کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: واقعہ افک کا بیان
حدیث نمبر: 15295
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ أُمُّ مِسْطَحٍ ، فَخَرَجْتُ لِحَاجَةٍ لِي إِلَى حُشٍّ ، فَوَطِئَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ عَلَى عَظْمٍ أَوْ شَوْكَةٍ ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، قُلْتُ : بِئْسَ مَا قُلْتِ تَسُبِّينَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : أَشْهَدُ أَنَّكِ مِنَ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ ، أَتَدْرِينَ مَا قَدْ طَارَ عَلَيْكِ ؟ فَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، فَقَالَتْ : مَتَى عَهْدُكِ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقُلْتُ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْنَعُ فِي أَزْوَاجِهِ مَا أَحَبَّ ، وَيُرْجِي مَنْ أَحَبَّ مِنْهُنَّ ؟ قَالَتْ : إِنَّهُ طَارَ عَلَيْكِ كَذَا وَكَذَا ، فَخَرَرْتُ مَغْشِيَّةً عَلَيَّ ، فَبَلَغَ أُمَّ رُومَانَ أُمِّي ، فَلَمَّا بَلَغَهَا أَنَّ عَائِشَةَ بَلَغَهَا الْأَمْرُ ، أَتَتْنِي فَحَمَلَتْنِي ، فَذَهَبَتْ بِي إِلَى بَيْتِهَا ، فَبَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ عَائِشَةَ قَدْ بَلَغَهَا الْخَبَرُ ، فَجَاءَ إِلَيْهَا ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا وَجَلَسَ عِنْدَهَا ، وَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ وَسَّعَ التَّوْبَةَ " . فَازْدَدْتُ شَرًّا إِلَى مَا بِي ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَنْظُرَنَّ بِهَذِهِ الَّتِي قَدْ خَانَتْكَ وَفَضَحَتْنِي ؟ قَالَتْ : فَازْدَدْتُ شَرًّا إِلَى شَرٍّ . قَالَتْ : فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ مَا تَرَى فِي عَائِشَةَ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " لَتُخْبِرَنِّي مَا تَرَى فِي عَائِشَةَ ؟ " . قَالَ : قَدْ وَسَّعَ اللَّهُ النِّسَاءَ ، وَلَكِنْ أَرْسِلْ إِلَى بَرِيرَةَ خَادِمِهَا فَسَلْهَا ، فَعَسَى أَنْ تَكُونَ قَدِ اطَّلَعَتْ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِهَا ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَرِيرَةَ ، فَجَاءَتْ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنْ سَأَلْتُكِ عَنْ شَيْءٍ فَلَا تَكْتُمِينِي " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا شَيْءٌ تَسْأَلُنِي عَنْهُ إِلَّا أَخْبَرْتُكَ بِهِ ، وَلَا أَكْتُمُكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ شَيْئًا . قَالَ : " قَدْ كُنْتِ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَهَلْ رَأَيْتِ مِنْهَا شَيْئًا تَكْرَهِينَهُ " . قَالَتْ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالنُّبُوَّةِ ; مَا رَأَيْتُ مِنْهَا مُنْذُ كُنْتُ عِنْدَهَا إِلَّا خَلَّةً . قَالَ : " مَا هِيَ ؟ " . قَالَتْ : عَجَنْتُ عَجِينًا لِي ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ : احْفَظِي الْعَجِينَ حَتَّى أَقْتَبِسَ نَارًا فَأَخْتَبِزَ ، فَقَامَتْ تُصَلِّي فَغَفَلَتْ عَنِ الْعَجِينِ ، فَجَاءَتِ الشَّاةُ فَأَكَلَتْهُ . فَأَرْسَلَ إِلَى أُسَامَةَ ، فَقَالَ : " يَا أُسَامَةُ ، مَا تَرَى فِي عَائِشَةَ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " لَتُخْبِرَنِّي مَا تَرَى فِيهَا ؟ " . قَالَ : إِنِّي أَرَى أَنْ تَسْكُتَ عَنْهَا حَتَّى يُحْدِثَ اللَّهُ إِلَيْكَ فِيهَا . قَالَتْ : فَمَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَ الْوَحْيُ ، فَلَمَّا نَزَلَ جَعَلْنَا نَرَى فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ ، ثُمَّ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ ; قَدْ أَتَاكِ اللَّهُ بِعُذْرِكِ " . فَقُلْتُ : بِغَيْرِ حَمْدِكَ وَحَمْدِ صَاحِبِكَ . قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ تَكَلَّمْتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ خَصِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں ام مسطح کے ہاں گئی اور پھر ان کے ساتھ قضائے حاجت کے لئے آبادی سے باہر گئی ، راستے میں کسی جگہ ام مسطح کا پاؤں کسی ہڈی پر یا شاید کسی کانٹے پر آیا تو انہوں نے کہا: مسطح برباد ہو جائے ، میں نے کہا: آپ نے بہت بری بات کہی ہے ، آپ اللہ کے رسول کے اصحاب میں سے ایک فرد کو برا کہہ رہی ہیں ، تو اس خاتون نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ آپ غافل مومن خواتین میں سے ایک ہیں ، کیا آپ یہ بات جانتی ہیں کہ آپ کے حوالے سے کیا بات پھیل چکی ہے ؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! جی نہیں ، تو اس نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کے ساتھ آپ کی ملاقات کب ہوئی تھی ؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول اپنی ازواج کے بارے میں جو پسند کرتے ہیں اس طرح کا طرز عمل اختیار کرتے ہیں اور جو طریقہ کار چاہتے ہیں وہ کر لیتے ہیں ، تو ام مسطح نے کہا: آپ کے حوالے سے یہ یہ بات پھیل چکی ہے ، تو میں گر گئی اور مجھ پر بے ہوشی طاری ہونے لگی ، جب میری والدہ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کو میری حالت کا پتہ چلا کہ عائشہ کو اس بات کا پتہ چل چکا ہے کہ کیا صورت حال ہے ، تو وہ میرے پاس آئیں اور مجھے سوار کروا کے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ بات پتہ چل گئی کہ عائشہ کو اس بات کا پتہ چل چکا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور آپ ان کے ہاں آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے ، آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے توبہ کی گنجائش رکھی ہے ، تو میری طبیعت اور خراب ہو گئی ، ابھی یہی صورت حال تھی کہ اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آ گئے ، وہ اندر آئے انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس کی طرف کیا دیکھ رہے ہیں ، اس نے آپ کے ساتھ خیانت کی ہے اور مجھے شرمندگی کا شکار کر دیا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو میری طبیعت کی خرابی میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : اے علی ! عائشہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم مجھے یہ بتاؤ کہ عائشہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے خواتین کے حوالے سے گنجائش عطا کی ہوئی ہے ، تاہم آپ ان کی خادمہ بریرہ سے پوچھیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ان کے معاملے کے حوالے سے کسی چیز سے واقف ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلوایا ، وہ آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اگر میں تم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کروں تو تم نے مجھ سے چھپانی نہیں ہے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں دریافت کریں گے تو میں آپ کو بتا دوں گی اور اگر اللہ نے چاہا تو آپ سے کوئی چیز نہیں چھپاؤں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عائشہ کے پاس ہوتی ہو ، تم نے اس کے حوالے سے کوئی ایسی چیز دیکھی جو تمہیں ناگوار گزرتی ہو ؟ اس نے کہا: جی نہیں ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبوت کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ! جب سے میں ان کے پاس ہوں ۔ میں نے ان کے حوالے سے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی ، صرف ایک چیز کا معاملہ مختلف ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیا ؟ تو بریرہ نے بتایا کہ میں نے آٹا گوندھا تھا ۔ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ آٹے کا دھیان رکھیے گا ، میں آگ لے کے آتی ہوں اور روٹی پکاتی ہوں ، وہ کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگ گئی اور آٹے سے غافل ہو گئی اور بکری آئی اور اس نے آٹا کھا لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور فرمایا : اے اسامہ ! عائشہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے بارے میں تمہاری جو رائے ہے ۔ اس کے بارے میں مجھے ضرور بتاؤ ، تو انہوں نے عرض کی : میرا یہ خیال ہے آپ ان کے حوالے سے خاموش رہیں ، جب تک اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں آپ کی طرف کوئی حکم نازل نہیں کر دیتا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وحی نازل ہونا شروع ہوئی ، جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے اس بات کا اندازہ ہو جاتا تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : عائشہ تمہارے لئے خوشخبری ہے ، تمہارے لئے خوشخبری ہے ، اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے عذر کا حکم نازل کر دیا ہے ، تو میں نے کہا: اس پر میں آپ کی تعریف نہیں کروں گی اور آپ کے ساتھی کی تعریف نہیں کروں گی ، راوی کہتے ہیں اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کلام کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیف ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15295
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (117/23)»
حدیث نمبر: 15296
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ ، فَأَصَابَ عَائِشَةَ الْقُرْعَةُ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَلَمَّا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ انْطَلَقَتْ عَائِشَةُ لِحَاجَةٍ ، فَانْحَلَّتْ قِلَادَتُهَا ، فَذَهَبَتْ فِي طَلَبِهَا ، وَكَانَ مِسْطَحٌ يَتِيمًا لِأَبِي بَكْرٍ وَفِي عِيَالِهِ ، فَلَمَّا رَجَعَتْ عَائِشَةُ لَمْ تَرَ الْعَسْكَرَ . ¤ قَالَ : وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ يَتَخَلَّفُ عَنِ النَّاسِ ، فَيُصِبُ الْقَدَحَ ، وَالْجِرَابَ ، وَالْإِدَاوَةَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : فَيَحْمِلُهُ - قَالَ : فَنَظَرَ فَإِذَا عَائِشَةُ فَغَطَّى - أَحْسَبُهُ قَالَ : وَجْهَهُ عَنْهَا - ثُمَّ أَدْنَى بَعِيرَهُ مِنْهَا ، قَالَ : فَانْتَهَى إِلَى الْعَسْكَرِ ، فَقَالُوا قَوْلًا وَقَالُوا فِيهِ . قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ حَتَّى انْتَهَى ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجِيءُ ، فَيَقُومُ عَلَى الْبَابِ ، فَيَقُولُ : " كَيْفَ تِيكُمْ ؟ " . حَتَّى جَاءَ يَوْمًا فَقَالَ : " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ ; فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَكِ " . فَقَالَتْ : بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ . قَالَ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي ذَلِكَ عَشْرَ آيَاتٍ : ( إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ ) . قَالَ : فَحَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِسْطَحًا ، وَحَمْنَةَ ، وَحَسَّانَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تھے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کر لیتے تھے ، ایک مرتبہ غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قرعہ نکل آیا ( اس سفر کے دوران ) نصف رات کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئیں ، اس دوران ان کا ہار گر گیا ۔ وہ اس کی تلاش میں چلی گئیں ، سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش یتیم لڑکے تھے اور ان کے عیال میں سے تھے ، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں تو انہوں نے وہاں لشکر کو نہیں دیکھا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ لوگوں سے پیچھے رہ جاتے تھے تاکہ اگر کوئی پیالہ یا مشکیزہ یا کوئی برتن رہ گیا ہو تو وہ اسے اٹھا لیں ، راوی بیان کرتے ہیں : جب انہوں نے دیکھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نظر آئیں ، انہوں نے اپنا چہرہ ان سے ڈھانپ لیا اور اپنا اونٹ ان کے سامنے کیا ، پھر وہ لشکر تک پہنچے تو لوگوں نے اس بارے میں باتیں کرنا شروع کر دیں ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور دریافت کرتے : تمہارا کیا حال ہے ؟ یہاں تک کہ ایک دن آپ تشریف لائے اور آپ نے فرمایا : ” اے عائشہ تمہارے لئے خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے عذر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے ۔ “ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ کی حمد ہے ، آپ کی تعریف نہیں ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں دس آیات نازل کیں : ” بے شک وہ لوگ جو تم میں سے ایک گروہ جھوٹا الزام لے کے آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسطح ، حمنہ اور حسان پر حد جاری کی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15296
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2663) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (129/23)»
حدیث نمبر: 15297
وَعَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : قُلْتُ - يَعْنِي لِعَائِشَةَ - : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - أَوْ يَا أُمَّتَاهُ - أَلَا تُحَدِّثِينِي كَيْفَ كَانَ - يَعْنِي أَمْرَ الْإِفْكِ - ؟ قَالَتْ : تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَخُوضُ الْمَطَرَ بِمَكَّةَ ، وَمَا عِنْدِي مَا يَرْغَبُ فِيهِ الرِّجَالُ ، وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ ، فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ تَزَوَّجَنِي أَلْقَى اللَّهُ عَلَيَّ الْحَيَاءَ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَاجَرَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَاحْتُمِلْتُ إِلَيْهِ ، وَقَدْ جَاءَنِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسِيرًا ، فَخَرَجَ بِي مَعَهُ ، وَكُنْتُ خَفِيفَةً فِي حُدَّاجَةٍ لِي عَلَيْهَا سُتُورٌ ، ارْتَحَلُوا جَلَسْتُ عَلَيْهَا ، وَاحْتَمَلُوهَا وَأَنَا فِيهَا فَشَدُّوهَا عَلَى ظَهْرِ الْبَعِيرِ ، فَنَزَلُوا مَنْزِلًا وَخَرَجْتُ لِحَاجَتِي ، فَرَجَعْتُ وَقَدْ نَادَوْا بِالرَّحِيلِ ، فَنَزَلْتُ فِي الْحِدَاجَةِ وَقَدْ رَأَوْنِي حِينَ حَرَّكْتُ السُّتُورَ ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِيهَا ضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى صَدْرِي ، فَإِذَا أَنَا قَدْ نَسِيتُ قِلَادَةً كَانَتْ مَعِي مِنْ جَزْعٍ ، فَخَرَجْتُ مُسْرِعَةً أَطْلُبُهَا ، فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْقَوْمُ قَدْ سَارُوا ، فَإِذَا أَنَا لَا أَرَى إِلَّا الْغُبَارَ مِنْ بَعِيدٍ ، فَإِذَا هُمْ قَدْ وَضَعُوا الْحِدَاجَةَ عَلَى ظَهْرِ الْبَعِيرِ ، لَا يَرَوْنَ إِلَّا أَنِّي فِيهَا لِمَا رَأَوْا مِنْ خِفَّتِي ، فَإِذَا رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ بَعِيرِهِ ، فَقُلْتُ : مَنِ الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ : صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ ، أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْتِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، قُلْتُ : أَدْرِ عَنِّي وَجْهَكَ ، وَضَعْ رِجْلَكَ عَلَى ذِرَاعِ بَعِيرِكَ . قَالَ : أَفْعَلُ وَنِعْمَةُ عَيْنٍ وَكَرَامَةٌ . قَالَتْ : فَأَدْرَكْتُ النَّاسَ حِينَ نَزَلُوا ، فَذَهَبَ فَوَضَعَنِي عِنْدَ الْحِدَاجَةِ ، فَنَظَرَ إِلَيَّ النَّاسُ وَأَنَا لَا أَشْعُرُ ، قَالَتْ : وَأَنْكَرْتُ لُطْفَ أَبَوَيَّ ، وَأَنْكَرْتُ لُطْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا أَعْلَمُ مَا قَدْ كَانَ قِيلَ ، حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ خَادِمِي أَوْ رَبِيبَتِي ، فَقَالَتْ كَذَا قَالَتْ ، وَقَالَ لِي رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ : مَا أَغْفَلَكِ ! فَأَخَذَتْنِي حُمَّى نَافِضٍ ، فَأَخَذَتْ أُمِّي كُلَّ ثَوْبٍ كَانَ فِي الْبَيْتِ فَأَلْقَتْهُ عَلَيَّ . فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " مَا تَرَوْنَ ؟ " . فَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَا أَكْثَرَ النِّسَاءَ ، وَتَقْدِرُ عَلَى الْبَدَلِ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ ، وَأَمْرُنَا لِأَمْرِكَ تَبَعٌ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : وَاللَّهِ لَيُبَيِّنَنَّهُ اللَّهُ لَكَ فَلَا تَعْجَلْ . ¤ قَالَتْ : وَقَدْ صَارَ وَجْهُ أَبِي كَأَنَّهُ صُبَّ عَلَيْهِ زِرْنِيخٌ . قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَى مَا بِي ، فَقَالَ : " مَا لِهَذِهِ ؟ " . قَالَتْ أُمِّي : مَا لِهَذِهِ مِمَّا قُلْتُمْ وَقِيلَ ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا . قَالَتْ : فَزَادَنِي ذَلِكَ عَلَى مَا عِنْدِي . قَالَتْ : وَأَتَانِي ، فَقَالَ : " اتَّقِي اللَّهَ يَا عَائِشَةُ ، وَإِنْ كُنْتِ قَارَفْتِ مِنْ هَذَا شَيْئًا فَتُوبِي إِلَى اللَّهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ، وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ " . قَالَتْ : وَطَلَبْتُ اسْمَ يَعْقُوبَ ، فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : غَيْرَ أَنِّي أَقُولُ كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ : فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ، إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ . قَالَتْ : فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ أَصْحَابِهِ ، وَوَجْهُهُ كَأَنَّمَا ذِيبَ عَلَيْهِ الزِّرْنِيخُ حَتَّى نَزَلَ عَلَيْهِ [الْوَحْيُ]، وَكَانَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ لَمْ يَطُوفْ ، فَعَرِفَ أَصْحَابُهُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ ، وَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَى وَجْهِهِ ، وَهُوَ يَتَهَلَّلُ وَيُسْفِرُ ، فَلَمَّا قَضَى الْوَحْيُ قَالَ : " أَبْشِرْ يَا أَبَا بَكْرٍ ، قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَ ابْنَتِكَ وَبَرَاءَتَهَا ، فَانْطَلِقْ إِلَيْهَا فَبَشِّرْهَا " . قَالَتْ : وَقَرَأَ عَلَيْهِ مَا نَزَلَ فِيَّ . قَالَتْ : وَأَقْبَلَأَبُو بَكْرٍ مُسْرِعًا يَكَادُ أَنْ يَنْكَبَّ قَالَتْ : فَقُلْتُ : بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِ صَاحِبِكَ الَّذِي جِئْتَ مِنْ عِنْدِهِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِي ، فَأَخَذَ بِكَفِّي ، فَانْتَزَعْتُ يَدِي مِنْهُ ، فَضَرَبَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : أَتَنْزَعِينَ كَفَّكِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ تَفْعَلِينَ هَذَا ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَتْ : فَهَذَا كَانَ أَمْرِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، فِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
اسود بیان کرتے ہیں : میں نے اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المؤمنین ! ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اے امی جان ! کیا آپ مجھے یہ نہیں بیان کریں گی کہ واقعہ افک کس طرح ہوا تھا ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کی تھی اس وقت میں مکہ میں بارش میں گھوم پھر لیتی تھی کیونکہ میری عمر ابھی اتنی نہیں تھی کہ جس میں مردوں کو دلچسپی ہو ، میری عمر چھ سال تھی ، جب مجھے یہ بات پتہ چلی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کر لی ہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حیاء ڈال دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو میں آپ کی بیوی تھی ، مجھے سوار کروا کے آپ کے پاس لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نو سال کی تھی ( یعنی میری رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی تھی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر کر رہے تھے آپ مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے ، میں ہلکی پھلکی سی تھی ، میں ہودج میں رہتی تھی جس میں پردے پڑے ہوئے ہوتے تھے ، جب وہ لوگ روانہ ہونے لگتے تھے تو میں اس ہودج میں بیٹھ جاتی تھی ، وہ لوگ اسے اٹھا لیتے تھے ، میں اس کے اندر موجود ہوتی تھی وہ لوگ اس ہودج کو اونٹ کی پشت پر باندھ دیتے تھے ، ایک مرتبہ ان لوگوں نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، میں قضائے حاجت کے لئے گئی ، جب میں واپس آئی تو ان لوگوں نے یہ اعلان کیا کہ روانگی ہونے لگی ہے ، اسی دوران میں ہودج سے باہر آ گئی ، ان لوگوں نے مجھے پردوں کی حرکت کے وقت دیکھ لیا تھا ، جب میں اس میں بیٹھی تھی ، تو میں نے اپنے سینے پر ہاتھ مارا تو مجھے پتہ چلا کہ میں اپنا ہار گم کر آئی ہوں ، میں تیزی سے اس کی تلاش میں نکلی ، جب میں واپس آئی تو لوگ جا چکے تھے اور مجھے دور سے صرف غبار نظر آ رہا تھا ، ان لوگوں نے ہودج کو اونٹ کی پشت پر رکھ دیا تھا ، ان کا یہ خیال تھا کہ میں اس کے اندر ہی موجود ہوں گی کیونکہ میں ہلکی پھلکی ہوتی تھی ، اسی دوران ایک شخص نظر آیا جس نے اپنے اونٹ کا سر پکڑا ہوا تھا ۔ میں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے بتایا : صفوان بن معطل ، آپ اُم المؤمنین ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو اس نے کہا: بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، میں نے کہا: تم اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لو اور اپنے اونٹ کی ٹانگ کے پاس اپنی ٹانگ رکھو ، اس نے کہا: میں ایسا ہی کروں گا اور یہ میرے لئے عزت افزائی کا باعث ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگوں کے پاس اس وقت پہنچے جب وہ اگلا پڑاؤ کر چکے تھے ، میں گئی اور اپنے ہودج میں چلی گئی ، لوگوں نے مجھے دیکھ لیا ، مجھے نہیں معلوم کہ کیا صورت حال تھی ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : لیکن اس دوران مجھے اپنے والدین کا رویہ بدلا ہوا محسوس ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ بھی بدلا ہوا محسوس ہوا ، لیکن مجھے یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کیا بات ہو رہی ہے ؟ یہاں تک کہ ایک مرتبہ میری خادمہ میرے پاس آئی تو اس نے بتایا کہ اس اس طرح کی صورت حال ہے ، مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھ سے کہا: آپ کتنی غافل ہیں ، پھر مجھے کپکپی والا بخار ہو گیا ، میری والدہ نے گھر میں موجود ہر کپڑا لے کر میرے اوپر ڈال دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے اس بارے میں مشورہ لیا اور دریافت کیا : تم لوگوں کی کیا رائے ہے ، تو کسی نے یہ کہا: کہ عورتیں بہت سی ہیں اور آپ ان کے بدلے میں ( دوسری خاتون کے ساتھ شادی کرنے پر ) قدرت رکھتے ہیں ، کسی نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ پر وحی نازل ہوتی ہے ، اور ہمارا حکم آپ کے حکم کا تابع ہے ، کسی نے کہا: اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ اس بارے میں آپ کے سامنے حقیقت حال بیان کر دے گا ، تو آپ جلدی نہ کریں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اس دوران میرے والد کا چہرہ یوں ہو چکا تھا جیسے اس پر زریخ انڈیل دیا گیا ہو ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، آپ نے میری صورت حال ملاحظہ کی تو دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ میری والدہ نے کہا: یہ اس وجہ سے ہے جو آپ لوگ کہہ رہے ہیں اور جو بات کہی گئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات نہیں کی اور مزید کچھ نہیں ارشاد فرمایا : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اس سے میری پریشانی میں اور بھی اضافہ ہو گیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو ، اگر تم نے اس طرح کا کوئی ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو ، بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے توبہ کو قبول کرتا ہے ، اور وہ برائیوں سے درگزر کرتا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جواب میں ، میں نے سیدنا یعقوب علیہ السلام کا نام لینا تھا لیکن اس وقت وہ مجھے یاد نہیں آیا تو میں نے یہ کہا: کہ میں تو صرف وہی بات کہ سکتی ہوں جو سیدنا یوسف علیہ السلام کے والد نے کہی تھی ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” اب صبر کرنا ہی بہتر ہے ، اور تم لوگ جو کہہ رہے ہو اس حوالے سے اللہ سے ہی مدد لی جا سکتی ہے ، میں اپنی پریشانی اور غم کی شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے اس بات کا پتہ ہے جس کا تمہیں پتہ نہیں ہے ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان موجود تھے آپ کے چہرے کا یہ عالم تھا جیسے اس پر زریخ ڈال دیا گیا ہو یہاں تک کہ آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی ، جب آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوتی تھی ، تو پھر آپ کی طرف نظر نہیں کی جاتی تھی ، آپ کے اصحاب کو اندازہ ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے وہ آپ کے منتظر رہے ، آپ کا چہرہ روشن ہوتا جا رہا تھا ، جب وحی ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” اے ابوبکر ! تمہارے لئے خوشخبری ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیٹی کے عذر اور اس کے بری ہونے کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے ، تم اس کے پاس جاؤ اور اسے خوشخبری سناؤ ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے وہ آیات تلاوت کیں جو میرے بارے میں نازل ہوئی تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تیزی سے چلتے ہوئے آئے ، قریب تھا کہ وہ گر جاتے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو میں نے کہا: اس بات پر میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتی ہوں اور آپ کے آقا کی حمد بیان نہیں کرتی ، جن کے پاس سے آپ آئے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ میرے سرہانے بیٹھ گئے ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ سے چھڑا لیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے مارا اور فرمایا : کیا تم اللہ کے رسول سے اپنا ہاتھ الگ کر رہی ہو ، کیا تم اللہ کے رسول کے ساتھ ایسا کر رہی ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے راوی سے فرمایا : تو یہ معاملہ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15297
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (118/23)»
حدیث نمبر: 15298
وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يُسَافِرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ ، فَخَرَجَ سَهْمُ عَائِشَةَ فِي غَزْوَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ جُوَيْرِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ ، قَلِيلَةَ اللَّحْمِ خَفِيفَةً ، وَكَانَتْ تَلْزَمُ خِدْرَهَا ، فَإِذَا أَرَادَ النَّاسُ الرَّحِيلَ ، ذَهَبَتْ ،فَتَوَضَأَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ فَدَخَلَتْ مِحَفَّتَهَا ، فَيُرَحَّلُ بِعِيرُهَا ، ثُمَّ تُحْمَلُ مِحَفَّتُهَا فَتُوضَعُ عَلَى الْبَعِيرِ ، فَكَانَ أَوَّلُ مَا قَالَ فِيهَا الْمُنَافِقُونَ وَغَيْرُهُمْ مِمَّنِ اشْتَرَكَ فِي أَمْرِ عَائِشَةَ : إِنَّهَا خَرَجَتْ تَتَوَضَّأُ حِينَ دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَانْسَلَّ مِنْ عُنُقِهَا عِقْدٌ لَهَا مِنْ جَزْعِ أَظْفَارٍ ، فَارْتَحَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ ، وَهِيَ فِي بُغَاءِ الْعِقْدِ ، وَلَمْ تَعْلَمْ بِرَحِيلِهِمْ ، فَشَدُّوا عَلَى بَعِيرِهَا الْمِحَفَّةَ ، وَهُمْ يَرَوْنَ أَنَّهَا فِيهَا كَمَا كَانَتْ تَكُونُ ، فَرَجَعَتْ عَائِشَةُ إِلَى مَنْزِلِهَا ، فَلَمْ تَجِدْ فِي الْعَسْكَرِ أَحَدًا ، فَغَلَبَتْهَا عَيْنَاهَا . ¤ وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ - صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَخَلَّفَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ عَنِ الْعَسْكَرِ حَتَّى أَصْبَحَ . قَالَتْ : فَمَرَّ بِي فَرَآنِي فَاسْتَرْجَعَ ، وَأَعْظَمَ مَكَانِي حِينَ رَآنِي وَحْدِي، وَقَدْ كُنْتُ أَعْرِفُهُ وَيَعْرِفُنِي قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ . قَالَتْ : فَسَأَلَنِي عَنْ أَمْرِي ، فَسَتَرْتُ وَجْهِي عَنْهُ بِجِلْبَابِي ، وَأَخْبَرْتُهُ بِأَمْرِي ، فَقَرَّبَ بَعِيرَهُ فَوَطِئَ عَلَى ذِرَاعِهِ ، فَوَلَّانِي قَفَاهُ حَتَّى رَكِبْتُ ، وَسَوَّيْتُ ثِيَابِي ، ثُمَّ بَعَثَهُ ، فَأَقْبَلَ يَسِيرُ بِي حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ نِصْفَ النَّهَارِ أَوْ نَحْوَهُ ، فَهُنَالِكَ قَالَ فِيَّ وَفِيهِ مَنْ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْإِفْكِ ، وَأَنَا لَا أَعْلَمُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ، وَلَا مِمَّا يَخُوضُ النَّاسُ فِيهِ مِنْ أَمْرِي ، وَكُنْتُ تِلْكَ اللَّيَالِي شَاكِيَةً . وَكَانَ أَوَّلُ مَا أَنْكَرْتُ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَعُودُنِي قَبْلَ ذَلِكَ إِذَا مَرِضْتُ ، وَكَانَ تِلْكَ اللَّيَالِي لَا يُدْخُلُ عَلَيَّ وَلَا يَعُودُنِي ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ، وَهُوَ مَارٌّ : " كَيْفَ تِيكُمْ ؟ " . فَيَسْأَلُ عَنِّي أَهْلَ الْبَيْتِ . فَلَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَكْثَرَ النَّاسُ فِيهِ مِنْ أَمْرِي غَمَّهُ ذَلِكَ ، وَقَدْ شَكَوْتُ قَبْلَ ذَلِكَ إِلَى أُمِّي مَا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْجَفْوَةِ فَقَالَتْ لِي : يَا بُنَيَّةُ ، اصْبِرِي فَوَاللَّهِ لَقَلَّ مَا كَانَتِ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ يُحِبُّهَا زَوْجُهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا رَمَيْنَهَا . قَالَتْ : فَوَجَدْتُ حِسًّا تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ صُبْحِهَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، يَسْتَشِيرُهُمَا فِي أَمْرِي ، وَكُنَّا ذَلِكَ الزَّمَانَ لَيْسَ لَنَا كُنُفٌ نَذْهَبُ فِيهَا ، إِنَّمَا كُنَّا نَذْهَبُ كَمَا يَذْهَبُ الْعَرَبُ لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ ، فَقُلْتُ لِأُمِّ مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ : خُذِي الْإِدَاوَةَ فَامْلَئِيهَا مَاءً فَاذْهَبِي بِهَا إِلَى الْمَنَاصِعِ ، وَكَانَتْ هِيَ وَابْنُهَا مِسْطَحٌ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ قَرَابَةٌ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُنْفِقُ عَلَيْهِمَا ، فَكَانَا يَكُونَانِ عِنْدَهُ وَمَعَ أَهْلِهِ . ¤ فَأَخَذَتِ الْإِدَاوَةَ وَخَرَجَتْ نَحْوَ الْمَنَاصِعِ ، فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَقُلْتُ : بِئْسَ مَا قُلْتِ . قَالَتْ : ثُمَّ مَشَيْنَا فَعَثَرَتْ أَيْضًا ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَقُلْتُ لَهَا : بِئْسَ مَا قُلْتِ لِصَاحِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَاحِبِ بَدْرٍ ، فَقَالَتْ : إِنَّكَ لَغَافِلَةٌ عَمَّا فِيهِ النَّاسُ مِنْ أَمْرِكِ ، فَقُلْتُ : أَجَلْ ، فَمَا ذَاكَ ؟ فَقَالَتْ : إِنَّ مِسْطَحًا وَفُلَانًا وَفُلَانَةَ فِيمَنِ اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمُنَافِقِينَ ؛ يَجْتَمِعُونَ فِي بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ أَخِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَتَحَدَّثُونَ عَنْكِ وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ ; يَرْمُونَكِ بِهِ . ¤ قَالَتْ : فَذَهَبَ عَنِّي مَا كُنْتُ أَجِدُ مِنَ الْغَائِطِ ، فَرَجَعْتُ عُودِي عَلَى يَدَيَّ [إِلَى بَيْتِي]. ¤ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ ، بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَأَخْبَرَهُمَا بِمَا قِيلَ فِيَّ ، وَاسْتَشَارَهُمَا فِي أَمْرِي ، فَقَالَ أُسَامَةُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَى أَهْلِكَ سُوءًا ، وَقَالَ عَلِيٌّ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَكْثَرَ النِّسَاءَ ، وَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَعْلَمَ الْخَبَرَ فَتَوَعَّدِ الْجَارِيَةَ - يَعْنِي بَرِيرَةَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَلَّ : " فَشَأْنُكَ بِالْخَادِمِ " . فَسَأَلَهَا عَلِيٌّ عَنِّي ، فَلَمْ تُخْبِرْهُ - وَالْحَمْدُ لِلَّهِ - إِلَّا بِخَيْرٍ ؛ قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى عَائِشَةَ سُوءًا ، إِلَّا أَنَّهَا جُوَيْرِيَّةٌ تُصْبِحُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا ، فَتَدْخُلُ الشَّاةُ الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُ مِنَ الْعَجِينِ . ¤ قَالَتْ : ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ سَمِعَ مَا قَالَتْ - بَرِيرَةُ لِعَلِيٍّ إِلَى النَّاسِ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا إِلَيْهِ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، مَنْ لِي مِنْ رَجُلٍ يُؤْذُونَنِي فِي أَهْلِي ؟ فَمَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي سُوءًا ، وَيَرْمُونَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي ، مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ سُوءًا ، وَلَا خَرَجْتُ مَخْرَجًا إِلَّا خَرَجَ مَعِيَ فِيهِ " . ¤ قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ الْأَشْهَلِيُّ مِنَ الْأَوْسِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ كَانَ ذَلِكَ مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْأَوْسِ كَفَيْنَاكَهُ ، وَإِنْ كَانَ مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فِيهِ بِأَمْرِكَ . وَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الْخَزْرَجَيُّ ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ : كَذَبْتَ ، وَاللَّهِ وَهَذَا الْبَاطِلُ . فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الْأَشْهَلِيُّ ، وَرِجَالٌ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ ، فَاسْتَبُّوا وَتَنَازَعُوا حَتَّى كَادَ أَنْ يَعْظُمَ الْأَمْرُ بَيْنَهُمْ . فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْتِي ، وَبَعَثَ إِلَى أَبَوَيَّ فَأَتَيَاهُ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ لِي : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ ، فَإِنْ كُنْتِ أَخْطَأْتِ فَتُوبِي إِلَى اللَّهِ وَاسْتَغْفِرِيهِ " . فَقُلْتُ لِأَبِي : أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي لَا أَفْعَلُ ، هُوَ نَبِيُّ اللَّهِ وَالْوَحْيُ يَأْتِيهِ ، فَقُلْتُ لِأُمِّي : أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ لِي كَمَا قَالَ أَبِي ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَئِنْ أَقْرَرْتُ عَلَى نَفْسِي بِبَاطِلٍ لَتُصَدِّقُنَّنِي ، وَلَئِنْ بَرَّأْتُ نَفْسِي - وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ - لَتُكَذِّبُنَّنِي ، فَمَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا قَوْلَ أَبِي يُوسُفَ حِينَ يَقُولُ : ( فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ) . وَنَسِيتُ اسْمَ يَعْقُوبَ لِمَا بِي مِنَ الْحُزْنِ وَالْبُكَاءِ وَاحْتِرَاقِ الْجَوْفِ ، فَتَغَشَّى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا كَانَ يَتَغَشَّاهُ مِنَ الْوَحْيِ ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَمَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ ؛ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بَرَاءَتَكِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يَنْزِلَ الْقُرْآنُ فِي أَمْرِي ، وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو لِمَا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْ بَرَاءَتِي أَنْ يَرَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَمْرِي رُؤْيَا ، فَيُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا عِنْدَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ فَقَالَ لِي أَبَوَايَ عِنْدَ ذَلِكَ : قُومِي فَقَبِّلِي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ ، بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكُمْ . ¤ قَالَ : وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ وَأُمِّهِ ، فَلَمَّا رَمَانِي حَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَنْفَعَهُ بِشَيْءٍ أَبَدًا . قَالَ : فَلَمَّا تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ " . بَكَى أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : بَلَى يَا رَبِّ ، وَأَعَادَ النَّفَقَةَ عَلَى مِسْطَحٍ وَأُمِّهِ . ¤ قَالَتْ : وَقَعَدَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ بِالسَّيْفِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً ، فَقَالَ صَفْوَانُ لِحَسَّانَ حِينَ ضَرَبَهُ : ¤ تَلَقَّ ذُبَابَ السَّيْفِ عَنْكَ فَإِنَّنِي غُلَامٌ إِذَا هُوجِيتُ لَسْتُ بِشَاعِرِ وَلَكِنَّنِي أَحْمِي حِمَايَ وَأَنْتَقِمْ ¤ مِنَ الْبَاهِتِ الرَّامِي الْبُرَاةِ الطَّوَاهِرِ . ¤ ثُمَّ صَاحَ حَسَّانُ فَاسْتَغَاثَ النَّاسَ عَلَى صَفْوَانَ ، فَلَمَّا جَاءَ النَّاسُ فَرَّ صَفْوَانُ ، فَجَاءَ حَسَّانُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَعْدَاهُ عَلَى صَفْوَانَ فِي ضَرْبَتِهِ إِيَّاهُ ، فَسَأَلْتُهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَهَبَ لَهُ ضَرْبَةَ صَفْوَانَ إِيَّاهُ ، فَوَهَبَهَا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَاضَهُ[مِنْهَا] النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَائِطًا مِنْ نَخْلٍ عَظِيمٍ وَجَارِيَةً رُومِيَّةً - وَيُقَالُ قِبْطِيَّةً - تُدْعَى سِيرِينَ . فَوَلَدَتْ لِحَسَّانَ ابْنَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الشَّاعِرَ . قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ : أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . ¤ قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ بَاعَ حَسَّانُ ذَلِكَ الْحَائِطَ مِنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فِي وِلَايَتِهِ بِمَالٍ عَظِيمٍ . ¤ قَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - : وَبَلَغَنِي - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - أَنَّ الَّذِي قَالَ اللَّهُ فِيهِ : ( وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) - أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ أَحَدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ . ¤ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقِيلَ فِي أَصْحَابِ الْإِفْكِ الْأَشْعَارُ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي مِسْطَحٍ فِي رَمْيِهِ عَائِشَةَ ، فَكَانَ يُدْعَى عَوْفًا : ¤ يَا عَوْفُ وَيْحَكَ هَلَّا قُلْتَ عَارِفَةً مِنَ الْكَلَامِ وَلَمْ تَبْغِي بِهِ طَمَعَا ¤ فَأَدْرَكَتْكَ حُمَيَّا مَعْشَرٍ أُنُفٍ فَلَمْ يَكُنْ قَاطِعًا يَا عَوْفُ مَنْ قَطَعَا ¤ هَلَّا حَرِبْتَ مِنَ الْأَقْوَامِ إِذْ حَسَدُوا فَلَا تَقُولُ وَإِنْ عَادَيْتَهُمْ قَذَعَا ¤ لَمَّا رَمَيْتَ حَصَانًا غَيْرَ مُقْرِفَةٍ أَمِينَةَ الْجَيْبِ لَمْ نَعْلَمْ لَهَا خَضَعَا ¤ فِيمَنْ رَمَاهَا وَكُنْتُمْ مَعْشَرًا أُفُكًا فِي سَيِّئِ الْقَوْلِ مِنْ لَفْظِ الْخَنَا شَرَعَا ¤ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرًا فِي بَرَاءَتِهَا وَبَيْنَ عَوْفٍ وَبَيْنَ اللَّهِ مَا صَنَعَا ¤ فَإِنْ أَعِشْ أَجْزِ عَوْفًا فِي مَقَالَتِهِ سُوءَ الْجَزَاءِ بِمَا أَلْفَيْتُهُ تَبَعَا ¤ . ¤ وَقَالَتْ أُمُّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الَّذِينَ رَمَوْا عَائِشَةَ مِنَ الشِّعْرِ : ¤ تَشْهَدُ الْأَوْسُ كُلُّهَا وَفَتَاهَا بِحِقْدٍ وَذَلِكَ مُعْلُومُ ¤ نِسَاءُ الْخَزْرَجِيِّينَ يَشْهَدْنَ وَالْخُمَاسِيُّ مِنْ نَسْلِهَا وَالْعَظِيمُ ¤ أَنَّ بِنْتَ الصِّدِّيقِ كَانَتْ حَصَانًا عَفَّةَ الْجَيْبِ دِينُهَا مُسْتَقِيمُ ¤ تَتَّقِي اللَّهَ فِي الْمَغِيبِ عَلَيْهَا نِعْمَةُ اللَّهِ سِرُّهَا مَا يَرِيمُ ¤ خَيْرُ هَدْيِ النِّسَاءِ حَالًا وَنَفْسًا وَأَبًا لِلْعُلَا نَمَاهَا كَرِيمُ ¤ لِلْمَوَالِي إِذَا رَمُوهَا بِإِفْكٍ أَخَذَتْهُمْ مَقَامِعٌ وَجَحِيمُ ¤ لَيْتَ مَنْ كَانَ قَدْ قَفَاهَا بِسُوءٍ فِي حُطَامٍ حَتَّى يَبُولَ اللَّئِيمُ ¤ وَعَوَانٍ مِنَ الْحُرُوبِ تَلَظَّى ثَغْسًا قُوتُهَا عَقَارٌ صَرِيمُ ¤ لَيْتَ سَعْدًا وَمَنْ رَمَاهَا بِسُوءٍ فِي كَظَاظٍ حَتَّى يَتُوبَ الظَّلُومُ ¤ . ¤ وَقَالَ حَسَّانُ وَهُوَ يُبَرِّئُ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فِيمَا قِيلَ فِيهَا ، وَيَعْتَذِرُ إِلَيْهَا : ¤ حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ ¤ خَلِيلَةُ خَيْرِ النَّاسِ دِينًا وَمَنْصِبًا نَبِيِّ الْهُدَى وَالْمَكْرُمَاتِ الْفَوَاضِلِ ¤ عَقِيلَةُ حَيٍّ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ كِرَامِ الْمَسَاعِي مَجْدُهَا غَيْرُ زَائِلِ ¤ مُهَذَّبَةٌ قَدْ طَيَّبَ اللَّهُ خِيَمَهَا وَطَهَّرَهَا مِنْ كُلٍّ سُوءٍ وَبَاطِلِ ¤ فَإِنْ كَانَ مَا قَدْ جَاءَ عَنِّي قُلْتُهُ فَلَا رَفَعَتْ صَوْتِي إِلَىَّ أَنَامِلِي ¤ وَإِنَّ الَّذِي قَدْ قِيلَ لَيْسَ بِلَائِطٍ بِكِ الدَّهْرَ بَلْ قَوْلُ امْرِئٍ غَيْرِ هَائِلِ ¤ وَكَيْفَ وَوُدِّي مَا حَيِيتُ وَنُصْرَتِي لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ زَيْنِ الْمَحَافِلِ ¤ لَهُ رَتْبٌ عَالٍ عَلَى النَّاسِ فَضْلُهَا تَقَاصَرَ عَنْهَا سَوْرَةُ الْمُتَطَاوِلِ ¤ . ¤ قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ : وَحَدَّثَنِي[أَبِي] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِالَّذِينِ رَمَوْا عَائِشَةَ ; فَجُلِدُوا الْحَدَّ[جَمِيعًا] ثَمَانِينَ ثَمَانِينَ . وَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ فِي الشِّعْرِ حِينَ جُلِدُوا : ¤ لَقَدْ ذَاقَ عَبْدُ اللَّهِ مَا كَانَ أَهْلَهُ وَحَمْنَةُ إِذْ قَالُوا هَجِيرًا وَمِسْطَحُ ¤ تَعَاطَوْا بِرَجْمِ الْغَيْبِ زَوْجَ نَبِيِّهِمْ وَسَخْطَةَ ذِي الْعَرْشِ الْكَرِيمِ فَأَنْزَحُوا ¤ فَآذَوْا رَسُولَ اللَّهِ فِيهَا وَعَمَّمُوا مَخَازِيَ سُوءٍ حَلَّلُوهَا وَفُضِّحُوا ¤ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ الْإِفْكِ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ غَيْرِ هَذَا ، وَبِغَيْرِ سِيَاقِهِ أَيْضًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ بَعْضَ هَذَا يُخَالِفُ مَا فِي الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تھے تو آپ اپنی ازواج کے درمیان قرعہ کر لیتے تھے ان میں سے جس کے نام کا حصہ نکلتا تھا آپ اسے اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے ، ایک مرتبہ بنو مصطلق جن کا تعلق خزاعہ سے ہے ، ان کے ساتھ جنگ کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام کا قرعہ نکل آیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس آ رہے تھے تو مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان دنوں لڑکی تھیں اور کم عمر تھیں ، ان کا وزن بھی کم تھا ، وہ اپنے پردے میں بیٹھی رہتی تھیں ، جب لوگ روانگی کا ارادہ کرنے لگے تو وہ گئیں اور انہوں نے وضو کیا ، جب وہ واپس آئیں اور اپنے ہودج میں داخل ہوئیں تو اسے اٹھا کر ان کے اوپر رکھ لیا گیا ، اس واقعہ کے بارے میں سب سے پہلے منافقین نے بات چیت شروع کی اور کچھ دوسرے لوگ بھی تھے جو منافق نہیں تھے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں وہ بھی حصہ دار بن گئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب وہ لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ چکے تھے تو ایک مرتبہ وہ وضو کرنے کے لئے نکلیں ، اسی دوران پتھروں سے بنا ہوا ان کا ہار گر گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگ روانہ ہو گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہار کی تلاش میں پیچھے رہ گئیں ، انہیں لوگوں کی روانگی کا پتہ نہیں چلا ، لوگوں نے ان کا ہودج باندھ کر اونٹ پر رکھ دیا ، وہ یہ سمجھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پہلے کی طرح اس کے اندر ہی موجود ہوں گی ، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پڑاؤ کی جگہ پر واپس آئیں تو وہاں انہیں لشکر میں سے کوئی نظر نہیں آیا ، وہاں ان کی آنکھ لگ گئی ، سیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ اس رات لشکر کے پیچھے رہ گئے تھے ، یہاں تک کہ صبح ہو گئی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب وہ میرے پاس سے گزرے تو انہوں نے مجھے دیکھا تو انہوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور جب انہوں نے مجھے اکیلے دیکھا تو وہ اس بات پر بہت حیران ہوئے ، میں ان سے واقف تھی اور وہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے مجھ سے واقف تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، انہوں نے مجھ سے میرے معاملے کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے اپنی چادر کے ذریعے اپنا چہرہ چھپا لیا اور انہیں اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا تو انہوں نے اپنا اونٹ قریب کیا اور اپنا ہاتھ آگے کیا ، انہوں نے مجھے اونٹ پر سوار کروایا ، میں نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے ، پھر انہوں نے اپنے اونٹ کو کھڑا کیا اور مجھے ساتھ لے کر چلنے لگے ، یہاں تک کہ ہم دوپہر کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے ، تو وہاں میرے بارے میں لوگوں نے باتیں کیں اور اہل افک نے میرے بارے میں جو کہنا تھا وہ کہا: ، مجھے اس حوالے سے کسی چیز کا علم نہیں تھا ، لوگ میرے بارے میں کیا باتیں کرتے پھر رہے تھے ؟ مجھے نہیں معلوم تھا ، انہی دنوں میں بیمار ہو گئی ۔ اس دوران مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو پہلی چیز عجیب لگی وہ یہ تھی کہ اس سے پہلے میں جب بیمار ہوتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کیا کرتے تھے لیکن ان دنوں آپ میرے پاس تشریف نہیں لائے ، آپ نے میری عیادت نہیں کی ، صرف یہ تھا کہ گزرتے ہوئے آپ یہ پوچھ لیتے تھے کہ تمہارا کیا حال ہے ؟ آپ گھر والوں سے میرے بارے میں دریافت کرتے رہتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پتہ چلا کہ لوگ میرے معاملے کے بارے میں بہت زیادہ باتیں کر رہے ہیں ، تو آپ اس وجہ سے پریشان ہو گئے ، اس سے پہلے میں اپنی والدہ سے شکایت کر چکی تھی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لاتعلقی مجھے محسوس ہو رہی تھی ۔ تو میری والدہ نے مجھ سے کہا: تھا : اے بیٹی ! صبر سے کام لو ۔ اللہ کی قسم ! جو عورت خوبصورت ہو اور اس کا شوہر اس سے محبت کرتا ہو اور اس عورت کی سوکنیں بھی ہوں تو وہ اس طرح کے الزام لگایا کرتی ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جس رات کی اگلی صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بلا کے مشورہ لیا تھا ، اس رات مجھے قضائے حاجت کے لئے جانے کی ضرورت محسوس ہوئی ، اس زمانے میں ہمارے ہاں گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہوتے تھے ، ہم عربوں کے رواج کے مطابق رات کے وقت قضائے حاجت کے لئے آبادی سے باہر جایا کرتی تھیں ، میں نے ام مسطح سے کہا: آپ برتن لے لیں اور اسے پانی سے بھر دیں اور اسے ساتھ لے کے مناصع ( یعنی قضائے حاجت والی جگہ ) کی طرف چلیں ، وہ خاتون اور ان کے صاحبزادے مسطح ، ان دونوں کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رشتے داری تھی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان دونوں کو خرچ دیا کرتے تھے اور یہ دونوں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاں رہتے تھے ، اس خاتون نے برتن لیا اور میں مناصع کی طرف جانے کے لئے نکلی ، راستے میں کسی جگہ ام مسطح کا پاؤں الجھا تو اس نے کہا: مسطح برباد ہو جائے ، میں نے کہا: آپ نے بہت بری بات کہی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگ چلتی رہیں ، پھر ان کا پاؤں الجھا تو انہوں نے کہا: مسطح برباد ہو جائے ، میں نے ان سے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، ان کے بارے میں بری بات کہہ رہی ہیں ، تو انہوں نے کہا: تم اس چیز کے حوالے سے غافل ہو جو لوگوں کے درمیان تمہارے بارے میں چل رہی ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا: مسطح اور فلاں شخص اور فلانی عورت اور منافقین میں سے جنہیں شیطان نے پھسلا دیا ہے ، وہ سب لوگ عبداللہ بن ابی بن سلول کے گھر میں اکٹھے ہوئے ہیں جس کا تعلق بنو حارث بن خزرج سے ہے ، اور وہ تمہارے بارے میں اور صفوان بن معطل کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور تم پر اس کے حوالے سے الزام عائد کرتے ہیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، مجھے جو قضائے حاجت کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی وہ ختم ہو گئی اور میں وہیں سے اپنے گھر واپس آ گئی ۔ اس سے اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیج کر بلوایا اور میرے بارے میں جو باتیں کہی جا رہی تھیں اس کے بارے میں انہیں بتایا اور میرے بارے میں ان دونوں سے مشورہ لیا ، تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ہمیں آپ کی اہلیہ کے بارے میں کسی برائی کا علم نہیں ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! خواتین بہت سی ہیں ، تاہم اگر آپ اصل بات معلوم کرنا چاہتے ہیں ، تو آپ کنیز سے مشورہ لیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مراد بریرہ تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ٹھیک ہے تم خادمہ سے پوچھو ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خادمہ سے میرے بارے میں دریافت کیا تو الحمدللہ اس خادمہ نے انہیں بھلائی کی بات ہی بتائی ، اس خادمہ نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کسی برائی کا علم نہیں ہے ، البتہ یہ بات ہے کہ وہ کمسن لڑکی ہیں ان کے ہاں آٹا گوندھا جاتا ہے پھر گھر کی پالتو بکری آتی ہے اور وہ اس آٹے کو کھا جاتی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بات سنی جو بریرہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہی تھی ، تو آپ لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، جب لوگ آپ کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ نے فرمایا : ” اے مسلمانوں کے گروہ ! کون شخص مجھے اس شخص سے بدلہ دلوائے گا ، جس نے میری بیوی کے بارے میں مجھے اذیت پہنچائی ہے ، مجھے اپنی بیوی کے بارے میں کسی برائی کا علم نہیں ہے اور ان لوگوں نے میرے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص پر الزام لگایا ہے جس کے بارے میں مجھے کسی برائی کا علم نہیں ہے ، میں جب بھی ( سفر پر ) باہر گیا وہ میرے ساتھ ہی باہر گیا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ جن کا تعلق اوس قبیلے کی شاخ بنو عبداشہل سے تھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر وہ اوس قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد ہے تو ہم آپ کی جگہ اسے سنبھال لیں گے اور اگر وہ خزرج قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد ہے ، تو آپ اس کے بارے میں ہمیں حکم دیں ، اس پر سیدنا سعد بن عبادہ خزرجی رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے ، انہوں نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم ! تم غلط کہہ رہے ہو ، یہ بات غلط ہے ، اس پر سیدنا اسید بن حضیر انصاری اشہلی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اس پر دونوں فریقوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف بولنے اور تنازع کرنے کا معاملہ شروع ہوا ، یہاں تک کہ ان لوگوں کے درمیان بات بڑھ گئی ۔ ( سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے ، آپ نے میرے والدین کو پیغام بھیج کر بلوایا ، وہ دونوں آپ کے پاس آئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد مجھ سے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تم بھی سیدنا آدم علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے ایک ہو ، اگر تم نے غلطی کی ہے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، میں نے اپنے والد سے کہا: آپ میری طرف سے اللہ کے رسول کو جواب دیں تو انہوں نے مجھ سے فرمایا : میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اللہ کے نبی ہیں اور ان کے پاس وحی آتی ہے ، میں نے اپنی والدہ سے کہا: آپ میری طرف سے اللہ کے رسول کو جواب دیں تو انہوں نے بھی مجھے وہی بات کہی جو میرے والد نے کہی تھی ، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر میں اپنی ذات کے بارے میں جھوٹی بات کا اقرار کروں تو آپ لوگ مجھے سچا سمجھیں گے اور اگر میں خود کو اس سے لاتعلق قرار دوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں لاتعلق ہوں ، تو آپ لوگ مجھے جھوٹا قرار دیں گے ، تو اپنے لئے اور آپ کے لئے مثال کے طور پر صرف سیدنا یوسف علیہ السلام کے والد کی بات یاد آ رہی ہے کہ جنہوں نے یہ کہا: تھا کہ اب صبر ہی بہتر ہے ، جو تم لوگ کہہ رہے ہو اس حوالے سے اللہ تعالیٰ سے ہی مدد لی جا سکتی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پریشانی اور رونے کی وجہ سے اور دکھ کی وجہ سے مجھے سیدنا یعقوب علیہ السلام کا نام یاد نہیں آیا ، پھر اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وہی کیفیت طاری ہوئی جو وحی کے نزول کے وقت آپ پر طاری ہوتی ہے ، جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اپنے چہرے کو پونچھا اور پھر یہ ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تمہارے لئے خوشخبری ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری برأت کا حکم نازل کر دیا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میرا یہ گمان نہیں تھا کہ میرے معاملے کے بارے میں قرآن نازل ہو گا ، مجھے یہ امید تھی کہ اللہ تعالیٰ جب میری برات کے بارے میں علم دینا چاہے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے بارے میں کوئی خواب دیکھ لیں گے اور اس خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے بری الذمہ قرار دیدے گا ، اس وقت میرے والدین نے مجھ سے کہا: تم اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کا بوسہ دو ، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں ایسا نہیں کروں گی ، میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتی ہوں ، آپ لوگوں کی تعریف نہیں کرتی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کو خرچ دیا کرتے تھے ، جب مسطح نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ حلف اٹھایا کہ اب وہ کبھی اس پر کچھ خرچ نہیں کریں گے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” انہیں چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر کریں ، کیا تم لوگ یہ بات پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ۔ “ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے عرض کی : جی ہاں اے میرے پروردگار ! پھر انہوں نے دوبارہ مسطح اور ان کی والدہ پر خرچ کرنا شروع کر دیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ سا ایک مرتبہ تلوار لے کر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے راستے میں بیٹھ گئے ، انہوں نے سیدنا حسان بن ثابت پر ضرب لگائی اور جب انہوں نے ان پر ضرب لگائی تو صفوان نے حسان سے کہا: ” خود کو تلوار کی دھار سے بچاؤ ، کیونکہ میں ایک ایسا فرد ہوں کہ میری ہجو کی گئی ہے اور میں شاعر نہیں ہوں ، میں اپنے حامیوں کو بچاؤں گا اور بری الذمہ اور پاکدامن افراد کی طرف سے جھوٹے اور الزام لگانے والے شخص سے انتقام لوں گا ۔ “ تو حسان چیخ پڑے تو انہوں نے صفوان کے خلاف لوگوں سے مدد مانگی ، جب لوگ آئے تو صفوان وہاں سے فرار ہو گئے ، پھر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور صفوان کے خلاف مدد مانگی ، جو ضرب انہوں نے حسان پر لگائی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ صفوان کی انہیں لگائی ہوئی ضرب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیں ، انہوں نے وہ ضرب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک بڑا کھجوروں کا باغ معاوضے کے طور پر دیا ، ایک رومی یا شاید قبطی کنیز دی جس کا نام سیرین تھا ، اس کنیز نے بعد میں سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبدالرحمن کو جنم دیا تھا ، جو شاعر بنا تھا ۔ ابواویس نامی راوی کہتے ہیں : حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس نے مجھے عکرمہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر بعد میں سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے وہ باغ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انہیں فروخت کیا تھا اور بہت سے مال کے عوض میں فروخت کیا تھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ فرمایا : ” اور جس نے اس میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا ، اس کے لئے دردناک عذاب ہے “ اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول ہے ، جس کا تعلق بنو حارث بن خزرج سے ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جھوٹا الزام لگانے والوں کے بارے میں کچھ اشعار بھی کہے گئے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسطح کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے کی وجہ سے اسے یہ کہا: ، مسطح کو عوف کہا: جاتا تھا ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے مخاطب کر کے یہ اشعار کہے : ) ” اے عوف تمہارا ستیاناس ہو ، تم نے وہ بات کیوں نہیں کہی ، جس سے واقفیت تھی ، اور تمہیں اس کے حوالے سے لالچ کی پیروی نہیں کرنی چاہیے تھی کہ تمہیں تکبر ( یا سرکشی ) کرنے والے گروہ کی حمیت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ، اے عوف ! جو رشتہ داری کے حقوق کو پامال کرتا ہے ، وہ پامال کرنے والا نہ بنتا ( اگر وہ صیح بات کہتا ) تم نے ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کیوں نہیں کی ، جب وہ حسد میں مبتلا ہوئے اور جب تم ان سے دشمنی کرتے تو تم نے ان کے خلاف سخت باتیں کیوں نہیں کیں ، جب تم نے پاکدامن شخصیت پر الزام لگایا ، جس کا ذکر برائی کے ساتھ نہیں کیا جاتا ، جو گریبان کے حوالے سے امانت دار تھی اور ہمیں اس کے بارے میں ( برائی کی طرف ) جھکاؤ کا کوئی علم نہیں ہے ، جنہوں نے اس شخصیت پر جھوٹا الزام لگایا ، اسے جھوٹا الزام لگانے والو ! تم نے غلط بات کی اور تم سے اس بارے میں حساب لیا جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی برأت کے بارے میں عذر ( یا حکم ) نازل کر دیا ، تو اب ( عوف نے ) جو کیا ہے ، یہ معاملہ اب عوف اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہو گیا ہے ، اگر میں زندہ رہ گیا تو عوف کی کہی ہوئی بات کا اس کو برا بدلہ دوں گا ، کیونکہ میں اس کو ( برائی کی ) پیروی کرنے والا پایا ہے ۔ “ سیدہ ام سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے والے افراد کے بارے میں یہ اشعار کہے : ” پورا اوس قبیلہ اور اس کے نوجوان ، اس بارے میں گواہ ہیں ، اور یہ بات معلوم شدہ ہے ، خزرج قبیلے کی خواتین ، ان کی اولاد میں سے پانچ سال کا بچہ اور بڑا فرد بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی پاکدامن ہیں ، ان کا گریبان محفوظ ہے اور دین مستقیم ہے ، جب ان کے شوہر موجود نہ ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی ہیں ، اللہ تعالیٰ کی نعمت ، ان کا سر ہے ، جو ہمیشہ رہے گی ، حالت اور ذات ، اور والد کے حوالے سے ، ان کا طور طریقہ خواتین میں سب سے بہتر ہے ، بلندی کے حصول کے حوالے سے ان کا نسب معزز ہے ، جن موالیوں نے ان پر جھوٹا الزام لگایا ہے ، ان کے لیے لوہے کے گرز اور حجیم ( یعنی جہنم کی آگ ) ہو گی ، کاش ایسا ہو کہ جس نے ان کی طرف برائی کی نسبت کی ہے ، وہ آگ میں جائے یہاں تک کہ وہ کمینہ اس میں پگھل جائے ، اور جنگوں کے درمیان میں جو عارضی وقفہ ہوتا ہے ، وہ ختم ہو ، وہ جنگ جس کی غذا تباہی ہوتی ہے ، اے سعد ! کاش وہ شخص جس نے ان کی طرف برائی کی نسبت کی ہے ، وہ پریشانیوں کا شکار ہو جائے ، تاکہ ظلم کرنے والے ( اس سے عبرت حاصل کر کے ) توبہ کر لیں ۔ “ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بارے میں یہ اشعار کہے ، اور ان کے سامنے معذرت پیش کی : ” وہ پاکدامن اور باوقار ہیں ، ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جا سکتا ، اور وہ ایسی حالت میں صبح کرتی ہیں کہ غافل ( بھولی بھالی ) خواتین کے گوشت کے حوالے سے ان کا پیٹ خالی ہوتا ہے ( یعنی وہ غیبت نہیں کرتی ہیں ) وہ ان کی محبوب ہستی ہیں ، جو دین اور منصب کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں ، وہ ہدایت والے نبی ہیں ، جو عزت اور فضیلت ( کی ہر شان کے لائق ہیں ) وہ خاتون لؤی بن غالب کے قبیلے کی سمجھدار خاتون ہیں ، جن کی کوششیں معزز ہیں اور ان کی بزرگی زائل ہونے والی نہیں ہے ، وہ تہذیب یافتہ ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کی طبیعت کو پاکیزہ بنایا ہے اور ہر خرابی اور باطل سے انہیں پاک رکھا ہے ، میری طرف سے ( کوتاہی کی وجہ سے ) پہلے جو بات سامنے آئی تھی اگر میں اب بھی وہ کہوں تو میری پوریں ، میری لاٹھی ( صحیح لفظ ” سوطی “ یعنی لاٹھی ہے ) میری طرف بلند نہ کریں ، ویسے بھی جو کچھ کہا: گیا وہ آپ میں کبھی بھی نہیں ہو سکتا ، بلکہ وہ ایک ایسے فرد کا قول ہے ، جو ہولناکی کا شکار نہیں ہوتا ، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے ( کہ میں اس طرح کی بات کروں ) جبکہ میری محبت اور میری نصرت ، جب تک میں زندہ ہوں ، اللہ کے رسول کے اہل بیت کے لیے ہے ( وہ رسول ) جو محفلوں کی زینت ہیں ، انہیں لوگوں پر بلند مرتبہ حاصل ہے ان کی فضیلت ایسی ہے کہ بلند و بالا چھلانگ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی ۔ “ ابواویس بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے والوں کے بارے میں حکم دیا تو ان سب کو اسّی اسّی کوڑے حد کے طور پر لگائے گئے جب حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو کوڑے لگائے گئے ، تو انہوں نے یہ اشعار کہے : ” عبداللہ ، حمنہ اور مسطح نے جب بری بات کہی تو انہوں نے اس ( سزا ) کا ذائقہ چکھ لیا جس کے وہ اہل تھے ، انہوں نے لاعلمی کے باوجود اپنے نبی کی اہلیہ ( پر الزام عائد کیا ) اور کریم عرش کے پروردگار کی ناراضگی مول لینے کے درپے ہوئے ، تو انہیں دور کر دیا گیا ، اس طرح انہوں نے اللہ کے رسول کو اذیت پہنچائی اور یوں اپنی رسوائی کا سامان کر کے ذلت کا شکار ہوئے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں واقعہ افک کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے وہ اس کے علاوہ ہے ، اور اس میں یہ سیاق بھی مذکور نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ اس کا کچھ حصہ اس کے برخلاف ہے جو صحیح میں مذکور ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15298
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (111/23)»
حدیث نمبر: 15299
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا سَافَرَ سَافَرَ بِبَعْضِ نِسَائِهِ ، وَيَقْسِمُ بَيْنَهُنَّ ، فَسَافَرَ بِعَائِشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - وَكَانَ لَهَا هَوْدَجٌ ، وَكَانَ الْهَوْدَجُ يَحْمِلُونَهُ وَيَضَعُونَهُ ، فَعَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ ، وَخَرَجَتْ عَائِشَةُ لِلْحَاجَةِ فَتَبَاعَدَتْ ، فَلَمْ يَعْلَمْ بِهَا ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ قَدِ ارْتَحَلُوا ، وَجَاءَ الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْهَوْدَجَ ، فَحَمَلُوهُ وَلَا يَحْسَبُونَ إِلَّا أَنَّهَا فِيهِ ، فَسَارُوا ، وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ فَوَجَدَتْهُمْ قَدِ ارْتَحَلُوا ، فَجَلَسَتْ مَكَانَهَا فَاسْتَيْقَظَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ ، وَكَانَ لَا يَقَرَبُ النِّسَاءَ ، فَتَقَرَّبَ مِنْهَا ، وَكَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ لَهُ ، فَلَمَّا رَآهَا حَمَلَهَا وَقَدْ كَانَ يَرَاهَا قَبْلَ الْحِجَابِ ، وَجَعَلَ يَقُودُ بِهَا الْبَعِيرَ حَتَّى أَتَوُا النَّاسَ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ [عَائِشَةُ ، وَأَكْثَرُوا الْقَوْلَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَقَّ عَلَيْهِ حَتَّى اعْتَزَلَهَا ، وَاسْتَشَارَ فِيهَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَغَيْرَهُ]. فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْهَا ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُحْدِثَ لَكَ فِيهَا ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : النِّسَاءُ كَثِيرٌ ، فَحَمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهَا ، وَخَرَجَتْ عَائِشَةُ لَيْلَةً تَمْشِي فِي نِسَاءٍ ، فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَقَالَتْ : بِئْسَ مَا قُلْتِ ! تَقُولِينَ هَذَا لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَتْ : إِنَّكَ لَا تَدْرِينَ مَا يَقُولُونَ ، وَأَخْبَرَتْهَا الْخَبَرَ ، فَسَقَطَتْ عَائِشَةُ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا ، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ بَعْدَهَا فِي سُورَةِ النُّورِ : ( إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ ) حَتَّى بَلَغَ ( وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) ( وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ ) ، إِلَى قَوْلِهِ : ( وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) . وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُعْطِي مِسْطَحًا وَيَبِرُّهُ وَيَصِلُهُ ، وَكَانَ مِمَّنْ أَكْثَرَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَلَّا يُعْطِيَهُ شَيْئًا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : ( أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ) فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْتِيَهَا وَيُبَشِّرَهَا ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخْبَرَهَا بِعُذْرِهَا ، وَبِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ . فَقَالَتْ : لَا بِحَمْدِكَ ، وَلَا بِحَمْدِ صَاحِبِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تھے تو اپنے ساتھ اپنی کسی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے جاتے تھے ، آپ ان خواتین کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کو اپنے ساتھ سفر پر لے گئے ، ان کا ایک مخصوص ہودج تھا ، اس ہودج کو لوگ اٹھاتے تھے اور اسے اونٹ پر رکھ دیتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لئے نکلیں ، وہ دور چلی گئیں ، ان کے بارے میں پتہ نہیں تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو وہ لوگ روانہ ہو گئے ، وہ لوگ جو ہودج کو اٹھاتے تھے وہ آئے ، انہوں نے ہودج کو اٹھایا ، ان کا یہ خیال تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اندر ہی موجود ہوں گی ، جب وہ لوگ چلے گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آئیں انہوں نے لوگوں کو پایا کہ وہ روانہ ہو چکے ہیں ، تو وہ اسی جگہ پر بیٹھ گئیں ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام صفوان بن معطل تھا ، وہ بیدار ہوا ، وہ خواتین کے قریب نہیں جا سکتا تھا ، اس کے ساتھ اس کا اونٹ بھی تھا ، جب اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو انہیں اپنے اونٹ پر سوار کروایا ، وہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ چکا تھا ، وہ اپنا اونٹ لے کر چلتا ہوا لوگوں کے پاس اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں باتیں کرنا شروع کر دیں اور بہت زیادہ باتیں کیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ پر یہ بات گراں گزری ، یہاں تک کہ آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے لاتعلقی اختیار کی ، آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات سے مشورہ لیا تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں رہنے دیں ، اللہ تعالیٰ آپ کے سامنے اس کا کوئی حکم نازل کر دے گا ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کہا: خواتین بہت سی ہیں ، ایک رات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خواتین کے ساتھ چلتی ہوئی جا رہی تھیں ، تو اسی دوران ام مسطح کا پاؤں پھسلا ، تو انہوں نے کہا: مسطح برباد ہو جائے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے بری بات کہی ہے ، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں یہ بات کہہ رہی ہیں ، ام مسطح نے کہا: آپ نہیں جانتی لوگ کیا کہہ رہے ہیں ، پھر ام مسطح نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ساری صورت حال بتائی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بے ہوش ہو کے گر گئیں ، پھر اس کے بعد قرآن میں سورت نور میں یہ آیات نازل ہوئیں : ” بیشک وہ لوگ ، جو تم میں سے ایک گروہ نے جھوٹا الزام لگایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور ان میں سے جس نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے ۔ “ ( پھر آگے چل کر ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم میں سے فضیلت والے لوگ قسم نہ اٹھائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔ “ اس سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسطح کو رقم دیا کرتے تھے ، اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے ، صلہ رحمی کرتے تھے اور یہ وہ شخص تھا جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف زیادہ باتیں کی تھیں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ حلف اٹھایا کہ اب وہ اسے کچھ نہیں دیں گے ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” کیا تم لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کے انہیں خوشخبری سنائیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم نازل کیا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نہ تو آپ کی تعریف کروں گی اور نہ آپ کے آقا کی تعریف کروں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15299
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (123/23)»
حدیث نمبر: 15300
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ أَثْلَاثًا ، فَمَنْ أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ خَرَجَ بِهِنَّ مَعَهُ ، فَكُنَّ يَخْرُجْنَ يَسْقِينَ الْمَاءَ ، وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى ، فَلَمَّا غَزَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ أَقْرَعَ بَيْنَهُنَّ ، فَأَصَابَتِ الْقَرْعَةُ عَائِشَةَ ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ، فَخَرَجَ بِهِمَا مَعَهُ ، فَلَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَالَ رَحْلُ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَأَبْرَكُوا بَعِيرَهَا لِيُصْلِحُوا رَحْلَهَا . وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُرِيدُ قَضَاءَ حَاجَةٍ ، فَلَمَّا أَبْرَكُوا إِبِلَهُمْ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : إِلَى مَا يُصْلِحُوا رَحْلَ أُمِّ سَلَمَةَ أَقْضِي حَاجَتِي . ¤ قَالَتْ : فَنَزَلْتُ مِنَ الْهَوْدَجِ فَأَخَذْتُ مَا فِي السَّطْلِ ، وَلَمْ يَعْلَمُوا بِنُزُولِي ، فَأَتَيْتُ حَوْبَهُ ، فَانْقَطَعَتْ قِلَادَتِي ، فَاحْتَسَبْتُ فِي رَجْعِهَا وَنِظَامِهَا ، وَبَعَثَ الْقَوْمُ إِبِلَهُمْ وَمَضَوْا ، وَظَنُّوا أَنِّي فِي الْهَوْدَجِ لَمْ أَنْزِلْ قَالَتْ عَائِشَةُ:وَلَمْ أَرَ أَحَدًا قَالَتْ : فَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى أَعْيَيْتُ ، فَقُدِّرَ فِي نَفْسِي أَنَّ الْقَوْمَ سَيَفْقِدُونِي وَيَرْجِعُونَ فِي طَلَبِي . ¤ قَالَتْ : فَنِمْتُ عَلَى بَعْضِ الطَّرِيقِ ، فَمَرَّ بِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ ، وَكَانَ رَفِيقَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجْعَلَهُ عَلَى السَّاقَةِ فَجَعَلَهُ ، فَكَانَ إِذَا رَحَلَ النَّاسُ قَامَ يُصَلِّي ، ثُمَّ اتَّبَعَهُمْ ، فَمَا سَقَطَ مِنْهُمْ مِنْ شَيْءٍ حَمَلَهُ حَتَّى يَأْتِيَ بِهِ أَصْحَابَهُ . ¤ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمَّا مَرَّ بِي ظَنَّ أَنِّي رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا نَئُومًا قُمْ ; فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ مَضَوْا . قَالَتْ : قُلْتُ : إِنِّي لَسْتُ رَجُلًا ، أَنَا عَائِشَةُ . فَقَالَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، ثُمَّ أَنَاخَ بَعِيرَهُ فَعَقَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ وَلَّى عَنِّي ، فَقَالَ : يَا أُمَّهْ ، قَوْمِي فَارْكَبِي ، فَإِذَا رَكِبْتِ فَآذِنِينِي . قَالَتْ : فَرَكِبْتُ ، فَجَاءَ حَتَّى حَلَّ الْعِقَالَ ، ثُمَّ بَعَثَ جَمَلَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِ الْجَمَلِ . ¤ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَمَا كَلَّمَهَا كَلَامًا حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ : فَجَرَ بِهَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، وَأَعَانَهُ عَلَى ذَلِكَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ ، وَحَمْنَةُ . وَشَاعَ ذَلِكَ فِي الْعَسْكَرِ ، وَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ فِي قَلْبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالُوا حَتَّى رَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَأَشَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ الْمُنَافِقُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الْمَدِينَةِ ، وَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَدَخَلَتْ ذَاتَ يَوْمٍ أُمُّ مِسْطَحٍ ، فَرَأَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْمَذْهَبَ ، فَحَمَلَتْ مَعِيَ السَّطْلَ وَفِيهِ مَاءٌ ، فَوَقَعَ السَّطْلُ مِنْهَا ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! تُتَعِّسِينَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ ، وَهُوَ ابْنُكِ ؟ ! فَقَالَتْ لَهَا أُمُّ مِسْطَحٍ : إِنَّكِ سَالَ بِكِ السَّيْلُ وَأَنْتِ لَا تَدْرِينَ ، فَأَخْبَرَتْهَا بِالْخَبَرِ . ¤ قَالَتْ : فَلَمَّا أَخْبَرَتْنِي أَخَذَتْنِي الْحُمَّى ، وَتَقَلَّصَ مَا كَانَ بِي ، وَلَمْ أُبْعِدِ الْمَذْهَبَ . ¤ قَالَتْ عَائِشَةُ : وَكُنْتُ أَرَى مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَفْوَةً وَلَمْ أَدِرْ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ [هِيَ] ، حَتَّى حَدَّثَتْنِي أُمُّ مِسْطَحٍ ، فَعَلِمْتُ أَنَّ جَفْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَا أَخْبَرَتْنِي أُمُّ مِسْطَحٍ . ¤ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَى أَهْلِي ؟ قَالَ : " اذْهَبِي " . فَخَرَجَتْ عَائِشَةُ حَتَّى أَتَتْ أَبَاهَا أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ : مَا لَكِ ؟ قَالَتْ : أَخْرَجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِهِ . قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ : أَخْرَجَكِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُؤْوِيكِ أَنَا ؟ وَاللَّهِ لَا أُؤْوِيكِ حَتَّى يَأْمُرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُؤْوِيَهَا . قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ مَا قِيلَ لَنَا هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَطُّ ، فَكَيْفَ وَقَدْ أَعَزَّنَا الْإِسْلَامُ ؟ فَبَكَتْ عَائِشَةُ وَأُمُّهَا أُمُّ رُومَانَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَبَكَى مَعَهُمْ أَهْلُ الدَّارِ . ¤ وَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ يَعْذُرُنِي مِمَّنْ يُؤْذِينِي ؟ " . فَقَامَ إِلَيْهِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَسَلَّ سَيْفَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا أُعِيذُكَ مِنْهُ ، إِنْ يَكُنْ مِنَ الْأَوْسِ أَتَيْتُكَ بِرَأْسِهِ ، وَإِنْ يَكُنْ مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا بِأَمْرِكَ فِيهِ . فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، فَقَالَ : كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ ، إِنَّمَا طَلَبْتَنَا بِذُحُولٍ كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ هَذَا : يَا لِلْأَوْسِ ، وَقَالَ هَذَا : يَا لِلْخَزْرَجِ . فَاضْطَرَبُوا بِالنِّعَالِ وَالْحِجَارَةِ ، وَتَلَاطَمُوا ، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، فَقَالَ : فَفِيمَ الْكَلَامُ ؟ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُنَا بِأَمْرِهِ ، فَنَفَذَ عَنْ رَغْمِ أَنْفِ مَنْ رَغِمَ ، وَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَصَعِدَ إِلَيْهِ أَبُو عُبَيْدَةَ فَاحْتَضَنَهُ . فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ أَوْمَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ جَمِيعًا ، ثُمَّ تَلَا عَلَيْهِمْ مَا نَزَلَ بِهِ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَنَزَلَ : ( وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي ) . إِلَى آخِرِ الْآيَاتِ ، فَصَاحَ النَّاسُ : رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَقَامَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، فَتَلَازَمُوا وَتَصَالَحُوُا . ¤ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمِنْبَرِ ، وَانْتَظَرَ الْوَحْيَ فِي عَائِشَةَ ، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ ، وَأُسَامَةَ ، وَبَرِيرَةَ ، وَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَشِيرَ فِي أَهْلِهِ لَمْ [يَعُدْ] عَلِيًّا وَأُسَامَةَ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ زِيدٍ ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ : " مَا تَقُولُ فِي عَائِشَةَ فَقَدْ أَهَمَّنِي مَا قَالَ النَّاسُ فِيهَا ؟ " . فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ نَالَ النَّاسُ ، وَقَدْ أُحِلَّ لَكَ طَلَاقُهَا . وَقَالَ لِأُسَامَةَ : " مَا تَقُولُ أَنْتَ بِهَا ؟ " . قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! مَا يَحِلُّ لَنَا أَنَّ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا ، سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ ، فَقَالَ لِبَرِيرَةَ : " مَا تَقُولِينَ يَا بَرِيرَةُ ؟ " . قَالَتْ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاعَلِمْتُ عَلَى أَهْلِكَ إِلَّا خَيْرًا ، إِلَّا أَنَّهَا امْرَأَةٌ نَئُومٌ ، تَنَامُ حَتَّى تَجِيءَ الدَّاجِنُ فَتَأْكُلَ عَجِينَهَا ، وَإِنْ كَانَ شَيْءٌ مِنْ هَذَا حَتَّى لَيُخْبِرَنَّكَ اللَّهُ . ¤ فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَى مَنْزِلَ أَبِي بَكْرٍ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهَا : " يَا عَائِشَةُ ، إِنْ كُنْتِ فَعَلْتِ هَذَا الْأَمْرَ فَقُولِي حَتَّى أَسْتَغْفِرَ اللَّهَ لَكِ " . فَقَالَتْ : وَاللَّهِ لَا أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ مِنْهُ أَبَدًا ، إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُهُ فَلَا غَفَرَهُ اللَّهُ لِي ، وَمَا أَجِدُ مَثَلِي وَمَثَلَكُمْ إِلَّا مِثْلَ أَبِي يُوسُفَ - وَذَهَبَ اسْمُ يَعْقُوبَ مِنَ الْأَسَفِ - : ( إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ) ¤ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكَلِّمُنَا إِذْ نَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِالْوَحْيِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَعْشَةٌ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَائِشَةَ : قُومِي فَاحْتَضِنِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ لَا أَدْنُو مِنْهُ . فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَاحْتَضَنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسُرِّيَ عَنْهُ وَهُوَ يَبْتَسِمُ ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَكِ " . فَقَالَتْ : بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ . فَتَلَا عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُورَةَ النُّورِ إِلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي انْتَهَى إِلَيْهِ خَبَرُهَا وَعَذَرُهَا وَبَرَاءَتُهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَوْمِي إِلَى الْبَيْتِ " . فَقَامَتْ ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَجَمَعَ النَّاسَ ، ثُمَّ تَلَا عَلَيْهِمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنَ الْبَرَاءَةِ لِعَائِشَةَ ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعَثَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ الْمُنَافِقِ ، فَجِيءَ بِهِ فَضَرَبَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّيْنِ ، وَبَعَثَ إِلَى حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَمِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ ، وَحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ، فَضُرِبُوا ضَرْبًا وَجِيعًا وَوُجِئَ فِي رِقَابِهِمْ . ¤ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنَّمَا ضَرَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّيْنِ ; لِأَنَّهُ مَنْ قَذَفَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَيْهِ حَدَّانِ . فَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ ، فَقَالَ : أَخْبِرْنِي عَنْكَ وَأَنْتَ ابْنُ خَالَتِي ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا قُلْتَ فِي عَائِشَةَ ؟ أَمَّا حَسَّانُ فَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَيْسَ مِنْ قَوْمِي ، وَأَمَّا حَمْنَةُ فَامْرَأَةٌ ضَعِيفَةٌ لَا عَقْلَ لَهَا ، وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ فَمُنَافِقٌ ، وَأَنْتَ فِي عِيَالِي مُنْذُ مَاتَ أَبُوكَ وَأَنْتَ ابْنُ أَرْبَعِ حِجَجٍ ، وَأَنَا أُنْفِقُ عَلَيْكَ وَأَكْسُوكَ حَتَّى بَلَغْتَ ، مَا قَطَعْتُ عَنْكَ نَفَقَةً إِلَى يَوْمِي هَذَا ، وَاللَّهِ إِنَّكَ لَرَجُلٌ لَا وَصَلْتُكَ بِدَرَاهِمَ أَبَدًا ، وَلَا عَطَفْتُ عَلَيْكَ بِخَيْرٍ أَبَدًا ، ثُمَّ طَرَدَهُ أَبُو بَكْرٍ وَأَخْرَجَهُ مِنْ مَنْزِلِهِ ، فَنَزَلَ الْقُرْآنُ : ( وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ ) . الْآيَةَ ، فَلَمَّا قَالَ : ( أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ) بَكَى أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : أَمَّا قَدْ نَزَلَ الْقُرْآنُ [ بِأَمْرِي ] فِيكَ ; لَأُضَاعِفَنَّ لَكَ النَّفَقَةَ ، وَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ ، فَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَغْفِرَ لَكَ ، وَكَانَتِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ مُنَافِقَةٌ مَعَهُ ، فَنَزَلَ الْقُرْآنُ : (الْخَبِيثَاتُ) ، يَعْنِي امْرَأَةَ عَبْدِ اللَّهِ . (لِلْخَبِيثَيْنِ) يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ . وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ؛ عَبْدُ اللَّهِ لِامْرَأَتِهِ . وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ ، يَعْنِي عَائِشَةَ وَأَزْوَاجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [(وَالطَّيِّبُونَ) يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (لِلطَّيِّبَاتِ) يَعْنِي لِعَائِشَةَ وَأَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُولَئِكَ مُبَرَّءُونَ . إِلَى آخَرِ الْآيَاتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کا ارادہ کرتے تھے تو آپ اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے ، جس کے نام کا قرعہ نکل آتا تھا ، آپ اسے ساتھ لے جاتے تھے ، وہ خواتین ساتھ جاتی تھیں ، وہ پانی پلایا کرتی تھیں ، زخمیوں کو دوا دیا کرتی تھیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بنو مصطلق میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے تو آپ نے اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے نام کا قرعہ نکلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں خواتین کو اپنے ساتھ لے گئے ، راستے میں کسی جگہ پر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا پالان ٹیڑھا ہو گیا تو لوگوں نے ان کا اونٹ بٹھایا تاکہ ان کا پالان درست کر دیں ، اسی دوران سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لئے جانے لگیں ، جب لوگوں نے اپنے اونٹ بٹھا دیے تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے دل میں سوچا کہ جب تک یہ لوگ اُمّ سلمہ کا پالان ٹھیک کرتے ہیں میں اتنی دیر میں قضائے حاجت کر آتی ہوں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں ہودج سے نیچے اتری ، میں نے برتن میں پانی لیا ، لوگوں کو میرے اترنے کا پتہ نہیں چلا ، میں کھلی جگہ پر چلی گئی ، اسی دوران میرا ہار گر گیا تو میں اس کو ڈھونڈنے اور اس کے موتی ڈھونڈنے میں رک گئی ، اسی دوران لوگوں نے اپنے اونٹوں کو پھر کھڑا کیا اور وہ روانہ ہو گئے ، ان کا یہ خیال تھا کہ میں ہودج میں ہی موجود ہوں گی ۔ میں اتری ہی نہیں ہو گی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ان لوگوں کے پیچھے جانے کی کوشش کی ، جب میں تھک گئی تو پھر میں نے سوچا کہ جب وہ لوگ مجھے غیر موجود پائیں گے تو میری تلاش میں واپس آ جائیں گے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : راستے میں کسی جگہ پر میں سو گئی ، سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے ، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی ہوئی تھی کہ وہ پیچھے پیچھے آئیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اجازت دی تھی ، جب لوگ روانہ ہوئے تو وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے ، پھر وہ ان کے پیچھے پیچھے گئے تاکہ اگر کسی کی کوئی چیز گری ہوئی ہو تو وہ اسے لے کے اس کے مالک تک پہنچا دے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب وہ میرے پاس سے گزرے تو انہوں نے یہ سمجھا کہ شاید میں کوئی مرد ہوں ، انہوں نے کہا: اے سوئے ہوئے شخص ! تم بیدار ہو جاؤ ، لوگ جا چکے ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا: میں مرد نہیں ہوں ، میں عائشہ ہوں ، تو انہوں نے کہا: انا للہ وانا اليه راجعون ، انہوں نے اپنا اونٹ بٹھایا اور مجھے چھوڑ کر مڑ گئے ، پھر انہوں نے کہا: اے امی جان ! آپ اٹھ کر سوار ہو جائیں ، جب آپ سوار ہو جائیں تو آپ مجھے بتا دیجئے گا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں سوار ہوئی ، پھر وہ آئے اور انہوں نے رسی کو کھولا پھر انہوں نے اپنے اونٹ کو کھڑا کیا اور اونٹ کی لگام کو پکڑ لیا ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کوئی بات نہیں کی ، یہاں تک کہ وہ انہیں ساتھ لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، تو عبداللہ بن ابی بن سلول نے کہا: اس شخص نے اس عورت کے ساتھ غلط کام کیا ہے ، رب کعبہ کی قسم اس بارے میں حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ اور حمنہ نامی خاتون نے عبداللہ بن ابی کا ساتھ دیا اور یہ بات لشکر میں پھیل گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی کہی ہوئی بات کی وجہ سے افسوس ہوا ، یہاں تک کہ یہ لوگ مدینہ منورہ آ گئے ، عبداللہ بن ابی بن سلول منافق نے یہ بات مدینہ میں پھیلا دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات گراں گزری ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن میں ام مسطح کے ہاں گئی ، اس نے مجھے دیکھا ، میرا ارادہ قضائے حاجت کے لئے جانے کا تھا ، میں اپنے ساتھ پانی کا برتن اٹھا کے لے گئی تھی ، جس میں پانی موجود تھا ، ان سے وہ پانی گر گیا تو انہوں نے کہا: مسطح برباد ہو جائے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: سبحان اللہ ! آپ اصحاب بدر سے تعلق رکھنے والے کو بربادی کا کہہ رہی ہیں جبکہ وہ آپ کا بیٹا بھی ہے ، تو ام مسطح نے کہا: اس نے آپ کے بارے میں ایک بات پھیلا دی ہے ، آپ کو پتہ ہی نہیں ہے ؟ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس خاتون نے پوری صورت حال کے بارے میں بتایا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب اس نے مجھے اس بارے میں بتایا تو مجھے بخار آ گیا اور مجھے جو کیفیت محسوس ہو رہی تھی وہ ختم ہو گئی اور میں قضائے حاجت کے لئے نہیں گئی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج میں تبدیلی دیکھ تو رہی تھی لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ کس وجہ سے ہے ؟ یہاں تک کہ ام مسطح نے مجھے بتایا تو مجھے پتہ چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کی تبدیلی اسی وجہ سے ہے جو ام مسطح نے مجھے بتایا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس چلی جاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چلی جاؤ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا بات ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے گھر سے نکلنے کے لئے کہا: ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اللہ کے رسول نے تمہیں نکال دیا ہے ، اور میں تمہیں پناہ دوں گا ، اللہ کی قسم ! میں تمہیں اس وقت تک پناہ نہیں دوں گا جب تک اللہ کے رسول تمہیں اجازت نہیں دے دیتے ، تو اللہ کے رسول نے انہیں اجازت دی کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رہنے دیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم ! یہ بات زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی ہمارے بارے میں نہیں کہی گئی تھی ، تو اب کیسے کہہ دی گئی ، جب ہمیں اسلام کے حوالے سے عزت بھی حاصل ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی والدہ سیده ام رومان رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ موجود گھر کے تمام افراد رونے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ منبر پر چڑھے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! کون شخص مجھے اس شخص سے بدلہ دلوائے گا جس نے مجھے اذیت پہنچائی ہے ، تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنی تلوار میان سے نکالی اور بولے : یا رسول اللہ ! میں آپ کو اس سے بدلہ دلواؤں گا ، اگر وہ اوس قبیلے سے تعلق رکھنے والا فرد ہوا تو میں اس کا سر آپ کے پاس لے آؤں گا اور اگر وہ خزرج قبیلے سے تعلق رکھنے والا فرد ہو تو آپ ہمیں حکم دیں ، تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! تم غلط کہہ رہے ہو ، تم اسے قتل نہیں کر سکتے ، تم یہ مطالبہ اس لئے کر رہے ہو کہ زمانہ جاہلیت میں ہمارے اور تمہارے درمیان جو دشمنی تھی ، یہ اس کی وجہ ہے ، تو ایک صاحب نے کہا: اے اوس قبیلے کے لوگو ! دوسرے نے کہا: اے خزرج قبیلے کے لوگو ! تو وہ لوگ جوتے اور پتھر پکڑ کے ایک دوسرے سے لڑنے کے لئے تیار ہو گئے ، تو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: کس بارے میں بات چیت ہو رہی ہے ، یہ اللہ کے رسول موجود ہیں ، یہ ہمیں جو حکم دیں گے اسی کے مطابق عمل ہو گا ، خواہ اس شخص کو کتنا ہی برا لگے ، اسی دوران سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود تھے ، سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لگا لیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب لوگوں کو اشارہ کیا ، پھر آپ نے ان کے سامنے وہ آیت تلاوت کی جو سیدنا جبرائیل علیہ السلام لے کے نازل ہوئے تھے یہ حکم نازل ہوا تھا : ” اگر مومنین سے تعلق رکھنے والے دو گروہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی کریں تو ان کے درمیان صلح کروا دو اور اگر ان میں سے کسی ایک نے دوسرے کے خلاف زیادتی کی ہو تو تم اس شخص کے ساتھ لڑائی کرو جس نے زیادتی کی ہے ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ، تو لوگوں نے بلند آواز میں عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم راضی ہو گئے ہیں ، اس چیز کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کیا ہے ، تو وہ لوگ اٹھ کے ایک دوسرے کے پاس آئے ، ایک دوسرے سے گلے ملے اور آپس میں صلح کر لی ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے ، آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں وحی کے منتظر تھے ، آپ نے سیدنا على رضی اللہ عنہ ، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اور بریرہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور اپنی اہلیہ کے بارے میں ان سے مشورہ لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی سے مشورہ نہیں لیا تھا اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مشورہ اس وقت لیا تھا جب ان کے والد کا انتقال ہو چکا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : عائشہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ لوگ اس کے بارے میں جو کہہ رہے ہیں اس نے مجھے پریشان کر دیا ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ زیادتی کر رہے ہیں ، تاہم آپ کے لئے انہیں طلاق دینا حلال قرار دیا گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، ہمارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ ہم اس بارے میں کوئی بات چیت کریں ، اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، یہ بہت بڑا الزام ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے کہا: تم کیا کہتی ہو ؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! مجھے آپ کی اہلیہ کے بارے میں صرف بھلائی کا علم ہے ، البتہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسی خاتون ہیں جو سو جاتی ہیں اور پھر بکری آتی ہے ، گوندھا ہوا آٹا کھا جاتی ہے ، اگر اس طرح کی کوئی منفی صورت حال ہوئی تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس بارے میں بتا دے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکلے اور آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں تشریف لائے ، آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے عائشہ ! اگر تم نے اس کام کا ارتکاب کیا ہے ، تو تم بیان کر دو تاکہ میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کروں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر میں نے یہ کام کیا ہوا ہوتا تو میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب نہ کرتی اور اللہ تعالیٰ میری مغفرت نہ کرتا ، مجھے اپنے لئے اور آپ لوگوں کے لئے صرف وہ مثال یاد آ رہی ہے جو سیدنا یوسف علیہ السلام کے والد نے کہی تھی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پریشانی کی شدت کی وجہ سے مجھے سیدنا یعقوب علیہ السلام کا نام یاد نہیں آیا ( انہوں نے یہ کہا: تھا : ) ” میں اپنی پریشانی اور غم کی شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ اس بارے میں بات چیت کر رہے تھے کہ اسی دوران سیدنا جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے نزول کی مخصوص کیفیت طاری ہوئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لگا لو ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی نہیں ، اللہ کی قسم ! میں ان کے قریب نہیں جاؤں گی ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لگا لیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ مسکرا رہے تھے ، آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے عذر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتی ہوں ، آپ کی تعریف نہیں کرتی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورت نور کی آیات وہاں تک تلاوت کیں جہاں تک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ ، ان کے عذر اور ان کی برأت کے بارے میں حکم ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھو اور گھر جاؤ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اٹھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تشریف لے گئے ، آپ نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے لوگوں کو جمع کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے سامنے وہ آیات تلاوت کیں جو اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کے بارے میں نازل کی تھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے ، آپ نے عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کو پیغام بھیجا ، اسے لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو حدیں لگائیں ، پھر آپ نے حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کو بلوایا اور انہیں بھی ضربیں لگوائیں ، جو تکلیف دہ تھیں اور ان کی گردنوں میں ضرب لگوائی گئی تھی ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیں اس لئے لگوائی تھیں کہ جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر الزام لگائے گا اس پر دو حدیں جاری ہوں گی ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسطح بن اثاثہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : تم مجھے اپنے بارے میں بتاؤ ، تم میرے خالہ زاد ہو ، تم نے عائشہ کے بارے میں جو کہا: ، تو ایسا کیوں کیا ، جہاں تک حسان کا تعلق تھا ، تو وہ انصار سے تعلق رکھنے والا فرد ہے ، وہ ہماری قوم کا نہیں ہے ، جہاں تک حمنہ کا تعلق ہے ، تو وہ ضعیف عورت ہے ، جس میں عقل نہیں ہے ، جہاں تک عبداللہ بن ابی کا تعلق ہے ، تو وہ منافق ہے ، لیکن تم تو میرے عیال میں سے ہو ، میں تم پر خرچ کرتا ہوں ، جب سے تمہارا باپ مرا ہے اس کے بعد سے میں تم پر خرچ کر رہا ہوں ۔ اس وقت تمہاری عمر چار سال تھی ، میں تم پر خرچ کرتا ہوں ، تمہیں لباس فراہم کرتا ہوں ، یہاں تک کہ اب تم اتنے ہو چکے ہو کہ اب تم پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن پھر بھی آج تک میں تم خرچ کرتا آ رہا ہوں ، اللہ کی قسم ! تم ایک ایسے شخص ہو کہ میں نے ہمیشہ درہموں کے ذریعے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے اور ہمیشہ تمہارے ساتھ مہربانی سے پیش آیا ہوں ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں پرے کر دیا اور انہیں اپنے گھر سے نکال دیا ، تو قرآن کا یہ حکم نازل ہوا : ” تم میں سے فضیلت اور گنجائش رکھنے والے لوگ یہ قسم نہ اٹھائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی : ” کیا تم یہ بات پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ۔ “ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے کہا: اب جب میرے بارے میں قرآن نازل ہو گیا ہے جو میں نے تمہیں کہا: تھا ، تو اب میں تم پر دگنا خرچ کروں گا اور میں نے تمہیں معاف کیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہیں معاف کر دوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن ابی کی بیوی بھی ایک منافق عورت تھی اور اپنے شوہر کے ساتھ تھی ، تو قرآن کا یہ حکم نازل ہوا : ” خبیث عورتیں “ اس سے مراد عبداللہ بن ابی کی بیوی ہے ۔ ” خبیث مردوں کے لئے ہیں ۔ “ اس سے مراد یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی کے لئے ہے ۔ ” اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ہیں ۔ “ یعنی عبداللہ بن ابی ، اپنی بیوی کے لئے ہے ۔ ” اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں “ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ۔ ” اور پاکیزہ مرد ۔ “ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ” پاکیزہ عورتوں کے لئے ۔ “ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر ازواج کے لئے ہیں ۔ ” وہ لوگ اس چیز سے لاتعلق ہیں ۔ “ یہ آیات کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن عبیداللہ تیمی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15300
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (124/23)»
حدیث نمبر: 15301
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا رُمِيتُ بِمَا رُمِيتُ بِهِ أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَ نَفْسِي فِي قَلِيبٍ . رَوَاهُ [الْبَزَّارُ] الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب مجھ پر وہ الزام لگا ، تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اپنے آپ کو کسی گڑھے میں گرا دوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15301
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2664) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (586)»
حدیث نمبر: 15302
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ لَمَّا نَزَلَ عُذْرُهَا قَبَّلَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهَا ، فَقَالَتْ : أَلَا عَذَرْتَنِي ؟ فَقَالَ : أَيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي ، وَأَيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي إِنْ قُلْتُ مَا لَا أَعْلَمُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب ان کے عذر کا حکم نازل ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے سر کو بوسہ دیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بے گناہ قرار دیا ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا اور کون سی زمین میرا بوجھ اٹھائے گی ؟ اگر میں وہ کہوں جس کے بارے میں مجھے علم ہی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15302
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2665)»
حدیث نمبر: 15303
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ : افْتَخَرْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ وَزَيْنَبُ ، فَقَالَتْ زَيْنَبُ : أَنَا الَّتِي زَوَّجَنِي اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ . وَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَنَا الَّتِي نَزَلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ حِينَ حَمَلَنِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ ، فَقَالَتْ لَهَا زَيْنَبُ : أَيُّ شَيْءٍ قُلْتِ حِينَ رَكِبْتِ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ . قَالَتْ : قُلْتِ كَلِمَةَ الْمُؤْمِنِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ عِرْفَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کیا ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: میں وہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے میری شادی کروائی ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں وہ ہوں کہ میرے بے گناہ ہونے کا حکم نازل ہوا ، جب صفوان بن معطل مجھے سوار کرا کے لائے تھے ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان سے دریافت کیا : جب آپ سوار ہوئی تھیں تو آپ نے کیا جملہ پڑھا تھا ؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ پڑھا تھا : میرے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے وہ جملہ پڑھا تھا ، جو اہل ایمان کا کلمہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عرفان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15303
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15304
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ : افْتَخَرَتْ عَائِشَةُ وَزَيْنَبُ ، فَقَالَتْ زَيْنَبُ : أَنَا الَّتِي زَوَّجَنِي اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَنَا الَّتِي نَزَلَ عُذْرِي حِينَ حَمَلَنِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ ، فَقَالَتْ لَهَا زَيْنَبُ : أَيُّ شَيْءٍ قُلْتِ حِينَ رَكِبْتِ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ . قَالَتْ : قُلْتِ كَلِمَةَ الْمُؤْمِنِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ عِرْفَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن جحش بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کیا ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ کہا: کہ میں وہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے میری شادی کروائی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں وہ ہوں کہ میرے بے گناہ ہونے کا حکم نازل ہوا ، جب صفوان بن معطل نے مجھے سواری پر سوار کروایا تھا ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان سے دریافت کیا : جب آپ سوار ہوئی تھیں تو آپ نے کیا پڑھا تھا ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے یہ پڑھا تھا ” میرے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے “ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے اہل ایمان کا کلمہ پڑھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عرفان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15304
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (44/24)»
حدیث نمبر: 15305
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ حَدَّ اللَّهُ الَّذِينَ شَتَمُوا عَائِشَةَ ثَمَانِينَ ثَمَانِينَ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ ، فَيَسْتَوْهِبُ رَبِّي الْمُهَاجِرِينَ مِنْهُمْ ، فَأَسْتَأْمِرُكِ يَا عَائِشَةُ " . فَسَمِعَتْ عَائِشَةُ الْكَلَامَ فَبَكَتْ وَهِيَ فِي الْبَيْتِ ، وَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا ، لَسُرُورُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سُرُورِي ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَاحِكًا ، وَقَالَ : " ابْنَةُ أَبِيهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ طُرُقٌ. ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب قیامت کا دن ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کے سامنے عائشہ پر الزام لگانے والوں پر حد لگاتے ہوئے اسّی اسّی کوڑے لگوائے گا ، ان میں سے جو مہاجرین ہیں ان کے حوالے سے میرا پروردگار ہبہ کرنے کا کہے گا : اے عائشہ ! تو میں تم سے مرضی معلوم کروں گا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ بات سنی تو وہ رونے لگیں ، حالانکہ وہ گھر میں موجود تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ! آپ کا خوش ہونا میرے نزدیک اپنی خوشی سے زیادہ پسندیدہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے ہوئے مسکرا دیے اور فرمایا : یہ اپنے باپ کی بیٹی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہارون ابوعلقمہ فروی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15305
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (163/23)»