَارِي، فَمَا حَدَّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَنِي حَتَّى أَخَذَتْنِي أُمِّي، فَحَبَسَتْنِي فِي الْبَيْتِ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنِّي تَزَوَّجْتُهُ، فَمَا سَأَلْتُهَا حَتَّى كَانَتْ هِيَ الَّتِي أَخْبَرَتْنِي ] . وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو آپ ہمیں اور اپنی صاحبزادیوں کو ( مکہ میں ہی ) چھوڑ گئے ، جب آپ مدینہ منورہ میں مستقل طور پر ٹھہر گئے ( یا آپ نے رہائش کا بندوبست کر لیا ) تو آپ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، آپ نے ان کے ہمراہ اپنے غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، آپ نے ان دونوں کو دو اونٹ دیے اور پانچ سو درہم دیے ، آپ نے یہ رقم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے لی تھی تاکہ وہ دونوں حضرات اس کے ذریعے ضرورت کے مطابق سواری کے جانور خرید لیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں صاحبان کے ہمراہ عبداللہ بن اریقط دؤیلی کو دو یا شاید تین اونٹوں کے ہمراہ بھیجا ، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ وہ ان صاحب کے ہمراہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کو یعنی سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ کو مجھے ، میری بہن اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کو جو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ، ان سب کو سوار کروا کے بھجوا دے ، یہ لوگ نکلے یہاں تک کہ یہ قدید کے مقام پر پہنچے ، وہاں زید بن حارثہ نے ان پانچ سو درہم کے ذریعے تین اونٹ خریدے ، پھر یہ سب لوگ مکہ میں داخل ہوئے تو ان کی ملاقات سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو ہجرت کے لئے جانا چاہ رہے تھے ، تو ہم سب اکٹھے روانہ ہوئے ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ ، فاطمہ ، ام کلثوم اور سوده بنت زمعہ کو لے کے نکلے ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اُم ایمن رضی اللہ عنہا اور ان کی اولاد ایمن اور اسامہ کو سواری پر سوار کیا ، ہم لوگ بھی روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم لوگ نمر کے علاقے بیض میں تھے تو وہاں میرا اونٹ سرکش ہو گیا ، میں اپنے ہودج میں تھی ، میرے ساتھ میری والدہ تھیں ، میری والدہ نے یہ کہنا شروع کیا ، ہائے میری بیٹی ہائے میری دلہن ، یہاں تک کہ ہمارا اونٹ جب ٹھیک ہوا تو اس وقت ہم ہرشی کی گھاٹی سے اتر رہے تھے ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں سلامت رکھا ، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ آ گئے ، میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رشتے داروں کے ہاں ٹھہری اور وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مسجد نبوی کی تعمیر کروا رہے تھے ، ہمارے گھر مسجد کے اردگرد تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو وہاں رہائشی جگہ دی پھر ہم کچھ دن وہاں ٹھہرے رہے ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے آپ اپنی اہلیہ کی رخصتی کیوں نہیں کرواتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مہر ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بارہ اوقیہ اور ایک نش ( مخصوص پیمانہ ) چاندی دی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہمیں بھجوائی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری رخصتی کروائی اور مجھے میرے اس گھر میں لے آئے جہاں میں موجود ہوں اور اسی گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور اس میں آپ کو دفن کیا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اس گھر میں لے کے گئے تھے جو ان کے پاس رہا تھا ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَدِمْنَا مُهَاجِرِينَ ، فَسَلَكْنَا فِي ثَنِيَّةٍ صَعْبَةٍ ، فَنَفَرَ بِي جَمَلٌ كُنْتُ عَلَيْهِ نُفُورًا مُنْكَرًا ، فَوَاللَّهِ مَا أَنْسَى قَوْلَ أُمِّي : يَا عَرِبْسَةُ ، فَرَكِبَتْ فِي رَأْسِهِ ، فَسَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ : أَلْقِي خِطَامَهُ ، فَأَلْقَيْتُهُ ، فَقَامَ يَسْتَدِيرُ كَأَنَّمَا إِنْسَانٌ قَائِمٌ تَحْتَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگ ہجرت کر کے آ گئے ، ہم ایک دشوار گزار گھاٹی میں چل رہے تھے اسی دوران میرا اونٹ سرکش ہو گیا ، جس اونٹ پر میں سوار تھی وہ بری طرح سے سرکش ہو گیا تھا ۔ اللہ کی قسم ! اپنی والدہ کا جملہ نہیں بھولی انہوں نے کہا: اے میری چھوٹی سی دلہن ! اس اونٹ نے مجھے اپنے سر کی طرف کر لیا تو میں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس کی لگام چھوڑ دو ! میں نے اس کی لگام چھوڑی تو وہ کھڑا ہو کر گھومنے لگا ، یوں جیسے وہ انسان ہو اور کھڑا ہوا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا كُنَّا بِالْحَدِّ انْصَرَفْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ ، فَكَانَ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْهُمْ وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَاعَرُوسَاهُ " . قَالَتْ : فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى ذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ أَنْ أَلْقِي الْخِطَامَ ، فَأَلْقَيْتُهُ ، فَأَعْلَقَهُ[وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَيْ ذَلِكَ السَّحَرِ ] اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِيَدِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو شَدَّادٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، جب ہم لوگ ” حد “ نامی جگہ پر تھے تو ہم لوگ مڑ گئے ، میں ایک اونٹ پر سوار تھی ، مجھے بس یہ پتہ ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی ، آپ یہ فرما رہے تھے کہ ارے دلہن ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اللہ کی قسم ابھی میں اسی صورت حال میں تھی کہ اسی دوران کسی منادی نے پکار کر کہا: آپ لگام پھینک دیں ، میں نے لگام پھینک دی تو اللہ تعالیٰ نے وہ اونٹ ان کے ہاتھ میں دے دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشداد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشداد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اجْتَلَى عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فِي أَهْلِهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْوَلِيمَةِ مِنْ كِتَابِ الضَّحَايَا أَحَادِيثُ فِي جَلَائِهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کروانے سے پہلے ، انہیں ان کے گھر والوں کے پاس ، دلہن کے طور پر تیار ہونے دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبداللہ بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے ولیمہ کے متعلق باب میں ، قربانی سے متعلق کتاب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جو ان کے دلہن کے طور پر تیار ہونے کے بارے میں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبداللہ بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے ولیمہ کے متعلق باب میں ، قربانی سے متعلق کتاب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جو ان کے دلہن کے طور پر تیار ہونے کے بارے میں ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ فِي شَوَّالٍ ، وَأَعْرَسَ بِهَا فِي شَوَّالٍ بِالْمَدِينَةِ ،عَلَى رَأْسِ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مِنْ مُهَاجَرِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَتُوُفِّيَتْ عَائِشَةُ بِالْمَدِينَةِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ بَعْدَ الْوِتْرِ ، سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ ، وَدُفِنَتْ مِنْ لَيْلَتِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے مہینے میں سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی اور شوال کے مہینے میں ہی مدینہ منورہ میں ان کی رخصتی کروائی تھی ، یہ آپ کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے چھ ماہ بعد کی بات ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا تھا جب رمضان کی سات راتیں گزر چکی تھیں ، یہ اٹھاون ہجری کی بات ہے ، اور انہیں اسی رات میں دفن کر دیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ نَافِعٍ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا : صَلَّيْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسْطَ الْبَقِيعِ ، وَالْإِمَامُ يَوْمَ صَلَّيْنَا عَلَى عَائِشَةَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَحَضَرَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَدَخَلَ فِي قَبْرِ عَائِشَةَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَعُرْوَةُ ابْنَا مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ،وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، وَمَاتَتْ سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ فِي رَمَضَانَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْهُ ، وَدُفِنَتْ مِنْ لَيْلَتِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
نافع اور دیگر اہل علم یہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگوں نے جنت البقیع کے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو ازواج سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ ادا کی ہے ، جب ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ ادا کی تھی اس وقت امام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی شریک ہوئے تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قبر میں سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے عبداللہ اور عروہ اترے تھے ، اور عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابوبکر اترے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال رمضان کے مہینے میں سترہ تاریخ کو اٹھاون ہجری میں ہوا تھا اور انہیں رات کے وقت دفن کر دیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔